ماریوپول: سٹیل مل کے محاصرے میں پھنسے 100 شہریوں کا انخلا

اقوام متحدہ نے ماریوپول کی آروف ستال سٹیل مل میں پھنسے شہریوں کو نکلانے کے لیے ’محفوظ گزر گاہ کے آپریش‘ کی تصدیق کی جس کے بعد صدر زیلنسکی نے اعلان کیا کہ سو کے قریب شہریوں کو نکال لیا گیا ہے۔

ماریوپول میں آزوف ستال سٹیل مل کی ملازم پلانٹ سے انخلا کے بعد یکم مئی کو بیزی مینی گاؤں میں ایک عارضی کیمپ میں اپنے بیٹے کو گلے لگا رہی ہیں، جو ان سے پہلے شہر سے نکل آیا تھا۔ (روئٹز)

یوکرین کے صدر وولودی میر زیلنسکی نے کہا ہے کہ روسی فوج کے زیر محاصرہ ماریوپول شہر میں تباہ شدہ آزوف ستال سٹیل مل سے نکالے گئے تقریباً سو شہری پیر کو یوکرین کے زیر کنٹرول شہر میں پہنچ جائیں گے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق زیلنسکی نے رات کو ایک ویڈیو پیغام میں کہا: ’پہلی بار، اس علاقے میں دو دن کی جنگ بندی تھی، اور ہم سو سے زیادہ شہریوں، خواتین، بچوں کو نکالنے میں کامیاب ہوئے۔‘

بحیرہ آزوف پر واقع ماریوپول روسی محاصرے سے شدید متاثر ہے جہاں حکام نے سینکڑوں شہریوں کی موت کی تصدیق کی ہے۔ 

اقوام متحدہ نے  پھنسے ہوئے شہریوں کو نکلانے کے لیے ’محفوظ گزر گاہ کے آپریش‘ کی تصدیق کی جس کے بعد صدر زیلنسکی نے اپنے پیغام میں کہا: ’جو لوگ سب سے پہلے وہاں سے نکلے وہ پیر کی صبح یوکرین کے زیر کنٹرول شہر زاپوریزہیا پہنچیں گے۔‘

یوکرین کی نائب وزیر اعظم ارینا ویریشچک نے کہا کہ سینکڑوں شہری اب بھی سٹیل مل میں پھنسے ہوئے ہیں، جو بنکروں اور سرنگوں کے نیٹ ورک پر مشتمل سوویت دور کا ایک وسیع کمپلیکس ہے۔

ارینا ویریشچک نے اتوار کو ٹیلی گرام پر کہا: ’صورت حال ایک حقیقی انسانی تباہی کی علامت بن گئی ہے، کیونکہ لوگوں کے پاس پانی، خوراک اور ادویات ختم ہو رہی ہیں۔‘

روئٹرز کے ایک فوٹوگرافر نے بتایا کہ 50 سے زیادہ شہری ماریوپول سے فرار ہونے کے بعد اتوار کو روسی کنٹرول والے علاقے میں ایک عارضی رہائش گاہ پر پہنچے ہیں۔

شہری اقوام متحدہ اور روسی فوجی گاڑیوں کے ساتھ ایک قافلے میں ماریوپول سے تقریباً 30 کلومیٹر (18 میل) مشرق میں واقع بیزی مینی گاؤں میں بسوں پر آئے جہاں خیموں کی ایک قطار لگی ہوئی تھی

ماریوپول کی سٹی کونسل نے کہا کہ سٹیل ورکس کے باہر تباہ شدہ شہر کے علاقوں سے شہریوں کو نکالنے کا منصوبہ پیر کی صبح تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔

نینسی پیلوسی کا دورہ

امریکی ایوان کی سپیکر نینسی پیلوسی نے کیئف میں یوکرنی صدر وولودی میر زیلنسکی سے ملاقات کی جس میں یوکرین کو امریکی ہتھیاروں کی فراہمی پر بات چیت ہوئی۔

روئٹرز کے مطابق انہوں نے گذشتہ ہفتے امریکی صدر جو بائیڈن کی طرف سے اعلان کردہ  33 ارب ڈالر کے ہتھیاروں اور امدادی پیکج پر عملدرآمد کا اعلان کیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

صدر زیلنسکی نے نینسی پیلوسی کے ساتھ امریکی ہتھیاروں کی فراہمی پر مرکوز چار گھنٹے کی بات چیت کی تعریف کی، اور کہا کہ وہ یوکرین کے ان تمام شراکت داروں کے مشکور ہیں جنہوں نے اس مشکل وقت میں کیئف کا دورہ کیا۔

ایف پی کے مطابق یوکرین سے واپسی کے بعد اتوار کو جنوبی پولینڈ کے شہر ریززو میں ایک نیوز کانفرنس میں امریکی ایوانِ نمائندگان کی سپیکر نینسی پیلوسی نے صحافیوں کو بتایا کہ: ’غنڈوں کی غنڈی گردی کا شکار نہ ہوں۔ اگر وہ دھمکیاں دے رہے ہیں تو آپ پیچھے نہیں ہٹ سکتے۔‘

ان کا کہنا تھا: ’جب تک فتح حاصل نہیں ہو جاتی یوکرین کے لیے امریکی حمایت جاری رہے گی۔‘

مغربی طاقتوں نے روس پر بہت زیادہ پابندیاں عائد کی ہیں اور یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزپ بوریل نے اتوار کو کہا کہ مزید اقدامات بھی کیے جائیں گے۔ 

انہوں نے کہا: ’ہمیں اپنی اقتصادی اور مالی صلاحیتوں کو استعمال کرنا چاہیے تاکہ روس کو اس اپنے کیے کی قیمت چکانی پڑے۔‘

روس یوکرین کو اسلحے سے پاک کرنے اور اسے مغرب کی طرف سے پھیلائی گئی روس مخالف قوم پرستی سے نجات دلانے کے لیے اپنے اقدامات کو ’خصوصی فوجی آپریشن‘ قرار دیتا ہے۔ تاہم یوکرین اور مغرب کا کہنا ہے کہ روس نے بلا اشتعال جارحیت شروع کی۔

 

روس کی فوج نے جنگ کے ابتدائی ہفتوں میں کیئف پر قبضہ کرنے میں ناکامی کے بعد اپنی توجہ یوکرین کے جنوب اور مشرق کی طرف کر لی ہے جس سے شہر  مسمار ہوگئے ہیں، ہزاروں شہری مارے گئے اور 50 لاکھ سے زیادہ ملک چھوڑنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

ماسکو ڈونباس کے علاقے پر مکمل کنٹرول کے لیے زور لگا رہا ہے، جہاں روسی حمایت یافتہ علیحدگی پسندوں نے حملے سے پہلے ہی لوہانسک اور ڈونیٹسک صوبوں کے کچھ حصوں کو کنٹرول کر رکھا تھا۔

روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ ماسکو صرف مشرق میں روس نواز یوکرینیوں کے تحفظ کی ضمانت دینا چاہتا ہے اور وہ امن کی شرط کے طور پر زیلنسکی سے ’خود کو حوالے‘ کرنے کا مطالبہ نہیں کر رہا۔

انہوں نے اپنی وزارت کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے ایک میڈیا انٹرویو میں کہا: ’ہم مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ شہریوں کو رہا کرنے اور مزاحمت کو روکنے کا حکم جاری کریں۔ ہمارا مقصد یوکرین میں حکومت کی تبدیلی نہیں ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی یورپ