نئی حکومت بننے کے بعد قومی اسمبلی کا پہلا اجلاس

اجلاس کے 14 نکاتی ایجنڈے کے مطابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل مالی سال 22-2021 کی بجٹ جائزہ رپورٹ ایوان میں پیش کی۔

پاکستان پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری تصویر میں 11 اپریل 2022 کو نو منتخب وزیراعظم شہباز شریف قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے (اے ایف پی، پی آئی ڈی)

پاکستان میں 11 اپریل کو سابق وزیراعظم عمران خان کی حکومت کی تبدیلی کے بعد پیر کو قومی اسمبلی کا پہلا اجلاس ہوا ہے جس میں وزیراعظم شہباز شریف نے ایوان سے خطاب کیا۔

قومی اسمبلی سیکرٹیریٹ کی جانب سے سات مئی کو جاری کیے گئے نوٹیفیکیشن کے مطابق صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے نو مئی شام چار بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کیا تھا۔

اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے اجلاس کا 14 نکاتی ایجنڈا بھی جاری کیا گیا تھا جس کے مطابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل مالی سال 22-2021 کی بجٹ جائزہ رپورٹ اور فسکل اینڈ ڈیٹ پالیسی جنوری 2022 ایوان میں پیش کیں۔

ایجنڈے میں پمز ہسپتال کے پوسٹ گریجویٹ ٹرینیز کو تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر توجہ دلاؤ نوٹس اور ای او بی آئی کے تحت پینشنز میں اضافہ نہ ہونے سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس بھیجنا بھی شامل رہا۔

نیشنل ہائی ویز سیفٹی ترمیمی بل 2022 بھی ایجنڈے میں شامل تھا۔

نئی حکومت کے آنے کے بعد یہ اجلاس اس لیے بھی اہمیت کا حامل تھا کیونکہ سابق حکمران پارٹی پاکستان تحریک انصاف کے 123 اراکین کے استعفوں کی تصدیق کا عمل بھی ابھی ہونا باقی ہے، جبکہ قائد حزب اختلاف کے حوالے سے بھی حتمی فیصلہ ہونا ہے۔

حکومت کی اپوزیشن میں تحریک انصاف کے منحرف اراکین تھے، جبکہ ق لیگ کے حسین الہی بھی اپوزیشن بینچوں پر تھے۔

قومی اسمبلی کا موجودہ اجلاس نئے منتخب سپیکر راجہ پرویز اشرف کی صدارت میں ہوا، جبکہ نئے ڈپٹی سپیکر زاہد درانی ہیں۔

اجلاس سے قبل پارلیمانی امور کور کرنے والے صحافی خالد محمود نے انڈپینڈنٹ اردو نے سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ اجلاس اب بے رنگ رہے گا کیونکہ حکومت پر سخت تنقید کرنے لیے اب باقاعدہ اپوزیشن موجود نہیں ہے۔

انہوں نے کہا: ’لگتا یہی ہے کہ اب اجلاس میں یکطرفہ کارروائیاں ہی ہوں گی کیونکہ موجود اپوزیشن بھی نئی منتخب حکومت کی حامی ہے۔‘

قومی اسمبلی کا گذشتہ اجلاس سپریم کورٹ کے حکم پر اسمبلیاں بحال ہونے کے بعد نو اپریل کو طلب کیا گیا تھا جس میں سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ ہونا تھی۔

تاہم اجلاس میں کئی وقفے لیے گئے اور تحریک انصاف کے وزرا کی تقاریر جاری رہیں۔ تحریک انصاف کے وزرا شام کو ووٹنگ کروائے بغیر اسمبلی سے استعفوں کا اعلان کر کے واک آؤٹ کر گئے تھے۔

وزیراعظم ہاؤس اور پارلیمان میں سیاسی گہماگہمی اور پھر دیر رات عدالتیں کھلنے کے بعد رات گئے ووٹنگ کا عمل شروع ہوا جس میں 174اراکین نے عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کا ووٹ دیا۔ اس وقت کی تمام اپوزیشن جماعتوں کے اراکین ووٹنگ میں شامل تھے جبکہ تحریک انصاف کے منحرف اراکین نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان