سرحد پارسے دہشت گردی: ’پاکستان طالبان کی طرف دیکھ رہا ہے‘

وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے ایک انٹرویو میں اس امید کا اظہار کیا کہ افغانستان کی حکومت اپنی سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔‘

18 مئی 2022 کی اس تصویر میں پاکستانی وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کو نیویارک میں اپنے امریکی ہم منصب اینٹنی بلنکن سے ملاقات کے موقع پر دیکھا جاسکتا ہے (فوٹو: اے ایف پی)

وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اسلام آباد افغانستان میں طالبان حکومت کی طرف دیکھ رہا ہے کہ وہ پاکستانی سرزمین پر سرحد پار سے دہشت گردی کی سرگرمیوں میں اضافے کی حوصلہ شکنی کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔

امریکہ کے دورے پر موجود وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے ’سی این این‘ کی کرسٹین امان پور کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں کہا: ’ہم نہ صرف اس صورت حال پر نظر رکھتے رہتے ہیں بلکہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اپنی طرف سے کام کرتے ہیں کہ ہم دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنے کی کوشش کر سکتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ افغانستان کی حکومت اپنے بین الاقوامی عزم پر قائم ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ کابل میں موجودہ انتظامیہ کو قبول کرنے کے لیے پاکستان کو کیا کرنا پڑے گا؟ تو بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اس سلسلے میں کوئی بھی فیصلہ عالمی برادری کے ساتھ بات چیت کے بعد کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا: ’ہم انگیج کرنے کی وکالت کرتے رہتے ہیں، خاص طور پر افغانستان میں پیدا ہونے والے انسانی بحران کی روشنی میں۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اسلام آباد نے خواتین کو حقوق دینے سے متعلق افغان طالبان سے بات کی ہے تو وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ مغرب کا مسئلہ نہیں ہے۔ ’میں خواتین کے حقوق یا تعلیم کے حقوق کو اسلام میں ہمیں دیئے گئے حقوق کے طور پر دیکھتا ہوں۔ ہم اس بات پر زور دیں گے کہ طالبان اپنے بین الاقوامی وعدوں پر عمل کریں اور افغانستان کی خواتین کے حقوق کو یقینی بنائیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ کابل میں ہونے والی پیش رفت کا پاکستانی عوام کی زندگیوں پر براہ راست اثر پڑا ہے۔ ’ہمیں ترجیح دینی چاہیے، انسانی بحران کو کم کرنا چاہیے، اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ کوئی معاشی تباہی نہ ہو اور طالبان حکومت کو بین الاقوامی وعدوں پر قائم رکھیں۔ یہ پاکستان نہیں بلکہ امریکہ تھا جس کے کابل پر قبضے سے قبل طالبان حکومت سے براہ راست رابطہ تھا۔ پاکستان اور عالمی برادری کا خیال ہے کہ اگر ہم افغانستان کے لوگوں کو ایک بار پھر ترک کر دیتے ہیں تو یہ ہمارے کسی بھی مفاد میں نہیں ہو گا۔‘

ماحولیات، خوراک کے مسائل پر دنیا کے ساتھ کام کو تیار ہیں: بلاول

ریڈیو پاکستان کے مطابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے جمعرات کو ’گلوبل فوڈ سکیورٹی کال ٹو ایکشن‘ منسٹریل اجلاس میں خطاب میں کووڈ 19، ماحولیاتی تبدیلی اور تنازعات کی وجہ سے فوڈ سکیورٹی کو لاحق خطرات پر مشترکہ ایکشن پر زور دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ حالیہ جیو پولیٹیکل واقعات کی وجہ سے دنیا میں خوراک کی فراہمی میں استحکام پر اثر پڑا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس صلاحیت ہے کہ وہ اپنی فوڈ سکیورٹی ضروریات پورا کر سکے اور ساتھ ساتھ خطے اور دنیا کے لوگوں کی بھی اس حوالے سے مدد کر سکے، تاہم وہ اپنی پوری صلاحیت سے فائدہ نہیں اٹھا سکا ہے۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کو کرونا وبا، ماحولیاتی تبدیلی اور غربت کے مسائل کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے خوراک، پانی اور توانائی کی فراہمی پر اثر پڑا ہے۔

بقول بلاول: ’بھوک کی کوئی شہریت نہیں ہوتی، غربت کو رنگ کی اور ماحولیاتی بحران کو نسل کی پروا نہیں ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان کے عوام کو انسانی امداد فراہم کرنے میں قائدانہ کردار ادا کر رہا ہے۔

اس سے قبل وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیریش سے ملاقات میں زور دیا کہ پاکستان یو این چارٹر کے اصولوں پر عمل پیرا ہے اور اس نے ہمیشہ ان اصولوں کے مطابق عالمی مسائل کے حل کی حمایت کی ہے۔

امریکہ سے مضبوط تعلقات

وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے بدھ کو اپنے امریکی ہم منصب اینٹنی بلنکن سے بھی ملاقات کی، جس کے بعد دونوں رہنماؤں کا کہنا تھا کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق بلاول بھٹو زرداری امریکہ کی طرف سے بلائے گئے وزارتی اجلاس میں شرکت کے لیے بدھ کی رات نیویارک پہنچے، جہاں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں اینٹنی بلنکن کے ساتھ ہونے والی اپنی پہلی ملاقات کے آغاز میں انہوں نے امریکی اقدام کا خیرمقدم کیا۔

بلاول بھٹو نے کہا: ’میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان روابط بڑھانے، تجارتی تعلقات کو بہتر بنانے اور سرمایہ کاروں اور کاروباری افراد کے مل کر کام کے لیے مواقعے پیدا کرنے کی خاطر آپ کی انتظامیہ کے ساتھ  کام کرنے کے موقع کا بھی منتظر ہوں۔‘

بلنکن نے غذائی تحفظ پر ہونے والے اجلاس میں پاکستان کی شرکت کا خیر مقدم کیا اور وزیر خارجہ کے ساتھ اپنی ملاقات کو ’ان بہت سے مسائل پر بات کرنے کی خاطر ایک اہم موقع قرار دیا جن پر ہم مل کر کام کر رہے ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بلنکن کا کہنا تھا: ’ہم اپنی توجہ امریکہ اور پاکستان کے درمیان معاشی اور تجارتی تعلقات اور علاقائی سلامتی کو مضبوط بنانے کے عمل پر مرکوز کرنا چاہتے ہیں۔‘

پاکستان اس وقت جی 77 کی سربراہی کر رہا ہے۔ اقوام متحدہ میں قائم اس طاقتور اتحاد میں چین سمیت 134 ممالک شامل ہیں، جن میں سے زیادہ تر ملک ترقی پذیر ہیں۔

بلنکن کا کہنا تھا: ’امریکہ جی 77 کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے اور بات چیت کے لیے پرعزم ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ انہیں امید ہے کہ پاکستانی وزیر خارجہ کے ساتھ اس معاملے پر بات ہو گی۔

بعد ازاں امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا کہ بلنکن نے ’مضبوط اور خوشحالی پر مبنی تعلقات کی مشترکہ خواہش کی توثیق‘ کے لیے بلاول بھٹوزرداری کے ساتھ ملاقات کی۔

بلنکن اور بلاول بھٹو زردای کے درمیان 45 منٹ جاری رہنے والی ملاقات کے بارے میں نیڈ پرائس میں کہنا تھا کہ ملاقات میں انہوں نے ’ماحولیات کے شعے میں سرمایہ کاری، تجارت، صحت اور عوامی سطح پر روابط پر تبادلہ خیال کیا۔‘

امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا: ’انہوں نے علاقائی امن، انسداد دہشت گردی، افغانستان میں استحکام، یوکرین کی حمایت اور جمہوری اصولوں کی اہمیت پر زور دیا۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان