روس کا امریکہ کو یوکرین کی فوجی امداد پر انتباہ

نئی امداد میں کچھ بھاری عسکری سازوسامان بھی شامل ہے جو واشنگٹن نے پہلے جوہری ہتھیاروں سے لیس روس کے ساتھ تنازع بڑھنے کے خدشے کے باعث کیئف کو فراہم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

24 اگست 2018 کی اس تصویر میں یوکرین کے دارالحکومت کیئف میں یوکرین فوج کو ٹینکوں کے ہمراہ پریڈ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے(اے ایف پی)

روس نے یوکرین کے لیے فوجی امداد پر امریکہ سے باضابطہ شکایت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر کیئف کو جدید ہتھیاروں کی رسد بھیجی گئی تو واشنگٹن کو ’غیر متوقع نتائج‘ کا سامنا کرنا پڑے گا۔

امریکی جریدے واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق رواں ہفتے ایک سفارتی مراسلے میں ماسکو نے امریکہ اور نیٹو کو روس کے ساتھ تنازع میں کیئف کے لیے ’انتہائی حساس‘ ہتھیاروں کی فراہمی پر خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی ترسیل صورتحال میں ’ایندھن‘ کا کردار ادا کر رہی ہے اور یہ کہ اس کے ’غیر متوقع نتائج‘ سامنے آ سکتے ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ انتباہ ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر جو بائیڈن نے اسی ہفتے یوکرین کے لیے 80 کروڑ ڈالر کے نئے فوجی امدادی پیکج کا وعدہ کیا تھا جس میں ہیلی کاپٹر، توپ خانہ اور بکتر بند گاڑیاں اور جنگی جہاز شامل ہیں۔

واشنگٹن پوسٹ نے بائیڈن انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار کے حوالے سے کہا کہ ’روسی ہمیں جو کچھ نجی طور پر بتا رہے ہیں وہ بالکل وہی ہے جو ہم دنیا کو کھل کر بتا رہے ہیں یعنی ہم یوکرین کے اپنے شراکت داروں کو جو امداد فراہم کر رہے ہیں وہ غیر معمولی طور پر موثر ثابت ہو رہی ہے۔‘

تاہم امریکی محکمہ خارجہ نے روس کے رسمی مراسلے کے حوالے سے رپورٹس پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔

محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ’ہم کسی نجی سفارتی خط و کتابت کی تصدیق نہیں کریں گے۔‘

ترجمان نے مزید کہا: ’ہم جس چیز کی تصدیق کر سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ ہم اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر یوکرین کو اربوں ڈالر مالیت کی سکیورٹی امداد فراہم کر رہے ہیں جسے ہمارے یوکرینی شراکت دار روس کی بلا اشتعال جارحیت اور تشدد کی ہولناک کارروائیوں کے خلاف اپنے ملک کے دفاع کے لیے استعمال کر رہے ہیں اور اس کا غیر معمولی اثر پڑ رہا ہے۔‘

نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکی حکام کو یہ مراسلہ عام چینلز کے ذریعے بھیجا گیا تھا اور اس پر کسی بھی سینیئر روسی عہدیدار کے دستخط نہیں تھے۔

ایک امریکی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر نشریاتی ادارے سی این این کو بتایا کہ رسمی خط و کتابت سے ظاہر ہوتا ہے کہ روس یوکرین کے لیے امریکہ کی جاری حمایت کے بارے میں فکر مند ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سی این این ہی کی رپورٹ کے مطابق دستاویز سے واقف ایک ذرائع  نے کہا کہ شکایت کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ ماسکو یوکرین پر حملے جاری رکھنے کے بعد امریکہ اور نیٹو کے خلاف مزید جارحانہ موقف اپنانے کی تیاری کر رہا ہے۔

ادھر صدر بائیڈن نے اپنے یوکرینی ہم منصب وولودی میر زیلنسکی کو فون پر ہتھیاروں کے نئے امدادی پیکج کے بارے میں بتایا کیونکہ روس نے اپنی حملوں کا رخ مشرقی یوکرین کی جانب موڑ دیا ہے جو کہ سات ہفتوں سے جاری جنگ کا نیا فرنٹ لائن بن چکا ہے۔

یاد رہے چند روز قبل صدر بائیڈن نے کہا تھا کہ ’جیسا کہ روس دونبیس کے علاقے میں اپنے حملے کو تیز کرنے کی تیاری کر رہا ہے امریکہ یوکرین کو اپنے دفاع کی صلاحیتیں بڑھانے میں مدد کرتا رہے گا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’امداد کے اس نئے پیکیج میں بہت سے انتہائی موثر ہتھیاروں کے نظام شامل ہوں گے جو ہم پہلے ہی فراہم کر چکے ہیں اور یہ روس کے مشرقی یوکرین میں بڑے پیمانے پر حملے کے خلاف موثر ثابت ہوں گے۔‘

یوکرین کے صدر زیلنسکی نے اپنی ٹویٹ میں بتایا کہ انہوں نے صدر بائیڈن کے ساتھ ’دفاعی اور ممکنہ میکرو فنانشل امداد کے اضافی پیکیج‘ پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

نئی امداد میں کچھ بھاری عسکری سازوسامان بھی شامل ہے جو واشنگٹن نے پہلے جوہری ہتھیاروں سے لیس روس کے ساتھ تنازع بڑھنے کے خدشے کے باعث کیئف کو فراہم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

یہ امداد یوکرین کی فوج کو پہلے سے فراہم کی جانے والی ہتھیاروں کے علاوہ ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا