ویمن ڈیموکریٹک فرنٹ کا اجتماع کیوں روکا گیا؟

ویمن ڈیموکریٹک فرنٹ کی جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق یہ پولیٹیکل سکول اس ماہ کے تیسرے ہفتے یوتھ ہوسٹل اسلام آباد میں منعقد کیا جانا تھا لیکن اجازت نہ ملی۔

ویمن ڈیمو کریٹک فرنٹ/ ٹوئٹر

گذشتہ ہفتے اسلام آباد میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ویمن ڈیموکریٹک فرنٹ کے منعقد کردہ پولیٹیکل سکول کے انعقاد کی اجازت دینے سے گریز کیا گیا نیز ان کا این او سی بھی مسترد کر دیا گیا۔ 

ویمن ڈیموکریٹک فرنٹ کی جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق یہ پولیٹیکل سکول اس ماہ کے تیسرے ہفتے یوتھ ہوسٹل، شہید ملت روڈ اسلام آباد میں منعقد کیا جانا تھا۔

پریس ریلیز میں ویمن ڈیموکریٹک فرنٹ کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمیں اس بات پر انتہائی افسوس ہے کہ ضلعی انتظامیہ نے ہمارے این او سی کو نقضِ امن کی بنیاد پر مسترد کیا۔ ویمن ڈیموکریٹک فرنٹ کو اس آئینی حق سے باز رکھا گیا کہ وہ اجتماعی طور پر اکٹھے ہوں بلکہ سیاسی اظہار رائے کے آئینی حق سے بھی محروم کر دیا گیا۔ افسوس کہ یہ بلاحواز کارروائی ملک کے دارالحکومت اسلام آباد میں انجام پذیر ہوئی۔ پاکستان میں جمہوری اقدار و قوتوں کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ جب ملک میں جمہوری حکومت قائم ہے اور عوام اپنے آئینی اختیارات استعمال نہ کر سکیں۔ ہمارا خیال ہے کہ ضلعی انتظامیہ کا یہ فیصلہ ملک کی ابھرتی خواتین دوست اور ان  کی مزاحمتی جدوجہد کی تنظیموں پر ایک کاری ضرب ہے۔ ہم ملک کی تمام فیمنسٹ تنظیموں سے اس کارروائی کی مذمت اور ویمن ڈیموکریٹک فرنٹ سے یکجہتی کا مطالبہ کرتے ہیں۔‘

پریس ریلیز میں مزید بتایا گیا کہ ’ان تمام مشکلات کے باوجود ویمن ڈیموکریٹک فرنٹ کی ملک بھر سے اسلام آباد آئی  کے قریب اراکین بشمول فرنٹ لائن رہنماؤں نے ایک متبادل مقام پر اپنا پولیٹیکل سکول پورے جوش خروش اور ولولے کے ساتھ منعقد کیا اور اس میں بھر پور شرکت کی نیز یہ پاکستان میں اپنی نوعیت کا یہ پہلا خواتین پر مشتمل پولیٹیکل سکول مانا جائے گا جہاں خواتین نے اپنے مقالے پیش کیے ان پر گفتگو ہوئی اور سیکھنے کا مکمل موقع ملا۔ مذکورہ پریس ریلیز کے مطابق ملک بھر سے جمع ہونے والی یہ خواتین اس سکول میں شامل ہونے کے لیے اپنا خرچہ خود اٹھا کر اسلام آباد پہنچیں نیز ویمن ڈیموکریٹک فرنٹ کی جانب سے ناقدانہ بنیادوں پر اس پولیٹیکل سکول کو ترتیب دیا گیا تھا۔‘

انڈپینڈنٹ اردو کی جانب سے رابطہ کرنے پر ویمن ڈیمو کریٹک فرنٹ کی صدر عصمت جہاں کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں منعقد ہونے والے دو روزہ پولیٹیکل سکول کی اسلام آباد انتظامیہ نے نقض امن کی بنیاد پر اجازت نہیں دی۔ عصمت جہاں نے کہا کہ انہوں نے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد سے ٹیلی فون پر بات کی تو اُن کو جواب ملا کہ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر اجازت نہیں دی جا سکتی اور اجازت کے لیے باضابطہ درخواست دینا ہو گی نیز اس سے پہلے ایسے کسی پروگرام کے لیے ہمیں اجازت نامے کی ضرورت نہیں پڑی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات کا کہنا تھا کہ اگر باضابطہ طریقہ کار کے تحت درخواست دی جاتی تو ضرور اجازت دے دی جاتی۔ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات کے مطابق ویمن ڈیموکریٹک فرنٹ کی جانب سے لگایا گیا یہ الزام بے بنیاد ہے کیونکہ ان کی طرف سے باضابطہ طریقہ کار کے تحت درخواست دی ہی نہیں گئی۔

انڈیپنڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے حمزہ شفقات نے این او سی کے حصول کے بارے بتایا کہ عام حالات میں این او سی لینے کے لیے 15 دن کا وقت درکار ہوتا ہے کیونکہ اسلام آباد میں دفعہ 144 نافذ ہے جس کی وجہ سے کسی بھی قسم کے اجتماع کے لیے تحریری درخواست دینا ضروری ہے۔

ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ ’تعلیمی اجتماع میں شرکت کے لیے اسلام آباد پہنچنے کے بعد ویمن ڈیمو کریٹک فرنٹ کی طوبیٰ سید نے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور کہا کہ ہم اسلام آباد پہنچ چکے ہیں آدھے گھنٹے بعد پروگرام شروع ہو گا آپ ہمیں این او سی دے دیں۔‘

ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ ’ویمن ڈیمو کریٹک فرنٹ کی جانب تعلیمی اجتماع کے لیے مختص کی گئی جگہ ریڈ زون کے قریب ہے اس لیے بھی اجازت نہیں مل سکتی تھی۔‘

اسی بارے میں جب ویمن ڈیموکریٹک فرنٹ کی صدر عصمت جہاں سے پوچھا گیا تو انھوں نے کہا: ’میں نہیں سمجھتی کہ تعلیمی مقصد کے لیے منعقد ہونے والے اجتماع کے لیے این او سی کی ضرورت ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین