سری لنکن وزیراعظم عوامی مظاہروں کے بعد مستعفی

سری لنکا کے وزیر اعظم مہندا راجا پاکسے نے آزادی کے بعد ملک کے بدترین معاشی بحران پر عوامی مظاہروں کے بعد استعفیٰ دے دیا ہے۔

سری لنکا کے وزیر اعظم مہندا راجا پاکسے  نو اگست 2020 کو دارالحکومت کولمبو میں (تصویر: اے ایف پی)

سری لنکا کے وزیر اعظم مہندرا راجا پاکسے نے آزادی کے بعد ملک کے بدترین معاشی بحران پر عوامی مظاہروں کے بعد پیر کو استعفیٰ دے دیا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق کھانے پینے کی اشیا، ایندھن اور دیگر اشیائے ضرورت کی شدید قلت سمیت ریکارڈ مہنگائی اور بجلی کی بندش نے 1948 میں برطانیہ سے آزادی کے بعد ملک کی سب سے زیادہ تکلیف دہ بدحالی میں بڑے پیمانے پر مشکلات پیدا کر دی ہیں۔

منگل کو نئے وزیر خزانہ نے عہدہ سنبھالنے کے صرف ایک دن بعد مستعفی ہونے کے اعلان کر دیا تھا۔ عوامی ہجوم نے ہفتے کے آخر سے کئی حکومتی شخصیات کے گھروں پر دھاوا بولنے کی کوشش کی جب کہ ملک میں زیادہ بڑے مظاہرے کیے گئے۔

اس سے پہلے حکومت سے الگ ہونے والوں میں راجاپاکسے کی اپنی سری لنکاپوڈوجانا پارٹی (ایس ایل پی پی) سے تعلق رکھنے والے 16 قانون ساز اور سابق اتحادی شامل ہیں۔

سری لنکن وزیراعظم کا یہ اقدام ممکنہ طور پر بحران زدہ ملک میں نئی کابینہ کے لیے راہ ہموار کرے گا۔ سری لنکن اخبار ڈیلی مرر کے مطابق، یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب سری لنکن صدر گوتبیا راجا پاکسے نے جمعے کو ایک خصوصی میٹنگ میں وزیر اعظم سے ملک میں جاری سیاسی بحران کے حل کے لیے مستعفی ہونے کی درخواست کی تھی۔

اب جبکہ وزیراعظم نے استعفیٰ دے دیا ہے، توقع ہے کہ صدر راجا پاکسے پارلیمان میں موجود تمام سیاسی جماعتوں کو ایک آل پارٹی کابینہ تشکیل دینے کے لیے مدعو کریں گے۔

قبل ازیں، اپوزیشن پارٹی سماگی جنا بالاوگیہ (ایس جے بی) نے تصدیق کی ہے کہ اس کے رہنما ساجیت پریماداسا عبوری حکومت میں وزیر اعظم کا عہدہ قبول نہیں کریں گے۔

پیر کی صبح وزیراعظم کے حامی مظاہرین نے ان کی سرکاری رہائش گاہ ٹیمپل ٹریز کے سامنے ایک مظاہرہ کیا اور وزیر اعظم مہندرا راجا پاکسے پر زور دیا کہ وہ استعفیٰ نہ دیں۔

وزیراعظم سے ملاقات کے بعد حامی مظاہرین کی ٹیمپل ٹریز کے قریب حکومت مخالف مظاہرین سے جھڑپ ہوئی۔ زخمی ہونے والے کم از کم 16 افراد کو کولمبو کے نیشنل ہسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔

استعفیٰ اس کے فوراً بعد سامنے آیا جب انہوں نے ایک ٹویٹ کیا جس میں عوام سے تحمل سے کام لینے کی اپیل کی گئی تھی۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا