پاکستان کی ’سب سے زیادہ دودھ دینے والی بھینس‘

’ہمیں بہت زیادہ اس کا ریٹ لگ چکا ہے، راولپنڈی کے ایک کرنل نے میرے بڑے بھائی کو فون کیا کہ انہیں یہ بھینس چاہیے، جب 2020 میں اس نے مقابلہ جیتا تھا۔ بڑے بھائی نے ان سے کہا تھا کہ کوئی اپنی بیٹیاں بھی فروخت کرتا ہے۔‘

پاکستان میں نیلی راوی نسل کی بھینسوں کا دودھ دینے کا قومی مقابلہ رواں سال فیصل آباد کے رہائشی رانا عبدالستار بودھی کی بھینس ’چن‘ نے جیتا ہے۔

اس بھینس  نے 36 گھنٹوں میں 49.348 لیٹر دودھ دے کر پہلی پوزیشن حاصل کی جبکہ دوسری پوزیشن حاصل کرنے والی بھینس بھی فیصل آباد کی تحصیل جڑانوالہ کے رہائشی نذیر احمد گجر کی تھی جس نے 47.120لیٹر دودھ دیا۔ جبکہ تیسری پوزیشن حاصل کرنے والی بھینس کے مالک عرفان علی گجر کا تعلق بھی فیصل آباد سے ہے جس نے 46.754لیٹر دودھ دیا۔

چن نام کی اس بھینس نے مارچ 2022میں ایک ہی  مہینےکے دوران  دودھ دینے کے تین قومی سطح کے  مقابلے جیت کر پاکستان کی تاریخ میں ایک منفرد ریکارڈ قائم کیا ہے۔

ان مقابلوں میں  ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن پاکستان ،بفلو ریسرچ انسٹی ٹیوٹ پتوکی اور حافظ عبداللہ دودھ میلہ سمندری   شامل ہیں۔

رانا عبدالستار بودھی کے بیٹے رانا علی عباس  نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کا خاندان گذشتہ چار نسلوں سے بھینسیں پالنے اور ان کی نسل کشی  کےکام  سے وابستہ ہے۔

’میرے دادا سے یہ کام میرے والد صاحب کو ملا اور اب میں اپنے بڑے بھائی فضل عباس کے ساتھ مل کر اسے چلا رہا ہوں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ 2010 میں  پہلی مرتبہ انہوں نے دودھ دینے کے مقابلوں میں حصہ لینا شروع کیا تھا اور پہلے دو، تین سال سیکھنے  میں ہی گزر گئے تھے۔

’2014 میں پہلی مرتبہ ہم نےزرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں ہونے والا  مقابلہ جیتا تھا۔ اسی طرح 2019 تک ہم مختلف  مقابلوں میں اول ، دوئم ، سوئم آتے رہے۔ اس کے بعد 2020 میں اس بھینس نے مقابلہ جیتا، پھر 2021 میں ہماری بھینس تھی سلطانی ، اس نے مقابلہ جیتا۔اب  2022 میں اس بھینس نے ایک مہینے میں ہی تین مقابلے جیت لیے ہیں۔‘

انہوں نے بتایا کہ بفلو ریسرچ انسٹی ٹیوٹ  پتوکی میں ہونے والے مقابلے کو پاکستان  میں سب سے اہم اور مستند مانا جاتا ہے جس کا انتظام لائیوسٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ آف پنجاب کی طرف سے کیا جاتا ہے۔

ان کا کہناتھا کہ  مقابلےمیں حصہ لینے کے لیے  بھینسوں کی تیاری میں تقریبا ایک سے ڈیڑھ ماہ لگ جاتا ہے جبکہ مقابلے کی جو تاریخ مقرر ہوتی ہے اس سے تقریبا 10 دن پہلے وہ پتوکی چلے جاتے ہیں تاکہ بھینس نئے ماحول کی عادی ہو جائے۔

علی عباس کے مطابق ’مقابلے کے لیے پانچ مرتبہ بھینس کا دودھ نکالا جاتا ہےیعنی 12 گھنٹے کے وقفے سے پانچ مرتبہ دودھ لیا جاتا ہے۔پہلی دو باریوں میں تو بھینس کا حیوانہ خالی کرنا ہوتا ہےاس دودھ کی مقدار مقابلے میں شامل نہیں ہوتی ہے۔ اس سے اگلے 36 گھنٹوں میں جو تین مرتبہ دودھ لیا جاتا ہے اس کی مقدار مقابلے میں شامل کی جا تی ہے اور جس کا دودھ زیادہ ہو جائے وہ مقابلہ جیت جاتا ہے۔‘

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ عام طور پر ایک بھینس روزانہ 14 سے 15  لیٹر دودھ دیتی ہے جبکہ اس  کی دیکھ بھال اور خوراک پر یومیہ 700 سے ایک ہزار روپے تک اخراجات آتے ہیں۔

مقابلے میں حصہ لینے والی بھینس کی تیاری اور خوراک کے اخراجات سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ ’اخراجات اس کے اتنے ہو جاتے ہیں جتنا یہ دودھ دیتی ہے، تقریبا برابر ہی رہتے ہیں۔ اس کی خوراک  میں مختلف قسم کے ونڈے ہوتے ہیں جو اکٹھے کر کے اسے دیئے جاتے ہیں۔چارہ اس کو اچھے سے اچھا اور صاف ستھرا دیا جاتا ہے اور اس کو صاف ستھری جگہ پر رکھا جاتا ہے، عام جانوروں سے اس کا خیال زیادہ رکھا جاتا ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ بہت سے لوگ ان سے یہ بھینس خریدنے کے لیے رابطہ کر چکے ہیں اور کئی لوگ تو ایسے ہیں جو انہیں منہ مانگی قیمت دینے کی بھی پیشکش کر چکے ہیں لیکن وہ مقابلوں میں حصہ لینے کے لیے تیار کی گئی اپنی کسی بھی بھینس کو فروخت کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

’ہمیں بہت زیادہ اس کا ریٹ لگ چکا ہے، راولپنڈی کے ایک کرنل نے میرے بڑے بھائی کو فون کیا کہ انہیں یہ بھینس چاہیے، جب 2020 میں اس نے مقابلہ جیتا تھا۔ بڑے بھائی نے ان سے کہا تھا کہ کوئی اپنی بیٹیاں بھی فروخت کرتا ہے۔‘

انڈیا اور پاکستان کی نیلی راوی نسل کی بھینسوں کے مابین فرق سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک میں بھینس کی نسل ایک ہی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’ان کے پاس بھی وہی دریا ہیں ، وہی جگہ ہےلیکن جو علاقہ ہماری طرف ہےاس کا مقابلہ وہ نہیں کر سکتے ہیں کیونکہ چیز کا خواہشمند وہی ہوتا ہے جس کے پاس وہ نہ ہو اور وہ ہم سے بھینسیں بھی لے جا چکے ہیں، بھینسے بھی لے جا چکے ہیں پاکستان سے۔ ہماری چیز ان سے بہتر ہے تو وہ لے کر گئے ہیں۔‘

علی عباس کے مطابق آج تک پاکستان کی جس بھینس نے ریکارڈ قائم کیا ہے وہ انڈیا سے توڑا نہیں جا سکا ہے۔

’اگر ان کی بھینس 30 کرتی ہے تو ہماری 33 کرتی ہے۔اگر ان کی 32 کرتی ہے تو ہماری ویسے ہی 34 کرتی ہے۔ ہمارے ہاں جو عام مقابلے ہوتے ہیں ان میں 34، 35 لیٹر دودھ پر ہار جیت ہوتی ہے۔جو دیہات یا ضلع کی سطح پر مقابلے ہوتے ہیں ان میں 32، 33 کلو دودھ  پر ہار جیت عام ہو رہی ہے۔ان کی ہار جیت ہوتی ہے31  کلو پر۔ ان کی ایک بھینس ہے سرسوتی، جس کا بڑا نام ہےاس نے 32 یا شاید پونے 33 کلو دودھ کیا ہے، باقی کسی نے نہیں کیا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اگر کرکٹ اور دیگر کھیلوں کی طرح پاکستان اور انڈیا مل کر  دودھ دینے کے مقابلوں کا انعقاد کریں تو اس سے دونوں طرف کے مویشی پال افراد کو فائدہ ہو گا اور نیلی راوی نسل کو دنیا بھر میں متعارف کروایا جا سکے گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا