’اب تو ماں کہتی ہے عید پر گھر مت آنا‘

احتجاجی کیمپ میں بیٹھے طلبا کو یہ تو نہیں معلوم کہ ان کے پیارے کہاں اور کس حال میں ہیں لیکن وہ اپنے پیاروں کی تصویریں سینے سے لگائے ان کی خیریت سے واپسی کے منتظر دکھائی دیتے ہیں۔

یوں تو آج (منگل) ملک بھر میں عیدالفطر جوش و جذبے سے منائی جا رہی ہے لیکن کئی خاندان ایسے بھی ہیں جنہوں نے عید کا دن بھی اپنے پیاروں کی راہیں تکتے گزار دیا اور کئی خاندان آج کے دن بھی اپنے پیاروں کی تلاش میں سراپا احتجاج ہیں۔

وفاقی دارالحکمومت اسلام آباد میں گذشتہ کئی دنوں سے بلوچ طلبا کی جانب سے جاری مظاہرے کے بعد منگل کو نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے سامنے احتجاجی کیمپ قائم کیا گیا ہے۔

بلوچستان سے تعلق رکھنے والے یہ طلبا عید منانے اپنے آبائی علاقوں میں جانے کی بجائے اس کیمپ میں موجود ہیں۔

احتجاجی کیمپ میں بیٹھے طلبا کو یہ تو نہیں معلوم کہ ان کے پیارے کہاں اور کس حال میں ہیں لیکن وہ اپنے پیاروں کی تصویریں سینے سے لگائے ان کی خیریت سے واپسی کے منتظر دکھائی دیتے ہیں۔

ان طالب علموں کی پریشانی اور فکرمندی ان کے چہروں پر عیاں ہے۔

بلوچ طلبا کے احتجاج کا سلسلہ آٹھ فروری 2022 کو حفیظ بلوچ کے مبینہ طور پر لاپتہ ہونے کے ایک روز بعد اسلام آباد سے شروع ہوا جب اب سات مختلف شہروں تک پھیل چکا ہے۔

اس سال مارچ کے اواخر میں بلوچستان کے محکمہ انسداد دہشت گردی نے قائداعظم یونیورسٹی، اسلام آباد کے طالب علم عبدالحفیظ بلوچ کی جھل مگسی سے گرفتاری کی تصدیق کی تھی۔ ان سے 15 مارچ کو دھماکہ خیز مواد برآمد ہونے کے الزام میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے طالب علموں کی جانب سے شروع کیے گئے اس احتجاج میں اب دیگر یونیورسٹیوں کے طالب علم بھی شامل ہو چکے ہیں۔

بلوچ طلبا کیوں سراپا احتجاج ہیں؟

طلبا کے مطابق وہ عید منانے اپنے آبائی علاقوں کو جاتے ہیں لیکن اس بار وہ عید منانے نہیں گئے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’اب تو ہماری ماں ہمیں کہتی ہے کہ عید پر گھر مت آئیں۔ آج لوگ عید منا رہے ہیں لیکن ہم عید کے دن یہاں احتجاج کر رہے ہیں۔‘

احتجاج کرنے والے بلوچ طلبا کو اب کئی دیگر خدشات اور تحفظات ہیں۔ ان بلوچ طلبا نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’حفیظ بلوچ کے بعد اب بیبرگ امداد بلوچ اب لاپتہ ہیں‘۔

لاہور میں پنجاب یونیورسٹی کے ہاسٹل سے گذشتہ ہفتے بیبرگ امداد بلوچ کو حراست میں لیا گیا تھا۔

ان کا کہنا ہے ان کے پیاروں، قریبی دوستوں اور رشتہ داروں کو پہلے ’اٹھایا‘ جاتا ہے اور بعد میں مقدمات بنائے جاتے ہیں۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ ’اب بلوچ طلبا کی پروفائیلنگ شروع کر دی گئی ہے جو سمجھ سے بالاتر ہے۔‘ ان کا مزید کہا تھا کہ کئی بلوچ طلبا کو یونیورسٹی کلاسوں میں جاکر ہراساں کیا جاتا ہے اور ان کے گھروں پر چھاپے مارے جاتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ان میں سے کئی ’اپنی شناخت چھپا کر گھومنے پر مجبور ہیں۔‘

’جب طلبا نے بلوچستان کے تعلیمی اداروں میں اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھا اور ہراسانی کا سامنا کیا تو انہوں نے پنجاب اور اسلام آباد کے تعلیمی اداروں کا رخ کیا تاکہ وہ محفوظ طریقہ سے اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں۔ لیکن اسلام آباد میں بھی یہی ہو رہا ہے۔ اٹھائے جانے والے طلبا پر جھوٹے مقدمات بنا کر منظرعام پر لایا جاتا ہے۔‘

ان طلبا کا کہنا ہے کہ ’ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ بلوچوں کی پروفائلنگ کیوں ہوتی ہے؟ ہم اسی لیے یہاں احتجاج کر رہے ہیں۔‘

انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے ایک خاتون طالب علم نے کہا کہ ’احتجاج ہماری مجبوری ہے۔ ہمیں عید پر سڑکوں پر اپنے پیاروں کی تصویریں لے کر پھرنے کا کوئی شوق نہیں ہے۔ ہمیں بھی گھر جا کر اپنے ماں باپ کے پاس عید منانا پسند ہے لیکن ہم میں خوف پیدا کر دیا گیا ہے۔‘

بیبرگ امداد کون ہیں؟

سرفراز نامی طالب علم بتاتے ہیں کہ ’27 اپریل 2022 کو اٹھائے جانے والے بیبرگ امداد یونیورسٹی میں زیر تعلیم ایک طالب علم ہے۔ انہیں کتابوں سے بہت زیادہ لگاؤ ہے۔ وہ چھ بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا ہے اور ہر وقت ہنستا مسکراتا۔ بیبرگ بلوچ اپنے بہن بھائیوں کا لاڈلا ہے۔‘

بلوچ طلبا کا کیا مطالبہ ہے؟

طلبا کہتے ہیں کہ ان کے ’پیاروں کے خلاف اگر کوئی کیس ہے تو انہیں منظرعام پر لاکر قانون کے مطابق کیسز عدالتوں میں چلائے جائیں۔ یہ ان کے مستقبل کا سوال ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’لاپتہ افراد کا معاملہ انسانی اور بنیادی حقوق پر حل کیا جائے۔ جن پر کوئی مقدمہ ہی نہیں انہیں واپس لایا جائے اور ان کے ساتھ آئین اور قانون کے مطابق سلوک کیا جائے۔‘

انتظامیہ کا موقف:

ادھر ایس ایس پی آپریشن اسلام آباد فیصل کامران نے انڈیپنڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ’میں نے مظاہرین سے ملاقات کرکے بات کی اور یہ بھی پوچھا کہ اگر انہیں کسی چیز کی ضرورت ہو تو وہ انتظامیہ فراہم کر سکتی ہے۔ چند مظاہرین سے مختلف مسائل جیسے کہ پروفائیلنگ کے حوالے سے بات ہوئی ہے۔‘

ایس ایس پی آپریشن کا کہنا تھا کہ ’میں سمجھتا ہوں ریاست، حکومت اور انتظامیہ کو مظاہرین کے پاس جا کر ان کے مسائل سننےاور حل کرنے چاہییں، جو ہماری حد تک چیزیں ہیں وہ ہمیں آگے تک کمیونیکیٹ کرنی چاہییں۔‘

انڈیپنڈنٹ اردو نے انسپکٹر جنرل پولیس اسلام آباد احسن یونس اور وفاقی وزیر انسانی حقوق ریاض پیرزادہ سے موقف لینے کے لیے مسلسل رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن رابطہ نہ ہو سکا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

 تاہم ماضی میں سکیورٹی اداروں نے ہمیشہ جبری گمشدگیوں میں ملوث ہونے کے الزامات کو مسترد کیا ہے اور کہا ہے کہ ’ہو سکتا ہے لاپتہ ہونے والوں میں سے کچھ افراد نے عسکریت پسند گروپوں میں شمولیت اختیار کی ہو۔‘

 2019 میں آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں بھی یہ واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ’ہر لاپتہ ہونے والا فرد ریاست سے منسوب نہیں ہوتا۔ جو افراد ریاست کے پاس ہیں وہ قانون کے تحت ہیں۔‘

علاوہ ازیں پاکستان نے بارہا بھارت پر بلوچستان میں عسکریت پسندی کو ہوا دینے کا الزام بھی عائد کیا ہے جس کی نئی دہلی مسلسل تردید کرتا رہا ہے۔

لاپتہ افراد کے کمیشن کے اعداد و شمار کیا کہتے ہیں؟

لاپتہ افراد کے کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ چھ سالوں میں سب سے زیادہ کیسز سال 2021 میں درج ہوئے جن کی تعداد 1460 ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق سال 2020 میں 415، 2019 میں 800، 2018 میں 1098، 2017 میں 868 جبکہ 2016 میں 728 لاپتہ افراد کے کیسز درج ہوئے۔

اس کے علاوہ لاپتہ افراد کے کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ دس سالوں میں 3257 لاپتہ افراد واپس آئے ہیں جبکہ 228 افراد کی لاشیں ملی ہیں۔

وکیل اور سماجی کارکن ایمان مزاری نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان میں سے بہت سے طلبا کے لیے گھر سے دور یہ پہلی عید نہیں ہے۔ ’وہ نہ تو یہاں اور نہ ہی اپنے آبائی علاقوں میں محفوظ ہیں۔‘

ایمان مزاری کہتی ہیں کہ ’وہ (طالبا) اس لیے یہاں موجود ہیں کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ اگر انہیں بلوچستان سے باہر لے جایا جائے تو کم از کم کسی کو پتہ چل جائے گا۔‘

ان کے مطابق جبری گمشدگیوں کا عمل بین الاقوامی قوانین کے تحت اور پاکستان میں انسانیت کے خلاف جرم ہے، جیسا کہ پاکستان کی سپریم کورٹ نے محبت شاہ کیس میں فیصلہ دیا تھا۔ کیمپس سمیت مجرموں کے لیے مستقل استثنی فیڈریشن کو ناقابل تلافی نقصان کا باعث بنے گا۔

پاکستان میں جبری طور پر لاپتہ افراد کے معاملے کو دیکھنے کے لیے سپریم کورٹ کی ہدایات کے بعد وزارت داخلہ نےانکوائری ایکٹ 1956 کے تحت ’کمیشن آف انکوائری آن انفورسڈ ڈس اپیئررنسز‘ (کمیشن برائے جبری گمشدگیاں)  تشکیل دیا جس کو بعد میں اقتدار میں آنے والی جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کے دور میں ترمیم کر کے کمیشن آف انکوائری ایکٹ 2017 کا نام دیا گیا تھا۔

 انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹ (آئی سی جے) نے جبری طور پر لاپتہ کیے جانے والے افراد کے معاملے کے لیے قائم کیے گئے کمیشن کی کارکردگی پر سوالات اٹھاتے ہوئے کمیشن کی مدت میں توسیع نہ کرنے کی سفارش بھی کی تھی۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان