زمین سے قریب ترین بلیک ہول کون سا ہے؟

اگر کوئی بلیک ہول نظامِ شمسی کے قریب آ گیا تو اس سے زمین کو کیا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے؟

لارج میجیلینک کلاؤڈ میں موجود ایک بلیک ہول کی خیالی تصویر (کری ایٹو کامنز)

دو سال پہلے ماہرینِ فلکیات نے اعلان کیا تھا کہ زمین سے صرف ایک ہزار نوری سال کے فاصلے پر ایک بلیک ہول موجود ہے، تاہم گذشتہ ہفتے انہوں نے اس خیال پر نظرِ ثانی کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بلیک ہول وجود نہیں رکھتا اور انہیں دوربین سے لی جانے والی تصویر میں ’سراب‘ جیسے عمل کی وجہ سے بلیک ہول کا دھوکہ ہوا تھا۔

ہوا یوں کہ HR 6819  کہلانے والے دو ستارے ایک دوسرے سے بےحد قریب چکر کاٹ رہے تھے اور ایک ستارے نے دوسرے ستارے کا موجود مواد تیزی سے اپنی طرف کھینچ کر ستارے کا بڑا حصہ ہڑپ کر لیا۔ عام طور پر ایسا بلیک ہول کرتے ہیں جس سے یہ التباس پیدا ہو گیا۔

اگر HR 6819 نہیں تو پھر زمین سے قریب ترین بلیک ہول کون سا ہے؟

امریکہ کی اوہائیو سٹیٹ یونیورسٹی کے سائنس دانوں کے مطابق یہ اعزاز ’یونی کورن‘ نامی بلیک ہول کو حاصل ہے جو زمین سے ڈیڑھ ہزار نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے۔

اس کی خاص بات یہ ہے کہ یہ دوسرے بلیک ہولز کے مقابلے پر بہت ہلکا پھلکا ہے اور اس کا وزن صرف تین سورجوں کے برابر ہے۔ اس کے مقابلے پر عام بلیک ہول انتہائی بھاری ہوتے ہیں۔

مثال کے طور پر ہماری کہکشاں کے وسط میں واقع بلیک ہول، جو قوس A*  یا Sagittarius A* کہلاتا ہے، 40 لاکھ سورجوں کے برابر وزنی ہے۔

بلیک ہول دوربین سے نہیں دیکھے جا سکتے، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے، وہ سیاہ ہوتے ہیں اور کسی قسم کی روشنی خارج نہیں کرتے۔ 

بلیک ہولز کو دیکھنے کے لیے سائنس دان دوسرے طریقے استعمال کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر یونیکورن کا پتہ یوں چلا کہ سائنس دانوں نے دیکھا کہ یہ بلیک ہول ایک قریبی سرخ ستارے کے گرد چکر کاٹ رہا ہے، جس سے نہ صرف ستارے سے خارج ہونے روشنی کی شدت مسلسل کم زیادہ ہوتی رہتی ہے۔

اس کے علاوہ یہ بھی پتہ چلا کہ کوئی چیز اس ستارے کو کھینچ کر اس کی شکل کو تبدیل کر کے اسے گول کی بجائے لمبوترا بنا رہی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس سے سائنس دانوں نے نتیجہ اخذ کیا کہ یہ چیز بلیک ہول ہی ہو سکتی ہے۔

کیا یہ بلیک ہول زمین کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے؟

بلیک ہول انتہائی طاقتور کششِ ثقل کے مالک ہوتے ہیں اور ان کی کشش اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ کائنات کی سب سے تیز چیز یعنی روشنی بھی ان کے شکنجے سے نہیں نکل سکتی۔

ظاہر ہے کہ اگر کوئی بلیک ہول نظامِ شمسی کے قریب سے گزرا تو یہ زمین کے لیے بری خبر ہو گی کیوں کہ وہ سیاروں اور سیارچوں کے مدار کو اتنا تلپٹ کر سکتا ہے کہ وہ اپنے مقرر راستے سے ہٹ کر ایک دوسرے سے ٹکرانا شروع کر دیں۔

اس کے علاوہ بعض سیارے بھٹک کر نظامِ شمسی سے باہر بھی نکل سکتے ہیں۔ اور اگر بلیک ہول نظامِ شمسی کے اندر داخل ہو گیا تو وہ سیاروں، حتیٰ کہ سورج کو ہڑپ کر سکتا ہے۔

تاہم اس کا امکان بہت کم ہے کیوں کہ قریب ترین بلیک ہول بھی ہم سے انتہائی دور ہے۔

اب تک ماہرینِ فلکیات ہماری کہکشاں کے اندر ایک سو کے قریب بلیک ہولز کا سراغ لگا چکے ہیں۔

زمین کو بلیک ہولز سے کتنا خطرہ ہے؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے امریکی خلائی ادارے ناسا کا کہنا ہے کہ ’کائنات بہت بڑی جگہ ہے۔ بلیک ہول کی کششِ ثقل خلا کی وسعت کے مقابلے پر بہت کم ہے۔‘

’یہ اصول ہماری کہکشاں کے وسط میں واقع عظیم بلیک ہول پر بھی لاگو ہوتا ہے، جو اپنے آس پاس موجود ستارے ہڑپ کر چکا ہے، لیکن اس سے دور دراز پائے جانے والے ستارے محفوظ ہیں۔‘

 

زیادہ پڑھی جانے والی سائنس