فلسطینی صحافی کی آخری رسومات میں شریک افراد پر اسرائیلی فورسز کا دھاوا

اسرائیلی پولیس نے مشرقی بیت المقدس میں الجزیرہ کی رپورٹر شیرین ابو عاقلہ کی آخری رسومات میں شریک افراد پر دھاوا بول دیا جس سے کئی افراد زخمی ہو گئے۔

اسرائیلی پولیس نے مشرقی بیت المقدس میں الجزیرہ کی رپورٹر شیرین ابو عاقلہ کی آخری رسومات میں شریک افراد پر دھاوا بول دیا جس سے کئی افراد زخمی ہو گئے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پرانے شہر میں ادا کی جانے والی آخری رسومات میں ہزاروں افراد شریک ہوئے تاہم تدفین کے موقع پر اسرائیلی پولیس نے شرکا کے خلاف کارروائی کی۔

اسرائیل اور فلسطین نے فلیسطینی نژاد امریکی صحافی کے قتل کا الزام ایک دوسرے پر عائد کیا ہے۔

یورپین یونین نے صحافی کی آخری رسومات میں شریک افراد کے خلاف اسرائیلی فورسز کی کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’اسرائیلی پولیس کی جانب سے طاقت کے غیر ضروری استعمال سے انہیں صدمہ پہنچا ہے۔‘

بیت المقدس حلال احمر نے کہا ہے کہ شیرین ابو عاقلہ کی آخری رسومات کے دوران 33 افراد زخمی ہوئے جن میں سے چھ کو ہسپتال داخل کرانا پڑا۔

دوسری جانب اسرائیلی پولیس نے کہا ہے انہوں نے چھ افراد کو حراست میں لیا ہے۔ 

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق فلسطینی حکام نے ابو عاقلہ کی ہلاکت کو اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں قتل قرار دیا ہے۔

دوسری جانب اسرائیل کی حکومت نے ابتدا میں کہا تھا کہ فلسطینیوں کی فائرنگ ابو عاقلہ کے قتل کی وجہ ہو سکتی ہے تاہم حکام نے یہ بھی کہا کہ وہ اسرائیل کی جانب سے چلنے والی گولیوں سے ان کی ہلاکت کو خارج از امکان نہیں قرار دے سکتے۔

اسرائیلی فورسز نے جمعے کو کہا کہ فلسطینیوں کے ایک گروپ نے ہسپتال کے احاطے میں پتھراؤ شروع کیا۔

ان کا کہنا ہے کہ ’انہوں نے پولیس کو کارروائی کرنے پر مجبور کیا۔‘

تاہم اس حوالے سے فلسطینی حکام کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

اس واقعے کے چند منٹ بعد ہی صحافی ابو عاقلہ کا تابوت ایک گاڑی پر رکھ کر (Cathedral of the Annunciation of the Virgin) لے جایا گیا جہاں ان کی آخری رسومات ادا کی گئیں۔

اسرائیلی فوج نے جمعے کو کہا کہ ان کی ابتدائی تحقیقات کا ’نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ابو عاقلہ کو لگنے والی گولی کے حوالے سے کچھ بھی وثوق سے کہنا ممکن نہیں۔‘

فوج کا کہنا ہے کہ تحقیقات سے دو ممکنات نے جنم لیا ہے۔

’ایک ابو عاقلہ کو ان فلسطینیوں نے گولی ماری جنہوں نے اسرائیلی فوجی گاڑیوں پر درجنوں گولیاں فائر کیں۔ جو کہ وہی سمت بنتی ہے جہاں ابو عاقلہ موجود تھیں۔‘

’دوسری یہ کہ جیپ سے جوابی فائر کرنے والے اسرائیلی سپاہی نے حادثاتی طور پر انہیں مار دیا ہو۔‘

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ یہ گاڑی ابو عاقلہ سے تقریباً دو سو میٹر دور تھی۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا