مریم نواز نے ن لیگ، پی پی پی کو نئے امتحان میں ڈال دیا؟

نااہل حکومت کے ساتھ میثاق معیشت مذاق معیشت ہوگا، نواز شریف بھی اس تجویز کے مخالف ہیں: مریم نواز۔

حکومتی مجرمانہ نااہلی پر اپوزیشن جماعتوں کا تعاون وزیر اعظم کو این آر او دینے کے مترادف ہوگا، مریم نواز (اے ایف پی)

پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے ہفتے کو پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی حکومت کے ساتھ میثاق معیشت کے خیال کو رد کر دیا ہے۔

مریم نواز نے اپنے والد اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کی خرابیِ صحت سے متعلق پریس کانفرنس کے دوران ایک سوال کے جواب میں کہا ’اس وقت نااہل حکومت کے ساتھ میثاق معیشت مذاق معیشت ہوگا کیونکہ معاشی مشکلات میں گھری حکومت کے ساتھ معیشت سے متعلق کوئی بھی تعاون حکومتی نااہلیوں پر اپوزیشن جماعتوں پر بھی ذمہ داری کی مہر ہوگا‘۔

’حکومت نے عوام کا جینا مشکل کر دیا ہے اور یہ پچھلے 10 ماہ میں پانچ ہزار ارب روپے کا قرضہ لے چکی ہے، حکومتی مجرمانہ نااہلی پر اپوزیشن جماعتوں کا تعاون وزیر اعظم کو این آر او دینے کے مترادف ہوگا۔‘

انہوں نے دعوی کیا کہ نواز شریف بھی اس تجویز کے مخالف ہیں۔ 

مریم نواز نے ماضی میں لیے گئے قرضوں کی تحقیقات کے لیے بنایا گیا حکومتی کمیشن مسترد کرتے ہوئے الزام لگایا کہ حکمران جماعت اپوزیشن قیادت کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنا رہی ہے، لہذا اس حکومت سے بات نہیں ہوسکتی۔

’شہباز شریف اپنی سیاسی بصیرت کے مطابق اپوزیشن لیڈر کا کردار ادا کر رہے ہیں لیکن حتمی فیصلہ نواز شریف کا ہو گا۔‘

میثاق معیشت کی سیاست

مریم نواز کی پریس کانفرنس سے پہلے قومی اسمبلی میں بجٹ اجلاس کے دوران میثاق معیشت کی بازگشت سنائی دی تھی۔

سب سے پہلے سابق صدر آصف علی زرداری نے خطاب کے دوران سپیکر قومی اسمبلی کو مخاطب کرتے ہوئے ملکی معاشی صورتحال کی بہتری کے لیے حکومت کو میثاقِ معیشت کی پیش کش کی۔

اس کے بعد اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے بھی اس پیش کش کی تائید کی جبکہ حکومتی وزرا اور اراکین نے فوری طور پر اسے مبینہ کرپشن کیسوں میں گرفتار اپوزیشن قیادت کی جانب سے این آر او لینے کی درخواست قرار دیا۔

تاہم، سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے پیش کش کو مثبت قرار دے کر حکومتی اور اپوزیشن اراکین پر مشتمل مشترکہ پارلیمانی کمیٹی بنانے کی رائے دی۔

جب سپیکر اور بعض حکومتی اراکین نے اس تجویز کو سنجیدہ لیا تو پیپلز پارٹی نے اس تعاون کو مشروط کر دیا جبکہ مریم نواز نے مسترد کر دیا جس سے نئی بحث چھڑ گئی۔

حکمران اور اپوزیشن جماعتوں کا نیا موقف

مریم نواز کے میثاق معیشت کی تجویز مسترد کرنے پر ن لیگی رہنما رانا ثنا اللہ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ سیاسی نقطہ نظر مختلف ہونے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ قیادت میں اختلافات ہیں، بلکہ اختلاف رائے ہر سیاسی جماعت میں پایا جاتا ہے۔

’شہباز شریف ہوں، مریم نواز یا کوئی بھی پارٹی رہنما اپنی رائے الگ رکھ سکتا ہے لیکن حتمی فیصلہ پارٹی قائد نواز شریف کا ہوتا ہے جس پر عمل کرنا ہر رہنما پر لازم ہے۔‘

انہوں نے کہا حکومتی رویہ بالکل اس قابل نہیں کہ ان سے کسی قسم کا تعاون کیا جائے کیونکہ حکومتی ناتجربہ کار وزرا اور اراکین مفاہمت کو اپوزیشن کی کمزوری سمجھتے ہیں لیکن شہباز شریف اور زرداری نے ملکی معیشت تباہ ہونے اور عوامی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک تجویز دی، جس کا خیر مقدم کرنے کے بجائے اسے اپوزیشن کی کمزوری سمجھا جا رہا ہے۔

اس معاملے پر ن لیگ میں ہی اختلاف نہیں بلکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما بھی اس تجویز پر حکومتی رویے کو ناقابل برداشت قرار دیتے ہیں۔

اسی لیے سابق اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے آصف زرداری کی میثاق معیشت کی پیش کش پر حکومتی ردعمل دیکھتے ہوئے شرط رکھنے کا عندیہ دے دیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا اگر حکومت اپوزیشن سے معیشت کی بہتری کے لیےتعاون کی ضرورت محسوس کرتی ہے تو وزیر اعظم عمران خان خود اپوزیشن قیادت سے درخواست کریں، ورنہ اپوزیشن بھی اس معاملے میں تعاون نہیں کرے گی۔

انہوں نے کہا بعض حکومتی وزرا شاید سیاسی تاریخ سے ناواقف ہیں۔ ’پیپلز پارٹی کی قیادت احتساب کے نام پر ہمیشہ انتقام کا نشانہ بنی لیکن کسی طاقت سے ڈر کر اصولوں پر سمجھوتا کیا نہ ہی کبھی رعایت کی بھیک مانگی‘۔

’آصف زرداری کے لیے جیلیں نئی بات نہیں، ان کے مثبت رویے کو این آر او کا نام دینے والے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔‘

وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے آج ایک پریس کانفرنس میں مریم نواز کو جواب دیا کہ وہ میثاق معیشت کو مذاق قرار دے کر اپنے چچا شہبازشریف کا مذاق اڑا رہی ہیں۔

انہوں نے کہا اپوزیشن قیادت پر کرپشن کیس چل رہے ہیں اور وہ عدالتی احکامات پر سزائیں پا رہے ہیں۔’اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اپوزیشن کے تعاون کی پیش کش کے بعد انہیں چھوڑ دیا جائے گا تو وہ غلط فہمی میں ہے۔‘

فردوس عاشق اعوان نے مریم نواز کو ’راج کماری‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی ہی پارٹی پر خود کش حملہ کر دیا کیونکہ ن لیگ میں اس وقت قیادت حاصل کرنے کی جنگ چل رہی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق پیپلز پارٹی اور ن لیگ میں حکمت عملی کے تحت دو مختلف بیانیوں کی سیاست کی جا رہی ہے۔

آصف علی زرداری اور شہباز شریف پارلیمانی سیاست میں سرگرم ہیں جبکہ بلاول بھٹو زرداری اور مریم نواز عوامی امنگوں کے مطابق سخت بیانیے کے ذریعے کارکنوں کو حکومت مخالف تحریک کے لیے متحرک کر رہے ہیں، لہذا بیانات میں اختلاف کو پارٹیوں کے اندرونی سنجیدہ اختلافات اور توڑ پھوڑ کے طور پر نہیں سمجھا جا سکتا۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست