آرمی چیف برطرفی سے متعلق خبر ’جھوٹ کا پلندہ‘: آئی ایس پی آر

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے بیان میں کہا گیا کہ بی بی سی کی ’اس عام پروپیگینڈا خبر میں کسی معتبر، مستند اور متعلقہ ذرائع کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔ یہ بنیادی صحافتی اخلاقیات کی خلاف ورزی ہے۔‘

پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ 23 مارچ 2019 کو اسلام آباد میں یوم پاکستان کی پریڈ میں شرکت کے لیے آتے ہوئے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی اردو پر شائع ہونے والی ایک خبر کو ’سراسر بے بنیاد‘ اور ’جھوٹ کا پلندہ‘ قرار دے دیا ہے، جس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو عہدے سے ہٹائے جانے کی منصوبہ بندی کا دعویٰ کیا گیا تھا۔

آئی ایس پی آر کی جانب سے اتوار کو جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا: ’بی بی سی اردو کی آج شائع ہونے والی خبر سراسر بے بنیاد اور جھوٹ کا پلندہ ہے۔‘

مزید کہا گیا: ’اس عام پروپیگینڈا خبر میں کسی معتبر، مستند اور متعلقہ ذرائع کا ذکر نہیں کیا گیا ہے اور یہ بنیادی صحافتی اخلاقیات کی خلاف ورزی ہے۔‘

آئی ایس پی آر کا مزید کہنا تھا کہ ’اس جعلی خبر میں کوئی حقیقت نہیں ہے اور یہ واضح طور پر ایک منظم ڈس انفارمیشن مہم کا حصہ لگتی ہے۔ یہ معاملہ بی بی سی حکام کے ساتھ اٹھایا جا رہا ہے۔‘

قومی اسمبلی میں گذشتہ روز سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ اور سیاسی ہلچل کے دوران اس حوالے سے رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ عمران خان نے مبینہ طور پر آرمی چیف کو برطرف کرنے کا فیصلہ کرلیا تھا اور اس حوالے سے نوٹیفکیشن بھی تیار کرلیا گیا تھا، تاہم وزارت دفاع کی جانب سے اسے جاری کرنے کی نوبت نہیں آئی۔

اس بابت اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک پٹیشن کی رات گئے سماعت کی بھی خبریں گردش میں تھیں۔

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ایک طرف پارلیمنٹ میں اجلاس جاری تھا اور دوسری جانب ایک ہیلی کاپٹر میں دو اعلیٰ عہدیدار وزیراعظم ہاؤس پہنچے، جہاں ان کی عمران خان سے ملاقات ہوئی، جو ’کچھ خوشگوار نہیں تھی۔‘

دوسری جانب رپورٹ کے مطابق اگر عمران خان یہ نوٹیفکیشن جاری کر بھی دیتے تو اسے کالعدم قرار دلوانے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا جاچکا تھا۔ 

رپورٹ کے سلسلے میں بی بی سی کی رائے جاننے کے لیے انڈپینڈنٹ اردو نے ان سے رابطہ کیا لیکن انہوں نے جواب دینے سے معذرت کی ہے۔

واضح رہے کہ قومی اسمبلی میں عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ میں تاخیرکے دوران مسلح افواج کے سربراہ کی تبدیلی سے متعلق خبریں آتی رہی تھیں، جن پر سابق وزیر اطلاعات و نشریات اور قانون فواد چوہدری نے ان کی تردید کردی تھی۔

فواد چوہدری نے لکھا تھا: ’حکومت کو آرمی چیف اور پاکستان کی افواج کی ادارہ جاتی تنظیم کا مکمل ادراک ہے۔ ایسی افواہیں کہ فوج کی قیادت میں تبدیلی کا سوچا بھی جا رہا ہے انتہائی لغو اور بے بنیاد ہیں اور ایک منصوبے کے تحت پھیلائی جا رہی ہیں۔ حکومت ان افواہوں کی مذمت کرتی ہے اور مکمل تردید کرتی ہے۔‘

فواد چوہدری نے آج بھی اپنے ٹوئٹر پیغام میں ’فیک نیوز‘ پھیلانے پر بی بی سی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان