بھارت میں ایس سی او اجلاس: پاکستان، چین اور روس کی شرکت

یوکرین پر روسی حملے اور لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) پر چین اور بھارت کے درمیان کشیدگی کے بعد بھارت میں ہونے والی یہ اس طرح کی پہلی ملاقات ہے۔

اجلاس میں پاکستان سمیت روس، چین، ایران، تاجکستان، کرغستان اور قازقستان کے وفود بھی شریک ہیں (فائل فوٹو/ اے این آئی)

شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے علاقائی انسداد دہشت گردی ادارے کا اجلاس بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں ہو رہا ہے، جس میں پاکستان بھی شریک ہے۔

بھارتی نیوز ویب سائٹ ’دا ہندو‘ کے مطابق 16 مئی سے شروع ہونے والا یہ اجلاس 19 مئی تک جاری رہے گا جس میں پاکستان کے علاوہ روس، چین، ایران، تاجکستان، کرغستان اور قازقستان کے وفود بھی شریک ہیں۔

بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق پاکستان کا تین رکنی وفد واہگہ بارڈر کے راستے بھارت پہنچا جہاں وہ 20 مئی تک قیام کرے گا۔

دی ہندو کے مطابق یوکرین پر روسی حملے اور لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) پر چین اور بھارت کے درمیان کشیدگی کے بعد بھارت میں ہونے والی یہ اس طرح کی پہلی ملاقات ہے۔

بھارت کے ایس سی او-آر اے ٹی ایس میکانزم کے چیئرپرسن بننے کے بعد سے یہ اجلاس اس سال کے لیے شیڈول متعدد تقریبات میں سے ایک ہے اور اس میں میڈیا کے داخلے پر پابندی ہے۔

بھارت کے ڈیجیٹل پلیٹ فارم دی پرنٹ کی رپورٹ کے مطابق اس ملاقات میں افغانستان توجہ مرکز ہوگا۔

اسی طرح ایک سیاسی تجزیہ کار نصیر احمد شیرزئی نے کہا کہ دہشت گردی کا مقابلہ بھی مذاکرات کے ایجنڈے میں شامل ہے۔

ازبکستان کانفرنس

وسطی ایشائی ملک ازبکستان کے عبوری وزیر خارجہ ولادی میرنوروف نے اس سے قبل کامن ویلتھ آف انڈپینڈنٹ سٹیٹ (سی آئی ایس) وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں اعلان کیا تھا کہ تاشقند جولائی کے آخر میں افغانستان کے متعلق ایک بین الاقوامی کانفرنس کی میزبانی کرے گا۔

افغان ٹی وی چینل طلوع نیوز کے مطابق ازبک وزیر خارجہ نے افغانستان کے بگڑتے معاشی حالات پر تحفظات کا اظہار کیا ہے جبکہ طالبان کی جانب سے تاحال اس پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔

ایک سیاسی تجزیہ کار احمد خان اندر نے کہا کہ ’اس ملاقات میں دنیا اور علاقائی ممالک کو ہمارے ملک کے بارے میں سوچنا چاہیے اور کوئی بھی ممکنہ انسانی امداد فراہم کرنی چاہیے۔‘

گذشتہ نو ماہ کے دوران افغانستان کے حوالے سے کئی بین الاقوامی ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔

بھارتی سفارت خانہ

ذرائع کے مطابق بھارت کے جلد ہی افغانستان میں سفارت خانہ دوبارہ کھولنے کے بھی امکانات ہیں تاہم اعلیٰ سطح کی سفارتی نمائندگی کے بغیر۔

انڈین ایکسپریس کی رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ سکیورٹی عہدیداروں کی ایک ٹیم زمینی صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے فروری میں کابل گئی تھی۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ سفارت خانہ ممکنہ طور پر شروع میں رابطے کے مقاصد کے لیے کھولا جائے گا اور پھر قونصلر خدمات تک بڑھایا جا سکتا ہے۔

کابل میں بھارتی سفارت خانہ گذشتہ برس اگست میں طالبان کے حکومت میں آنے کے بعد سے بند ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا