عثمان بزدار کا استعفیٰ منظور کیا جاسکتا تھا؟: گورنر پنجاب کا سوال

گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ نے سابق وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی استعفے کی منظوری کے حوالے سے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو خط لکھ دیا ہے۔

سابق وزیر اعلیٰ عثمان بزدار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے (عثمان بزدار/ فیس بک)

گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ نے سابق وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی استعفے کی منظوری کے حوالے سے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو خط لکھ دیا ہے۔

انہوں نے عثمان بزدار کے بطور وزیر اعلیٰ استعفے کی منظوری پر اعتراض اٹھاتے ہوئے خط لکھا اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے استعفے کی قانونی حیثیت کے بارے میں دریافت کیا ہے۔

گورنر پنجاب نے اپنے خط میں پوچھا ہے کہ ’کہیں استعفے کی منظوری میں کوئی آئینی خلاف ورزی تو نہیں ہوئی؟‘

’مجھے اس استعفے کے معاملے میں قانونی رائے دی جائے، مسلم لیگ ن بھی عثمان بزدار کے مستعفی ہونے کے طریقہ کار پر اعتراض کر چکی ہے۔ انہوں نے بھی اعتراض کیا تھا کہ عثمان بزدار نے گورنر کی بجائے وزیراعظم کے نام استعفی لکھا ہے۔‘

خط میں لکھا گیا ہے کہ کیا بادی النظر میں جب کوئی غیر قانونی کام ہو تو کیا بطور گورنر میں اس کی توثیق کر سکتا ہوں؟

’سیکرٹری اسمبلی کی رپورٹ بھی ظاہر کرتی ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کا انتخاب غیر قانونی طریقے سے ہوا۔ سیکرٹری اسمبلی رپورٹ کی روشنی میں کیا مجھے اختیار ہے کہ میں ایسے غیر قانونی انتخاب کو رد کر سکوں؟‘

انہوں نے خط میں مزید لکھا کہ ’کیا گورنر پنجاب محض ایک ڈاکخانہ کا کردار ہی ادا کرنے کا پابند ہے؟ اگر وزیر اعلیٰ کا دفتر ازخود ہی غیر آئینی اقدام کے نتیجے میں عمل میں آئے تو کیا مجھے مکینکل طریقے سے فرائض انجام دینے چاہئیں؟‘

’میرا حلف ہر حال میں مجھے آئین کے تحفظ کا پابند بناتا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 130 سب آرٹیکل 5 کے تحت گورنر پنجاب کیسے اپنی ذمہ داریاں ادا کر سکتا ہے؟  وزیر اعلیٰ پنجاب کا انتخاب غیر معمولی شرائط اور ہائیکورٹ کی ہدایات کے نتیجے میں عمل میں آیا۔ انتخاب کے بعد کئی آئینی و قانونی سوالات نے جنم لیا ہے۔ آئینی و قانونی ذمہ داریوں کو نبھانے کے لیے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب آفس گورنر آفس کی رہنمائی کرے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ہائیکورٹ نے ڈپٹی سپیکر کو غیر جانبداری سے وزیر اعلیٰ کا انتخاب کروانے کا حکم دیا تھا۔ اسمبلی اجلاس کی ریکارڈنگ، باالخصوص سیکرٹری اسمبلی کی رپورٹ وزیر اعلیٰ انتخاب کو ہائیکورٹ احکامات کے منافی قرار دیتی ہے۔ پولیس نے ہاؤس میں مخصوص ایم پی ایز کو گرفتار کیا۔ ڈپٹی سپیکر نے فلور پر آنے کی بجائے گیلری سے اجلاس اور ووٹنگ کروائی۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے لیے آئینی و قانونی خلاف ورزیاں کی گئیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دوسری جانب صدر پاکستان عارف علوی نے گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کو اپنے عہدے پر کام جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ وہ گورنر کی برطرفی کی سمری پر فیصلہ ہونے تک اپنے عہدے کے فرائض سر انجام دیتے رہیں۔ 

پیر کو جہاں ایک طرف یہ خط ارسال ہوا وہیں دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے نامزد گورنر پنجاب مخدوم احمد محمود نے صحافیوں سے ملاقات کی۔

اس ملاقات میں ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں جو حالات چل رہے ہیں ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔ قانون کی بالا دستی قائم رہنی چاہیے، عمران خان اپنے بیانیے کو اداروں کے خلاف استعمال نہ کریں۔

انہوں نے کہا کہ اسمبلی میں جو کچھ ہوا وہ پارلیمانی روایات کے منافی تھا۔ عمران خان کو اکثریت کے مینڈیٹ کو تسلیم کرنا چاہیے۔ اس کے برعکس وہ سیاست میں انتہا پسندی کو فروغ دے رہے ہیں۔

مخدوم احمد محمود پہلے پاکستان مسلم لیگ ف کا حصہ تھے نے پارٹی سی علیحدگی کا فیصلہ تب کیا جب 2012 میں آصف علی زرداری نے انہیں گورنر پنجاب مقرر کیا تھا۔ وہ جون 2013 تک اس عہدے پر رہے۔

اس سے پہلے وہ آئی جے آئی اور پاکستان مسلم لیگ ن کی جانب سے مختلف ادوار میں رکن قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی بھی رہ چکے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست