گینگ ریپ کی شکایت لے کر آئی نابالغ لڑکی کا تھانے میں مبینہ ریپ

واقعہ ریاست اتر پردیش میں پیش آیا جہاں گینگ ریپ کی شکار 13 سالہ لڑکی کو للت پور کے تھانے میں ایس ایچ او نے مبینہ طور پر خود بھی زیادتی کا نشانہ بنایا۔

10 اکتوبر 2020 کو  ممبئی میں خواتین کے ساتھ جنسی تشدد کے خلاف ایک مظاہرہ (اے ایف پی)

بھارت میں ایک 13 سالہ لڑکی کو پولیس نے اس وقت مبینہ ریپ کا نشانہ بنایا جب وہ چار افراد کی جانب سے گینگ ریپ کی اور اغوا کی شکایت درج کرانے حکام کے پاس پہنچی تھیں۔

یہ واقعہ ریاست اتر پردیش میں پیش آیا جہاں ریپ کی شکار لڑکی کو للت پور کے تھانے میں ایس ایچ او نے مبینہ طور پر خود بھی زیادتی کا نشانہ بنایا۔

اس واقعے کا انکشاف گذشتہ منگل کو ایک این جی او کے مشاورتی اجلاس کے دوران ہوا۔ پولیس نے اس کے بعد سے تین ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے اور ان میں سے ایس ایچ او سمیت چھ افراد کے خلاف ابتدائی چارج شیٹ درج کر دی ہے جن پر لڑکی کے ساتھ جنسی زیادتی کا الزام ہے۔

معطل پولیس افسر مفرور رہا جب کہ نشریاتی ادارے این ڈی ٹی وی نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ مفرور اہلکار کو گرفتار کرنے کے لیے تین پولیس افسران پر مشتمل ایک ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔ (خبر رساں ادارے اے ایف پی نے رپورٹ کیا کہ لڑکی کا تعلق دلت برادری سے ہے اور افسر کو بدھ کو گرفتار کیا گیا۔)

اس کے علاوہ واقعے کے وقت پولیس سٹیشن میں تعینات تمام اہلکاروں کو ڈیوٹی سے ہٹا دیا گیا ہے اور ایک سینیئر پولیس افسر کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 24 گھنٹے میں کیس کی تحقیقات کرکے رپورٹ پیش کریں۔

لڑکی کی والدہ کی جانب سے گذشتہ منگل کو درج کرائی گئی شکایت کے مطابق چار افراد نے مبینہ طور پر ان کی 13 سالہ بیٹی کو اغوا کیا اور 22 اپریل کو انہیں بھوپال لے گئے جہاں انہوں نے ان کو گینگ ریپ کا نشانہ بنایا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

چار دن بعد یعنی 26 اپریل کو ملزمان نے فرار ہونے سے پہلے نابالغ لڑکی کو مقامی تھانے کے سامنے پھینک دیا۔ 

درج کی گئی شکایت کے مطابق پولیس افسر نے لڑکی کو اس کے والدین کو بتائے بغیر اس کی آنٹی کے حوالے کر دیا اور انہیں بیان ریکارڈ کرنے کے لیے ایک دن بعد واپس آنے کو کہا۔

شکایت میں کہا گیا ہے کہ اگلے دن پولیس اہلکار نے آنٹی کی موجودگی میں لڑکی کا مبینہ ریپ کیا۔

30 اپریل کو جب لڑکی کو این جی او ’چائلڈ لائن‘ کے حوالے کیا گیا تو اس نے اس جرم کا انکشاف کیا۔

اس کے بعد لڑکی کی کونسلنگ کرنے والی این جی او نے اس کے والدین سے رابطہ کیا اور ملزم کے ساتھ ساتھ لڑکی کی خالہ کے خلاف ابتدائی چارج شیٹ درج کرائی۔ 

للت پور پولیس چیف نکھل پاٹھک نے ایک بیان میں کہا: ’ایس ایچ او کو معطل کر دیا گیا ہے۔ وہ ایک نامی گرامی مجرم ہے اس لیے ہم نے اس کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں تشکیل دی ہیں۔‘

انہوں نے مزید بتایا: ’ایک این جی او لڑکی کو میرے دفتر لے کر آئی تھی۔ اس نے تفصیلات بتا دی تھیں۔ اس واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد میں نے اس بات کو یقینی بنایا کہ فوری طور پر مقدمہ درج کیا جائے۔‘

اس واقعے کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے بڑے پیمانے پر ردعمل کا اظہار کیا ہے جس میں کانگریس رہنما پریانکا گاندھی بھی شامل ہیں جنہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی کے خلاف دھواں دار بیان دیا۔ مودی کی یہ ہندو قوم جماعت ریاست میں بھی برسراقتدار ہے۔

انہوں نے ایک ٹویٹ میں لکھا: ’للت پور میں ایک 13 سالہ لڑکی کے ساتھ گینگ ریپ اور پھر جب وہ شکایت درج کرانے گئی تو پولیس انچارج کی جانب سے کیے گئے ریپ سے پتہ چلتا ہے کہ ’بلڈوزر‘ کے شور میں امن و امان کی حقیقی اصلاحات کو کس طرح دبایا جا رہا ہے۔ اگر پولیس سیٹشن خواتین کے لیے محفوظ نہیں ہیں تو وہ شکایت لے کر کہاں جائیں گی؟‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا