اصغر خان کا وہ تاریخی خط جو 1977 کے مارشل لا کا محرک بنا

چار مئی 1977 کو انکشاف ہوا کہ قومی اتحاد کے مرکزی رہنما ایئر مارشل (ر) محمد اصغر خان نے مسلح افواج کے سربراہان کے نام اپنے دستخطوں کے ساتھ ایک خط تحریر کیا جس میں انہوں نے زور دیا کہ ’غیر قانونی حکومت کی حمایت نہیں کرنی چاہیے۔‘

(فائل تصویر: وکی کامنز credit: nskhan - CC BY-SA 3.0)

1977 کے عام انتخابات پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک اہم موڑ سمجھے جاتے ہیں۔

یہ وہی انتخابات تھے جن میں شدید دھاندلیوں کے خلاف ملک گیر تحریک چلائی گئی اور جس کے نتیجے میں ملک ایک طویل مارشل لا کا شکار بنا۔

ان انتخابات کے لیے پولنگ سات مارچ 1977 کو ہوئی۔ 19نشستوں پر امیدوار پہلے ہی بلامقابلہ کامیاب ہوچکے تھے۔ سات مارچ کو ہونے والے انتخابات میں پاکستان پیپلزپارٹی نے لینڈ سلائیڈ وکٹری حاصل کی۔ اس کی حاصل کردہ نشستوں کی تعداد 155 تھی جبکہ پاکستان قومی اتحاد کے حصے میں 36 اور پاکستان مسلم لیگ (قیوم گروپ) کے حصے میں ایک نشست آئی تھی جبکہ آٹھ نشستوں پر آزاد امیدوار کامیاب ہوئے تھے۔

انتخابات کے نتائج کا اعلان ہوتے ہی پاکستان قومی اتحاد نے الزام لگایا کہ ووٹنگ میں وسیع پیمانے پر دھاندلی ہوئی ہے۔ چنانچہ اس نے نتائج تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ اس کے ساتھ ہی قومی اتحاد نے 10 مارچ کے صوبائی انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کردیا اور 14 مارچ 1977سے ان نتائج کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کردیا۔ اس تحریک کو تحریک نظام مصطفیٰ کا نام دیا گیا۔

پاکستان قومی اتحاد نو سیاسی جماعتوں کا اتحاد تھا جس کے سربراہ مفتی محمود اور جنرل سیکریٹری پروفیسر غفور احمد تھے مگر اس اتحاد میں مرکزی حیثیت ایئر مارشل (ر) اصغر خان کو حاصل تھی، جنہیں بھٹو کی ہم پلہ شخصیت سمجھا جاتا تھا۔ گمان غالب تھا کہ اگر مارچ 1977 کے انتخابات میں پاکستان قومی اتحاد اکثریت حاصل کرتا تو وہی ملک کے وزیراعظم منتخب ہوتے۔

اس دوران مزدوروں، وکلا، علمائے کرام، طلبہ، خواتین اور بچوں کے تقریباً ساڑھے پندرہ جلوس نکلے۔ تقریباً سات سو عمارات، دکانیں، دفاتر اور بینک نذر آتش کیے گئے۔ ڈھائی سو افراد لقمہ اجل بنے، 12 سو افراد زخمی ہوئے اور تقریباً ساڑھے تراسی ہزار افراد پابند سلاسل ہوئے۔

ان ہنگاموں پر قابو پانے کے لیے حکومت نے طاقت کا بے دریغ استعمال کیا اور تین شہروں لاہور، کراچی اور حیدرآباد میں مارشل لا بھی نافذ کیا، مگر ان ہنگاموں پر قابو نہ پایا جا سکا۔

ایسے میں چار مئی 1977 کو انکشاف ہوا کہ قومی اتحاد کے مرکزی رہنما ایئر مارشل (ر) محمد اصغر خان نے مسلح افواج کے سربراہان اور دفاعی سروسز کے افسران کے نام اپنے دستخطوں کے ساتھ ایک خط تحریر کیا جس میں انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کی علاقائی سالمیت کا دفاع پاکستان کی مسلح افواج کا فریضہ ہے لیکن انہیں قانونی اور غیرقانونی احکامات میں تمیز کرنا چاہیے اور انہیں ان کے بقول غیر قانونی حکومت کی حمایت نہیں کرنی چاہیے۔

انہوں نے اپنے پیغام میں مزید کہاکہ انتخابات کے دوران دھاندلی اس سنگین اور بھونڈے طریقے سے کی گئی کہ رائے دہندگان کی جانب سے حکومت کے محاسبہ کے اصول کی بھی نفی کردی گئی۔ ان حالات میں فوج کی کارروائی ایک فرد کو تحفظ دینے اور اس کی حمایت کرنے کے مترادف ہے۔

یہ خط اصغر خان کے بیان کے مطابق 25 اپریل 1977کو لکھا گیا تھا۔ اصغر خان نے اپنی کتاب ’تاریخ سے کچھ نہیں سیکھا‘ میں لکھا ہے کہ: ’اس خط کی تقسیم ایک بڑا مسئلہ تھی لیکن اسے حکومتی کنٹرول اور سینسر کے باوجود اتنی شہرت ملی کہ اسے مسلح افواج کے تقریباً سب ہی افسروں نے پڑھا۔ بھٹو کے بعض بہی خواہوں نے یہ خط لکھنے پرتنقید کرتے ہوئے مجھ پر الزام لگایا کہ میں نے مسلح افواج کو حکومت کا نظم و نسق سنبھالنے کی دعوت دی ہے۔ یہ خط مسلح افواج اور یہ یاد دہانی کروانے کے لیے لکھا گیا تھا کہ انہوں نے اپنے اعلیٰ افسروں کے صرف ’قانونی احکامات کی تعمیل‘ کا عہد کیا ہے۔ یہ خط اقتدار سنبھالنے کا دعوت نامہ نہیں تھا۔‘

پروفیسر غفور احمد اپنی کتاب ’....پھر مارشل لا آگیا‘ میں لکھتے ہیں کہ ’حکومت کی جانب سے اس خط پر بڑی لے دی کی گئی۔ اس کے جواب میں وزارت دفاع کے ایک ترجمان نے وضاحت کی کہ افواج کسی فرد کی نہیں بلکہ ملک اور آئین کی وفادار ہیں۔ ان کا فرض ہے کہ جب انہیں سول انتظامیہ کی مدد کے لیے طلب کیا جائے تو وہ اس کی مدد کو پہنچیں۔‘

یہ خط جب ذوالفقار علی بھٹو کے علم میں آیا تو انہوں نے مسلح افواج کے سربراہان کو اس خط کا جواب دینے کے لیے طلب کیا، چنانچہ جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے چیئرمین اور بری، بحری اور فضائی افواج کے سربراہوں نے اعلان کیا کہ مسلح افواج اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے متحد ہیں۔

انہوں نے کہاکہ دفاعی افواج سمیت ہر محب وطن شہری کو گزشتہ چند ہفتوں کے واقعات پر گہری تشویش ہے۔ اگر کسی کو مسلح افواج کے کردار اور ذمہ داریوں کے بارے میں کوئی غلط فہمی ہے تو وہ دور ہوجانی چاہیے۔ بیان میں کہا گیا کہ نظریاتی مملکت کے اصولوں سے انحراف نہیں ہونے دیا جائے گا۔

27 اپریل کووزارت دفاع کے ایک ترجمان نے وضاحت کی کہ مسلح افواج کسی فرد کی نہیں بلکہ ملک اور آئین کی وفادار ہیں۔ ان کا فرض ہے کہ جب انہیں سول انتظامیہ کی مدد کے لیے طلب کیا جائے تو وہ اس کی مدد کو پہنچیں۔ اگر رائے عامہ کے کسی طبقے میں ملک کی مسلح افواج کے کردار اور فرائض اور ذمہ داریوں کے بارے میں کوئی غلط فہمی ہوتو وہ دفاعی افواج کے اس عزم اور اس توثیق سے دور ہوجانی چاہیے۔

وزارت دفاع کے ترجمان نے مزید کہاکہ ’ملک کا دفاع ملک کے اندر سے بھی ہوتا ہے اور ملک کے باہر سے بھی۔ دشمن ملک کے اندر بھی ہوتے ہیں اور باہر بھی۔ اگر اندرونی طور پر ملک کو شکست ہوجائے تو کون باقی رہے گا۔ وفاقی حکومت آئین کے آرٹیکل 245 میں دیے گئے اختیارات کو استعمال میں لانے کے لیے آزاد ہے، یہ اس کا قانونی حق ہے اور یہ مسلح افواج کا فرض ہے کہ جب ان سے کہا جائے تو پورے خلوص کے ساتھ لوگوں کی جان اور عزت و ناموس کی حفاظت کرے۔‘

ترجمان نے کہاکہ ’ریٹائرڈ ایئر مارشل اصغر خان کا یہ پیغام مسلح افواج کی وفاداری میں رخنہ ڈالنے کے مترادف ہے اور یہ بات اور بھی حیرت انگیز ہے کہ فضائیہ کا سابق سربراہ مسلح افواج میں بغاوت کا پرچار کرے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایئر مارشل (ر) اصغر خان جب 1958میں آئین کی منسوخی میں شریک تھے تو ان کا ضمیر اور اخلاقی اقدار کہاں تھیں؟۔‘

اصغر خان کے اس تاریخی مکتوب کے مطالعے سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس مکتوب نے مسلح افواج کے سربراہان اور عام فوجیوں کی ذہن سازی اور انہیں بغاوت پر اکسانے کے لیے کیساکردار ادا کیا ہوگا۔

اصغر خان کے اس مکتوب کا ترجمہ ذیل میں درج کیا جارہا ہے۔

’میرا یہ پیغام ڈیفنس سروسز آف پاکستان کے چیف آف سٹاف اور افسروں کے نام ہے۔ آپ کا یہ فرض ہے کہ پاکستان کی علاقائی سالمیت کا دفاع کریں اور خود پر متعین اعلیٰ افسران کے قانونی احکامات کی انجام دہی کریں۔ قانونی اور غیر قانونی احکامات میں تمیز کرنا ہر افسر کا فرض ہے۔ آپ میں سے ہر ایک کو خود سے یہ پوچھنا چاہیے کہ فوج ان دنوں جن سرگرمیوں میں مصروف ہے کیا وہ قانونی ہیں؟ اگر آپ کا ضمیر یہ جواب دے کہ یہ سرگرمیاں قانونی نہیں اور پھر بھی انہیں جاری رکھیں، تو پھر آپ اخلاقی طور پر دیوالیہ اور اپنے ملک و قوم کے خلاف سنگین جرائم کے مرتکب ثابت ہوں گے۔

اب تک آپ یہ جان چکے ہوں گے کہ مشرقی پاکستان میں فوجی ایکشن ایک سازش تھی۔ جس میں موجودہ وزیراعظم نے شاطرانہ کردار ادا کیا تھا۔ آپ جانتے ہیں کہ کن حالات میں بلوچستان میں فوجی ایکشن کیا گیا اور یہ ایکشن کتنا غیر ضروری تھا۔ آپ شاید گزشتہ سال دیر، صوبہ سرحد میں کیے گئے فوجی ایکشن سے بھی آگاہ ہوں گے۔ اگر آپ کو قومی مفادات سے کوئی دلچسپی ہے تو آپ یہ بھی جانتے ہوں گے کہ موجودہ الیکشن مہم میں عوام نے موجودہ حکومت کو زبردست طریقے سے مسترد اور نامنظور کردیا ہے۔ عوام کی طرف سے موجودہ حکومت کو مستر کردینے کے باوجود اپ موجودہ الیکشن کے نتائج پر حیران ہوئے ہوں گے کہ پاکستان قومی اتحاد جسے عوام کی زبردست تائید حاصل ہے، صوبہ پنجاب کی 161 نشستوں میں سے صرف آٹھ نشستیں جیت سکا۔ آپ یقینا یہ بھی جانتے ہوں کہ متعدد لوگوں کو اپنے کاغذات نامزدگی داخل کرنے کا موقع بھی نہیں دیا گیا۔ کیا آپ اسے ایک اتفاقی امر کہیں گے کہ وزیراعظم اور چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کے خلاف کسی شخص نے کاغذات نامزدگی داخل نہیں کیے؟ جن لوگوں نے کاغذات داخل کرنے کی کوشش کی انہیں چند راتیں پولیس کی حراست میں رہنا پڑا جن میں سے ایک کا ابھی تک سراغ نہیں مل سکا۔

آپ میں سے جن لوگوں کی ڈیوٹی سات مارچ کے الیکشن کے سلسلے میں متعین کی گئی تھی وہ جانتے ہوں گے کہ دھاندلی کتنے وسیع پیمانے پر ہوئی ہے۔ قومی اتحاد کے امیدواروں کے لاکھوں بیلٹ پیپروں کو بیلٹ بکسوں میں سے نکال لیا گیا جو 7 مارچ کے انتخابات کے بعد پاکستان کی گلیوں اور کھیتوں میں پائے گئے۔ صوبائی انتخابات کے موع پر 10 مارچ کو جب قومی اتحاد نے صوبائی انتخابات کے بائیکاٹ کی اپیل کی تھی تو آپ نے ویران اور صحرا زدہ پولنگ اسٹیشن دیکھے ہوں گے۔ اس کے باوجود حکومت کے ذرائع نے اعلان کیا کہ ووٹ بھاری تعداد میں ڈالے گئے ہیں، اور یہ ڈالے گئے ووٹ کل تعداد کا ساٹھ فیصد سے زائد تھے اور پھر آپ نے اس تحریک کا بھی نظارہ کیا ہوگا جو بھٹو کے استعفے اور عام انتخابات کے دوبارہ انعقاد کے لیے چلائی گئی تھی۔

ہاتھوں میں بچے اٹھائے ہزاروں عورتوں کا گلیوں میں نکل آنا ایسا منظر تھا جسے کبھی بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ یہ وہی عورتیں تھیں جن کے متعلق بھٹو کا دعویٰ تھا کہ انہوں نے اسے ووٹ دیے تھے۔ اس تحریک نے چند دنوں میں یہ ثابت کردیا کہ عوام نے بھٹو اور اس کی حکومت کو مسترد کردیا ہے۔ ہمارے ہزاروں نوجوانوں کی موت اور ماﺅں بہنوں پر تشدد کے واقعات نے آپ کے سرشرم اور غم سے جھکا دیے ہوں گے۔

کیا اپ نے سوچا کہ لوگوں نے خود کو اتنی مصیبت میں کیوں ڈالا، مائیں گود میں بچے لیے گولیوں کا سامنا کرنے کیوں آئیں، والدین نے اپنے بچوں کو پولیس کی گولیوں اور لاٹھیوں کا سامنا کرنے کی اجازت کیوں دی؟ یقینا اس لیے کہ انہوں نے محسوس کرلیا کہ ان کے ساتھ دھوکہ اور فراڈ کیا گیا ہے۔ ان کے حکمرانوں نے انہیں قبول کرنے یا مسترد کرنے کا بنیادی حق دینے سے انکار کردیا ہے۔ جب ہم نے عوام کو سمجھایا، تو وہ سمجھ گئے کہ آپ نے مسلح افواج کے افسر ہونے کی حیثیت سے جس آئین کا دفاع کرنے کا حلف اٹھایا ہے، اس آئین کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل (3)218 کے مطابق ’کسی انتخابات کے سلسلے میں تشکیل کردہ الیکشن کمیشن کا فرض ہے کہ وہ الیکشن کے سلسلے میں ایسے انتظامات کرے جن کے نتیجے میں ایماندارانہ، منصفانہ، آزادانہ اور قانون کے مطابق انتخابات ممکن ہوسکیں۔ جب کہ وہ اس سلسلے میں بدعنوانیوں کو ختم کرے۔‘

میرے دوستو! یہ منصفانہ اور آزادانہ انتخابات نہیں تھے۔ بھٹو نے آئین کی خلاف ورزی کی ہے اور وہ عوام کے خلاف سنگین جرائم کا مرتکب ہوا ہے۔ آپ پر یہ فرض نہیں کہ آپ ایک غیر قانونی حکومت کی حفاظت کریں اور نہ ہی آپ کو اپنے ملک کے عوام کو قتل کرنے پر مجبور کیا جاسکتا ہے۔ تاکہ بھٹو اپنی حکومت کچھ عرصہ اور برقرار رکھ سکے۔ کسی کو یہ کہنے کا موقع نہ دیجیے کہ پاکستان کی مسلح افواج ایک ایسی دیوالیہ پولیس فورس ہے جن کا کام صرف غیر مسلح شہریوں کو ہلاک کرنا ہے آپ اس معصوم بچے کو گولی مار کر ہلاک کردیے جانے کی کس طرح وضاحت کرسکتے ہیں، جس نے لاہور میں فوج کو ’وی‘ کا نشان دکھایا تھا۔ ہمیں اپنے نوجوانوں میں بزدلی سے زیادہ جذبہ خود اعتمادی پیدا کرنے کی ضرورت ہے اور یہ منحوس حادثہ پاک فوج کے نام پر ایک ایسا دھبہ ہے جس کو صاف کرنا بہت مشکل ہوگا۔

اسی طرح کراچی میں غیر مسلح افراد پر فوج کی فائرنگ بھی ناقابل معافی ہے کیا آپ یہ نہیں سمجھتے کہ اپنی تاریخ کے تیس بدترین سالوں کے دوران پاکستان بھر کے عوام نے اپنی افواج کے لیے محبت اور خلوص کا جذبہ ظاہر کیا ہے۔ جب آپ نے مشرقی پاکستان میں ہتھیار ڈالے تو عوام خون کے آنسو روئے۔ انہوں نے ہمیشہ آپ کی عظمت کی دعائیں مانگیں۔ انہوں نے خود کو بھوکا رکھا اور اپنے بچوں کو بھوکا مارا کہ آپ کو پیٹ بھر کر کھانے کو ملے اور آپ کے جرنیل اور اعلیٰ افسر ایسی زندگی گزار سکیں جو برطانوی اور امریکی جرنیلوں کو نصیب نہیں۔ مجھے یہ کہتے ہوئے دیکھ ہورہا ہے کہ یہ محبت دم توڑ چکی ہے۔ اب خدارا اسے نفرت میں مت بدلنے دیجیے۔ اگر ایسا ہوگیا تو یہ ہماری تاریخ میں ایسا سانحہ ہوگا، جس کا تدارک ہم اپنی زندگی میں نہیں کرسکیں گے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایک باوقار شخص کی حیثیت سے آپ کا فرض ہے کہ آپ اپنے فرائض کو انجام دیں۔ موجودہ حالات میں فرائض کا مطلب غیر قانونی احکامات کی اندھا دھند بجاآوری نہیں ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ قوم کا ہر شخص خود سے یہ پوچھے کہ وہ صحیح کررہا ہے یا غلط۔ آپ کے لیے وہ وقت آگیا ہے کہ اس اپیل کا ایمانداری سے جواب دیں اور پاکستان کو بچائیں۔ خدا آپ کی حفاظت کرے۔‘

پاکستان قومی اتحاد کے اس وقت کے سیکریٹری جنرل پروفیسر غفور احمد نے اپنی کتاب ’پھر مارشل لا آگیا‘ میں تحریر کیا ہے کہ ان کے علم کی حد تک ’اصغر خان نے یہ پیغام بھیجتے وقت قومی اتحاد کو اعتماد میں نہیں لیا تھا۔‘

اس خط کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کو پاکستان قومی اتحاد کے ساتھ مذاکرات میں سنجیدہ ہونا پڑا مگر مذاکرات نے اتنا طول کھینچ لیا کہ معاہدے کے قریب پہنچ کر بھی معاہدے پر دستخط نہ ہوسکے۔ اس دوران ایسے کئی اشارے ملے کہ مسلح افواج ملک میں مارشل لا کے نفاذ کی تیاری کررہی ہیں۔ قومی اتحاد کے رہنما اصغر خان، سردار شیرباز خان مزاری اور بیگم نسیم ولی خان ملک میں مارشل لا کے نفاذ کے حامی تھے۔ ان کا موقف تھا کہ فوج نے انہیں یقین دلایا ہے کہ اگر مارشل لا نافذ ہوگیا تو مارشل لا حکام نوے دن میں منصفانہ انتخابات کروا دیں گے۔

5جولائی 1977کو جنرل ضیا الحق نے ملک میں مارشل لا نافذ کردیا، مگر ان انتخابات کے انعقاد کے لیے عوام کو آٹھ سال انتظار کرنا پڑا۔

مارشل لا کے نفاذ کے بعد اصغر خان نے پاکستان قومی اتحاد سے علیحدگی کا اعلان کیا، بعدازاں انہوں نے ایم آر ڈی میں بھی شمولیت اختیار کی اور ایک مرحلے پر پاکستان پیپلزپارٹی کے ساتھ مل کر ملک میں منصفانہ انتخابات کے انعقاد کے لیے جدوجہد کی۔ 2012میں انہوں نے اپنی جماعت کو عمران خان کی تحریک انصاف میں ضم کر دیا۔

اصغر خان کی سیاسی زندگی کا اہم ترین واقعہ سپریم کورٹ میں ان کے اپنے نام سے منسوب مشہور مقدمہ تھا۔ برسوں پہلے دائر اس مقدمے پر عدالت عظمیٰ نے اکتوبر 2012میں اپنا فیصلہ سناتے ہوئے سابق فوجی سربراہ جنرل مرزا اسلم بیگ اور خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل اسد درانی کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا حکم دیا تھا۔

اپنی درخواست میں اصغر خان نے الزام عائد کیا تھا کہ اس وقت کے صدر غلام اسحق خان نے چند سینئر فوجی اہلکاروں کے ساتھ مل کر سیاستدانوں میں 14 کروڑ روپے تقسیم کیے تاکہ 1990کے عام انتخابات میں بے نظیر بھٹو کی شکست کو یقینی بنایا جائے۔

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ