عید کارڈ غائب ہوتے ہوتے ’عیدی کارڈ‘ میں تبدیل

ایک دور ایسا آیا جب ان عید کارڈز کی جگہ ای کارڈز آگئے، لوگ کمپیوٹر سے ای کارڈ ڈاؤن لوڈ کرتے اور ای میل میں بھیج دیتے۔

(سکرین گریب)

ایک زمانہ تھا جب رمضان کا مہینہ شروع ہوتے ہی مختلف دکانوں پر سٹالز لگ جایا کرتے تھے جن پر چوڑیاں اور مہندی کے ساتھ ساتھ سب سے اہم آئٹم ہوا کرتا تھا عید کارڈز کا۔

اردو بازار لاہور عید کارڈز کے لیے سب سے زیادہ مشہور تھا کیونکہ یہ کارڈز وہاں نہ صرف ڈیزائن ہوا کرتے تھے بلکہ وہیں پرنٹنگ پریس پر چھپا بھی کرتے تھے اور وہیں دکانوں کے باہر سٹالز پر بکا بھی کرتے تھے۔  

رمضان کا مہینہ شروع ہوتے ہی عید کارڈز کی خرید و فروخت شروع ہو جایا کرتی تھی۔ باقاعدہ ناموں کی لسٹ بنا کرتی تھی کہ کارڈ کس کس کو بھیجنا ہے۔

کچھ کارڈز شہر کے اندر ہی رہنے والے دوستوں رشتے داروں کو جایا کرتے تھے کچھ شہر سے باہر اور سب سے پہلے کارڈز بھیجے جاتے تھے ملک سے باہر بسنے والے رشتے داروں اور دوستوں کو تاکہ انہیں عید سے پہلے پہلے یہ کارڈ موصول ہو جائیں۔ کارڈ بھیجنے والوں کو بھی ڈاکیے کا انتظار رہا کرتا تھا کہ کس نے عید پر کارڈ بھیجا اور کس نے نہیں۔  

پھر ایک دور ایسا آیا جب ان عید کارڈز کی جگہ ای کارڈز آگئے۔ لوگ کمپیوٹر سے ای کارڈ ڈاؤن لوڈ کرتے اور ای میل میں بھیج دیتے اور اب یہ عید کی مبارکباد ایک واٹس ایپ میسج تک محدود رہ گئی ہے۔ 

ہم نے اردو بازار کا چکر لگایا یہ دیکھنے کے لیے کہ کیا اب بھی یہاں عید کارڈز بنتے ہیں یا نہیں۔

ہماری ملاقات ہوئی محمد صدیق سے جو 1990 کی دہائی سے پرنٹنگ اور پبلشنگ کے کام سے منسلک ہیں اور اردو بازار ان کا دوسرا گھر ہے۔  

صدیق نے ہمیں بتایا کہ عید کارڈز کا کام اب خال خال ہی رہ گیا ہے اور اس کی وجہ ان کے خیال میں مواصلاتی جدت ہے جس میں آپ ایک میسیج بھیج دیتے ہیں جس کا آپ کو یقین ہوتا ہے کہ وہ جسے بھیجا گیا اسے مل گیا ہے۔ 

صدیق کا کہنا ہے: ’بائے پوسٹ کارڈ بھیجنے میں بے شک آپ ڈاک کا خرچہ بھی دیتے تھے لیکن ایک خیال رہتا تھا کہ شاید کارڈ ملا بھی کہ نہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اردو بازار میں کارڈز ڈیزائن کرنے والے لوگ موجود تھے جو کارڈز بناتے تھے، ان کے شاگرد ان پر کام کیا کرتے تھے، ان کی ڈمیاں بنتی تھیں اور پھر وہ پرنٹ ہوا کرتے تھے۔

ان کا کہنا  تھا کہ اس کام میں عید سے پہلے بہت منافع کمایا جاتا تھا کیونکہ اگر ایک کارڈ پانچ روپے کی لاگت سے بنتا تھا تو وہ پندرہ کا بکتا تھا اور ریٹیلر اسے آگے تیس روپے میں بیچتا تھا۔

لیکن اب ایسا نہیں ہے۔ اگر سو دکانیں بھی گھومیں گے تو شاید ایک دو پرنٹر ہوں گے جو عید کارڈ کا کام کرتے ہیں۔  

صدیق نے بتایا کہ زیادہ تر عید کارڈز بنانے والوں نے اپنی لائن تبدیل کر لی ہے اب وہ زیادہ تر شادی کارڈز یا بچوں کی کتابوں، کاپیوں یا سلیبس کی کتابوں کا کام کرتے ہیں۔ 

اردو بازار گھومنے کے بعد ایک دو دکانیں ہی ایسی دکھائی دیں جہاں کچھ عید کارڈز موجود تھے۔ ایک دکاندار نے بتایا کہ ان کے پاس جو کارڈز ہیں وہ انہوں نے کراچی کے ایک پرنٹر سے منگوائے اور وہ ان میں سے چند ہی بیچ پائے۔ 

ایک اور دکان جس کا نام کارڈ پوائنٹ تھا ہم وہاں گئے تو وہاں ہماری ملاقات نقش وسیم سے ہوئی۔

انہوں نے بتایا کہ ان کی دکان 1984 سے یہاں ہے اور وہ کام ہی گریٹنگ کارڈز کا کرتے ہیں۔ ان کارڈزمیں برتھ ڈے کارڈز، ٹیچرز ڈے کارڈز، ویلنٹائن ڈے کارڈز اور دیگر تہواروں کے کارڈز شامل ہیں اور عید کارڈز بھی۔

نقش کہتے ہیں کہ بے شک اب وہ اس تعداد میں عید کارڈز نہیں چھپواتے جتنے پہلے چھپواتے تھے لیکن چھپواتے ضرور ہیں تاکہ ایک روایت قائم رہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اب اس کام میں اس طرح منافع نہیں ہے، ایک ڈیزائن کا ایک ہزار کارڈ بھی چھپوائیں تو کچھ ہی بکتے ہیں باقیوں کو پھر اگلے سال استعمال کرنا پڑتا ہے۔  

اس سال عید کے لیے نقش نے عید کارڈز کے علاوہ ایک اور چیز متعارف کروائی ہے اور وہ ہے ’عیدی کارڈ‘۔ یہ ایک چھوٹا سا کارڈ ہے جس میں آپ عیدی کی رقم رکھ کر کسی کو دے سکتے ہیں۔

نقش نے بتایا کہ ان کا یہ آئیڈیا اس بار بہت مقبول ہوا اور کچھ لوگوں نے تو اپنے خاندان کے بچوں کے ناموں کے ساتھ یہ کارڈز بنوائے، کچھ نے اپنی بیگمات کے لیے بھی کارڈز ڈیزائن کروائے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ کارڈز مہنگے بھی نہیں۔ اگر آپ اپنے نام کے ساتھ بنوائیں تو تیس روپے کا ایک کارڈ بنے گا۔ اس کا فائدہ یہ ہے کہ اس میں عیدی لینے والے بچے بہت خوش ہو جاتے ہیں کیونکہ ان کا نام اس پر لکھا ہوتا ہے پھر بے شک عیدی کی رقم کم ہی کیوں نہ ہو۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا