سابق وزیراعظم اور مشیر خزانہ کے درمیان مقابلہ، گیم چینجر کیوں؟

سینیٹ انتخابات کے حوالے سے اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یوسف رضا گیلانی کو مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کے مد مقابل مشترکہ حکمت عملی کے تحت لایا گیا ہے جبکہ حکمران جماعت کے مطابق حکومت مضبوط ہے جس کا اپوزیشن مقابلہ نہیں کر پا رہی۔

سینیٹ انتخابات میں اپوزیشن کے امیدوار سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے مقابلے میں حکومت کی طرف سے مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کو لایا گیا ہے (اے ایف پی)

پاکستان میں سینیٹ انتخابات اس بار پہلے سے زیادہ سیاسی اور عوامی توجہ حاصل کر چکے ہیں۔ خاص طور پر خفیہ رائے شماری یا اوپن انتخاب کے معاملے پر مختلف آرا سامنے آرہی ہیں۔ ایک جانب حکمران اتحاد کے امیدوار تو دوسری جانب متحدہ حزب اختلاف (پی ڈی ایم) کے امیدوار ہیں۔

یہ انتخاب اس لیے بھی اہمیت اختیار کرچکا ہے کہ پی ڈی ایم نے پارلیمان میں وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔

اپوزیشن رہنماؤں کے مطابق سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو اسلام آباد کی نشست پر مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کے مد مقابل مشترکہ حکمت عملی کے تحت لایا گیا ہے۔ 

جبکہ حکمران جماعت کے مطابق حکومت مضبوط ہے جس کا اپوزیشن مقابلہ نہیں کر پا رہی، اس لیے گیلانی صاحب کو ’قربانی کا بکرا‘ بنایا گیا ہے اور حکومت کو اس سے کوئی پریشانی نہیں، وہ اپوزیشن کو اپنی عددی اکثریت کے مطابق شکست دے گی۔

دوسری جانب ریٹرننگ آفیسر نے یوسف رضا گیلانی کے کاغذات نامزدگی منظور کر لیے ہیں۔

ریٹرننگ آفیسر ظفر اقبال ملک نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ یوسف رضا گیلانی کی پانچ سالہ نااہلی ختم ہوچکی۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالتوں میں زیرالتوا مقدمات پر کسی کو الیکشن لڑنے سے نہیں روکا جا سکتا۔ 
پی ڈی ایم کی یوسف رضا گیلانی کو جتوانے کی حکمت عملی

سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے اسلام آباد سے سینیٹ کی نشست پر سامنے آنے کے بعد ملک بھر میں اس نشست پر مقابلے سے متعلق چہ میگویاں جاری ہیں۔ خاص طور پر پیپلز پارٹی کی قیادت نے جب ان ہاؤس تبدیلی کے لیے تحریک عدم اعتماد کا پی ڈی ایم کو آپشن دیا تو اس کے بعد یوسف رضا گیلانی کو امیدوار بنایا۔

پھر کاغذات نامزدگی پر تجویز کنندہ اور تائید کنندہ بھی سابق وزرا اعظم راجہ پرویز اشرف اور شاہد خاقان عباسی کو بنایا گیا اور پی ڈی ایم قیادت نے انہیں اپنا متفقہ امیدوار قرار دیا گیا جس سے یہ سمجھا جا رہا ہے کہ شاید اپوزیشن اس نشست پر اپنا امیدوار کامیاب کرا کے تحریک عدم اعتماد سے قبل ہی حکمران اتحاد کو پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل نہ ہونے کا احساس دلانا چاہتی ہے۔

اس بارے میں جب پیپلز پارٹی کے رہنما مصطفی نواز کھوکھر سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ بالکل یہ بات درست ہے کہ پی ڈی ایم سیاسی حکمت عملی کے تحت یوسف رضا گیلانی جیسی شخصیت کو اس مقابلہ میں لائی ہے۔

’ایک تو ان کی شخصیت حکومتی امیدوار عبدالحفیظ شیخ کے مقابلے میں زیادہ موثر ہے دوسرا یہ کہ گیلانی صاحب کو جنوبی پنجاب سمیت ملک بھر سے تعلق رکھنے والے ایم این ایز قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ وہ اپنے دور میں غیر متنازع رہے ہیں۔ وہ نہ صرف اپوزیشن جماعتوں بلکہ حکومتی بینچوں پر بیٹھے اراکین میں بھی اپنا اثر رکھتے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ عبدالحفیظ شیخ پی ٹی آئی کے ہیں ہی نہیں تو اراکین انہیں ووٹ دینے پر کیوں رضامند ہوں گے؟

مصطفی نواز کھوکھر کے مطابق حکومت کی اتحادی جماعتیں ناخوش ہیں۔ اختر مینگل پہلے ہی اپوزیشن کے ساتھ ہیں۔ ’اس صورتحال میں یوسف رضا گیلانی کی کامیابی یقینی ہے جس کے ساتھ یہ بھی واضح ہو جائے گا کہ وزیر اعظم اور سپیکر کو پارلیمنٹ میں اکثریتی حمایت حاصل نہیں رہی۔ لہذا تحریک عدم اعتماد لانے سے پہلے ہی ہمیں یہ کامیابی حاصل ہو سکتی ہے۔‘

اپوزیشن کی مرکزی جماعت مسلم لیگ ن کے رہنما طارق فضل چودھری نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ اپوزیشن یوسف رضا گیلانی کو کامیاب کرانے میں متفقہ جدوجہد اور منصوبہ بندی کر رہی ہے، جس میں پی ٹی آئی کے ناراض اراکین اور پارٹی پالیسی سے اختلاف رکھنے والوں سے رابطے ہو رہے ہیں اور ’میں تعداد بتائے بغیر کہہ سکتا ہوں کہ ہمیں کامیابی کے لیے کافی حمایت حاصل ہے۔‘ 

ان سے پوچھا گیا کیا کہ حکومتی اراکین کو پی ڈی ایم کی جانب سے آئندہ عام انتخابات میں حمایت کی یقین دہانی بھی کرائی جا رہی ہے؟

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے جواب دیا کہ وہ اس بارے میں حتمی رائے تو نہیں دے سکتے البتہ سیاست میں خاص طور پر پارلیمنٹ کے اندر ہر جماعت کے اراکین اسمبلی آپس میں کئی معاملات پر بات کرتے ہیں۔ کئی بار یقین دہانی بھی ہوتی ہے لیکن ایک بات یقینی ہے کہ کئی حکومتی اراکین عبدالحفیظ شیخ کو ووٹ دینے پر تیار نہیں۔ یہی وجوہات ہیں کہ حکومت اوپن انتخاب کے لیے کوشاں ہے اور تاثر یہ دیا جا رہا ہے کہ ہارس ٹریڈنگ کا راستہ روک رہے ہیں۔

طارق فضل چودھری کے مطابق پہلے سینیٹ کی اس نشست پر اپوزیشن اپنا امیدوار کامیاب کرانے کی کوشش کر رہی ہے، چیئرمین سینیٹ کے امیدوار کا فیصلہ بعد میں وقت اور حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ سینیٹ انتخابات میں پارٹی کے مخالف امیدوار کو ووٹ ڈالنے پر رکنیت ختم ہو جانے کا بھی خطرہ نہیں ہوتا۔

حکومت پر اعتماد کیوں ہے؟

ویسے تو حکومتی ترجمان اور وزرا کی جانب سے پی ڈی ایم کے اس حوالے سے بیانات پر حکومت پراعتماد دکھائی دیتی ہے جیسے انہیں اپوزیشن سے کوئی خطرہ نہیں اور نہ انہیں یوسف رضا گیلانی کے امیدوار بننے پر کوئی پریشانی ہے۔

اس کی وجہ جاننے کے لیے وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چودھری سے رابطہ کیا گیا تو انہوں جواب دیا کہ حکومت انتہائی مضبوط ہے تمام اتحادی ان کے ساتھ ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’پی ٹی آئی ٹکٹ پر منتخب ہو کر ایوان میں آنے والے اور وزیر اعظم سے وابستگی کے باوجود کوئی رکن مخالف امیدوار یوسف رضا گیلانی کو ووٹ کیوں دے گا؟ جب حکومت اندرونی طور پر بھی مضبوط ہو تو اس قسم کی باتیں کہ حکومتی اراکین اپوزیشن کو ووٹ دیں گے سوائے جھوٹی تسلی کے کچھ نہیں ہیں۔‘

فواد چودھری نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’پی ڈی ایم اپنی ناکام سیاست میں جان ڈالنے کے لیے یوسف رضا گیلانی کو میدان میں لے آئی اور انہیں قربانی کا بکرا بنا رہے ہیں۔ اس پر گیلانی صاحب کو خود ہی انکار کردینا چاہیے تھا۔ ان کے لیے مناسب نہیں کہ سابق وزیر اعظم ہو کر وہ سینیٹ کی نشست کے امیدوار بن گئے جہاں جیتنے کا بھی کوئی امکان نہیں۔‘ 

انہوں نے کہا کہ ’گیلانی صاحب کا امیدوار بننا ایسے ہی ہے کہ اب ٹرمپ بھی رکن اسمبلی کا انتخاب لڑنے بیٹھ جائیں۔‘

’پی ٹی آئی کو نہ کوئی خطرہ ہے اور نہ خدشہ ہمارے اراکین پارٹی امیدواروں کے ساتھ ہیں وہ عبدالحفیظ شیخ ہوں یا کوئی بھی پارٹی امیدوار وہ اسے ہی ووٹ دیں گے۔‘

یاد رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے تین مارچ کو سینیٹ کی 48 نشتوں پر وفاق اور صوبوں میں انتخاب کرانے کا اعلان کر رکھا ہے لیکن ابھی تک یہ معاملہ طے نہیں ہوسکا کہ الیکشن خفیہ رائے شماری یا اوپن ووٹنگ کے طریقہ سے ہوگا جبکہ اس معاملہ پر سپریم کورٹ میں سماعت بھی جاری ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست