’35 سال کرکٹ کھیلنے والے‘ کھلاڑی کا اسلام آباد میں برگر کا سٹال

شہزاد خرم خان کے وہ ہاتھ جن میں ماضی میں گیند اور بلا ہوتا تھا آج وہ زنگر برگر، ونگز سمیت فاسٹ فوڈ کے مختلف آئٹم بنا کر اپنا گھر چلا رہے ہیں۔

شہزاد خرم خان 35 سال تک کرکٹ کے میدان میں موجود رہے لیکن اب گھر کا چولہا چلانے کے لیے اسلام آباد کے علاقے آبپارہ میں ایک فوڈ وین پر برگر بیچتے ہیں۔

شہزاد کا دعویٰ ہے کہ ان کا بنایا ہوا برگر مشہور عالمی برینڈ کے ایف سی کے برگر جیسا ہے۔

شہزاد نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’میں یہ نہیں کہتا کہ میرا بنایا ہوا برگر کے ایف سی کو بیٹ کرتا ہے لیکن یہ دعوے کے ساتھ کہتا ہوں کہ میرے بنائے ہوئے برگر کا ذائقہ کے ایف سی کے برابر ہے۔‘

شہزاد خرم خان کے وہ ہاتھ جن میں ماضی میں گیند اور بلا ہوتا تھا آج وہ زنگر برگر، ونگز سمیت فاسٹ فوڈ کے مختلف آئٹم بنا کر اپنا گھر چلا رہے ہیں۔

شہزاد کے لیے کرکٹ کو چھوڑ کر فاسٹ فوڈ کا کام کرنا آسان نہیں تھا تاہم کرونا وبا کے دوران جب بےروزگاری کے باعث ان کے گھر کا چولہا ٹھنڈا ہوگیا تو انہوں نے اپنے چند دوستوں کے تعاون سے فوڈ وین بنا کر سڑک کنارے کھڑے ہو گئے۔

شہزاد خرم نے کرکٹ کا آغاز اپنے آبائی علاقے شیخوپورہ سے کیا اور اس وقت کے نامور کرکٹر رانا نوید الحسن کے ساتھ کرکٹ کھیلی۔ انہیں عاقب جاوید کے ساتھ بھی کرکٹ کھیلنے کا موقع ملا۔

وہ 1992 میں اسلام آباد آئے اور یہاں سے نئے سرے سے کرکٹ کا آغاز کیا اور نامور کرکٹر عماد وسیم اور اشعر زیدی اور رحیم مجید کے ساتھ کرکٹ کھیلی۔

شہزاد خرم خان کے مطابق موجودہ حکومت نے کرکٹ کا 2014 کا آئین ختم کر دیا جس سے کئی سابق کرکٹرز بے روز گار ہو گئے۔

شہزاد نے بتایا: ’2014 کے آئین کے تحت 16 ریجن اور ڈیپارٹمنٹ تھے جو پاکستان کی نمائندگی کرتے تھے۔‘

شہزاد نے بتایا کہ پرانے نظام اور آئین کے تحت پاکستان کرکٹ کو کئی ہیروز ملے۔

ان کا کہنا تھا: ’مصباح، حفیظ، شعیب ملک، پی سی بی کے موجودہ چیئرمین رمیز راجہ اور عمران خان بھی اسی سسٹم کے تحت آئے تھے۔ تاہم اس کو ختم کر دیا گیا اور اس سے کئی کرکٹرز جو کھیل میں ایک جوش و جذبہ لے کر آئے تھے اور بہت سے خواب دیکھتے تھے ان کے سب خواب چکنا چور ہو گئے۔‘


بعض تکنیکی مسائل کی وجہ سے ہماری ویب سائٹ پر کچھ لفظ درست طریقے سے دکھائی نہیں دے رہے۔ ہم اس مسئلے کو جلد از جلد حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔  

ادارہ اس کے لیے آپ سے معذرت خواہ ہے۔ 
 

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان