الہان کا پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کا دورہ، بھارت کو تشویش

بھارتی وزارت خارجہ نے کہا کہ:’اگر ایسا کوئی سیاستدان اپنے ملک میں اپنی تنگ نظری کی سیاست کرنا چاہے تو یہ اس کا مسئلہ ہو سکتا ہے، لیکن اس کے لیے ہماری علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کرنا ہمارے لیے قابل مذمت ہے۔‘

پاکستان کے دورے پر آئی امریکی رکن کانگریس الہان عمر نے آج پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے صدر سے ملاقات کی ہے۔ (تصویر: دفتر خارجہ)

امریکی کانگریس کی خاتون رکن الہان عمر کے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دورے پر بھارت میں تشویش پائی جا رہی ہے۔

معروف بھارتی میڈیا کمپنی این ڈی ٹی وی کے مطابق بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اس دورے کو قابل مذمت قرار دیا ہے۔

الہان عمر20 اپریل سے پاکستان کے چار روزہ دورے پر ہیں۔ انہوں نے وزیراعظم شہبازشریف اور سابق وزیراعظم عمران خان سے بھی ملاقات کی ہے۔

بھارتی وزارت خارجہ نے کہا کہ:’اگر ایسا کوئی سیاستدان اپنے ملک میں اپنی تنگ نظری کی سیاست کرنا چاہے تو یہ اس کا مسئلہ ہو سکتا ہے، لیکن اس کے لیے ہماری علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کرنا ہمارے لیے قابل مذمت ہے۔‘

وزیر اعظم کے دفتر نے ایک بیان میں کہا تھا کہ الہان پاکستان کی ثقافتی، سماجی، سیاسی اور معاشی صلاحیت کو زیادہ سے زیادہ بہتر انداز میں سمجھنے کے لیے لاہور اور ’آزاد جموں و کشمیر‘ کا دورہ کریں گی۔

امریکہ کے ساتھ پاکستان کی بات چیت میں کشمیر ہمیشہ شامل ہوتا ہے اور اس مسئلے پر وزیراعظم شہباز شریف اور الہان عمر کے درمیان بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس موضوع پر شہباز شریف نے صحافیوں کو بتایا کہ انہوں نے 39 سالہ قانون ساز کے ساتھ کشمیر کے مسئلے کے پرامن حل کی اہمیت پر زور دیا ہے، جس سے خطے کو اپنی معاشی صلاحیت کا ادراک کرنے اور سماجی ترقی کو فروغ دینے کا موقع ملے گا۔

خیال رہے کہ  پاکستان کے دورے پر آئی امریکی رکن کانگریس الہان عمر نے آج  پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے صدر سے ملاقات کی ہے۔

الہان عمر بدھ کی صبح پاکستان پہنچی تھیں، جس کے بعد ان کی وزیراعظم شہباز شریف، سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف اور سابق وزیراعظم عمران خان سے ملاقات ہوئی۔

آٹھ نومبر، 2018 کو الہان ​​عمر نے اس وقت تاریخ رقم کر دی جب وہ امریکہ میں پہلی صومالی نژاد امریکی قانون ساز منتخب ہوئیں۔ الہان عمر کی امریکہ میں انتخابی جیت نسلی و علاقائی تعصب کے خلاف ایک متبادل بیانیہ پیش کرتی ہے۔

الہان اکثر نفرت پر مبنی تقاریر کا نشانہ بن چکی ہیں۔ سوشل سائنس ریسرچ کونسل کی ایک تحقیق کے مطابق 2018 کے وسط مدتی انتخابات سے پہلے کے ہفتوں میں مسلم امیدواروں کے بارے میں ایک لاکھ 13 ہزار ٹویٹس میں سے زیادہ تر کا بڑا ہدف وہ تھیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا