ملکی وے کے مرکز میں واقع بلیک ہول کی پہلی تصویر جاری

یہ تصویر بہت بڑے بلیک ہول برج سیجیٹیریس* میں نہ صرف ہماری پہلی جھلک ہے بلکہ یہ حقیقت میں اس کی موجودگی کا پہلا براہ راست ثبوت بھی ہے۔

فلکیات اور فزکس کی پروفیسر فریال اوزیل 12 مئی 2022 کو واشنگٹن میں ہماری کہکشاں کے مرکز میں واقع سیجیٹیریس اے* بلیک ہول کی تصویر جاری کرنے کے حوالے سے پریس کانفرنس میں (اے ایف پی)

سائنسدانوں نے ہماری اس کہکشاں ملکی وے کے مرکز میں واقع بلیک ہول کی پہلی تصویر لی ہے۔

یہ تصویر بہت بڑے بلیک ہول برج سیجیٹیریس* میں نہ صرف ہماری پہلی جھلک ہے بلکہ یہ حقیقت میں اس کی موجودگی کا پہلا براہ راست ثبوت بھی ہے۔

سائنسدانوں کو طویل عرصے سے شبہ ہے کہ ہماری کہکشاں میں اتنی بڑے چیز موجود ہے: ستاروں کو کہکشاؤں کے مرکز میں کسی بڑی چیز کے گرد چکر لگاتے دیکھا گیا ہے۔

اگرچہ ایسا لگتا تھا کہ یہ چیز بلیک ہول کی طرح برتاؤ کرتی ہے لیکن اس کی تصدیق کرنا غیر مرئی اور ناممکن تھا کیونکہ بلیک ہول نظر نہیں آتا۔

نئی تصویر میں بلیک ہول تو نظر نہیں آیا، کیونکہ یہ مکمل طور پر سیاہ ہے۔ لیکن تصویر میں اس کے اردگرد چمکتی ہوئی روشنی کے رنگ دیکھا جا سکتا ہے، اور یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ کیسے روشنی اس خطے کے گرد مڑتی ہے۔

محققین بلیک ہول کو ’وہ گوند‘ قرار دیتے ہیں جو کہکشاں کو ایک ساتھ جوڑے رکھتی ہے۔

یونیورسٹی کالج لندن سے تعلق رکھنے والی زیری یونسی، جو یہ تصویر لینے والے دوربین ایونٹ ہورائزن ٹیلی سکوپ (ای ایچ ٹی) میں محقق ہیں، نے کہا: ’یہ ہمیں یہ سمجھنے کے لیے کلیدی کردار ادا کرے گی کہ ملکی وے کیسے بنی ہو گی اور مستقبل میں اس کا ارتقا کیسا ہوگا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کسی بھی بلیک ہول کی تصویر پہلی بار 2019 میں جاری کی گئی تھی۔ یہ ایم 87 بلیک ہول کی تھی، جو زمین سے 5.5 کروڑ نوری سال کے فاصلے پر ہے۔ اس کی تصویر بھی ایونٹ ہورائزن ٹیلی سکوپ نے لی تھی۔

حالیہ تصویر بنانے میں دنیا بھر کے 300 سے زیادہ محققین نے پانچ سال تک کام کیا ہے۔ اگرچہ سیجیٹیریس اے* صرف 27 ہزار نوری سال کے فاصلے پر ہے لیکن اس کے باوجود اس کی تصویر لینا چاند پر موجود ڈونٹ کی تصویر کھینچنے کے مترادف تھا۔

اب بلیک ہولز کی دو ان مثالوں سے سائنسدان ان دونوں کا موازنہ اور  فرق کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔

تائیوان میں موجود انسٹی ٹیوٹ آف آسٹرونومی اینڈ ایسٹروفزکس، اکیڈمیا سینیکا، سے تعلق رکھنے والے ای ایچ ٹی سائنسدان کیچی اساڈا نے کہا کہ اب ہم ان دونوں سپرمیسیو بلیک ہولز کے درمیان تضادات کا مطالعہ کر سکتے ہیں تاکہ اس اہم عمل کے بارے میں قیمتی نئی معلومات حاصل کی جا سکیں۔

ہمارے پاس کائنات میں ایک دور اور ایک نزدیک والے کنارے پر دو بڑے بلیک ہولز کی تصاویر ہیں تاکہ ہم اس بات کی تحقیق میں ماضی کے مقابلے بہت آگے بڑھ سکیں کہ کشش ثقل ان دو انتہائی حالات میں کس طرح کام کرتی ہے۔

دونوں بلیک ہول قابل ذکر طور پر ایک جیسے ہیں۔ ایم 87* کائنات کے سب سے بڑے بلیک ہولز میں سے ایک ہے، ہماری کہکشاں کے بیلک ہول سے تقریباً 1000 گنا بڑا ہے اور ایک بہت مختلف کہکشاں کے مرکز میں ہے، لیکن ان دونوں کی ساخت بہت ملتی جلتی ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آئن سٹائن درست تھے اور ہمیں یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ بلیک ہولز کی ساخت میں دراصل کیا ہو رہا ہے۔

ای ایچ ٹی سائنس کونسل کی شریک چیئرمین سیرا مارکوف نے کہا: ’ہمارے پاس دو بالکل مختلف اقسام کی کہکشائیں اور دو بہت مختلف بلیک ہول ہیں لیکن کناروں سے یہ بلیک ہولز حیرت انگیز طور پر ایک جیسے نظر آتے ہیں۔ اس سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ عمومی اضافیت ان کو قریب سے ایک ہی طرح چلاتی ہے اور دور سے ہمیں نظر آنے والے تضادات بلیک ہولز کے ارد گرد موجود مواد میں فرق کی وجہ سے ہونے چاہیں۔‘

ہو سکتا ہے آئن سٹائن سے کہیں غلطی ہوئی ہو اور سائنسدانوں کو امید ہے کہ مستقبل کی تصاویر ہمیں ایونٹ ہورائزن یا بلیک ہول کے بالکل کناروں کے بارے میں مزید بتا سکتی ہیں۔

جہاں آئن سٹائن کے نظریے کی وضاحت ہوجائے گی، وہیں سائنسدانوں کو امید ہے کہ مزید تفصیلی تصاویر سے وہ ممکنہ طور پر اس نکتے کو دیکھ سکیں گے جہاں یہ سب ہوا ہے۔

ڈاکٹر یونسی نے کہا: ’ایونٹ ہورائزن سپیس اور ٹائم کا لفظی کنارہ ہے۔ سپیس اور ٹائم کے بارے میں ہم جو کچھ جانتے ہیں وہ ایونٹ ہورائزن پر جاکے ختم ہو جاتا ہے۔‘

’وہاں ان (ٹائم اور سپیس) کا کوئی مطلب نہیں ہے۔ کسی بھی صورت میں اس کو عبور کیا تو آپ کبھی واپس نہیں آئیں گے، یہ اس حقیقی کائنات کا لفظی کنارہ ہے، اور اب ہم اس معاملے کو بالکل  بہت قریب دیکھنا شروع کر رہے ہیں- میں سمجھتی ہوں کہ یہ حیرت انگیز ہے کہ انسان اس کا تصور کرنے کی صلاحیت بھی حاصل کر سکتا ہے۔‘

محققین کو اب امید ہے کہ وہ ہمارے اپنے بلیک ہول کے متعلق مزید تفصیلات جمع کرنے کے ساتھ ساتھ ان میں سے دیگر کی تصاویر لیں گے، جس سے اب بھی زیادہ تر پراسرار اشیا کا مزید تفصیلی موازنہ اور تفہیم حاصل ہوگی۔

 بہتر تصاویر کی وجہ سے زیادہ گرینولیٹی، زیادہ ویولینتھ اور یہ دیکھنے کی صلاحیت بھی ملے گی کہ وقت گزرنے کے ساتھ بلیک ہول کو کیا ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں سائنسدان بلیک ہول کے گرد جو کچھ ہو رہا ہے اس کی ولاسٹی اور سپیڈ بھی جان سکیں گے۔

ان نتائج کو جریدے دی ایسٹرو فزیکل جرنل لیٹرز کے خصوصی ایڈیشن میں شائع ہونے والے مقالات کی ایک سیریز میں بیان کیا گیا ہے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی سائنس