پی ٹی آئی مارچ: ’اربوں‘ کا مالی و جانی نقصان

سب سے زیادہ نقصان کا تخمینہ لاہور میں لگایا جا رہا ہے جہاں پولیس نے مارچ سے دو روز پہلے ہی کارروائیوں کا آغازکر دیا تھا۔

پولیس ترجمان کے مطابق مارچ کے دوران اہلکاروں کی ہلاکت اور زخمی ہونے کے ساتھ سکیورٹی آلات اور گاڑیوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔(تصویر: انڈپینڈنٹ اردو)

پنجاب پولیس کا کہنا ہے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ’لانگ مارچ‘ کے دوران پولیس کے تین اہلکار جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جبکہ پی ٹی آئی نے بھی پولیس کی کارروائیوں کے دوران اپنے پانچ کارکنان کی ہلاکت کا دعوی کیا ہے۔

پی ٹی آئی کے مارچ کے دوران ہونے والے جانی اور مالی نقصان کے حوالے سے پاکستان تحریک انصاف، پنجاب پولیس اور انجمن تاجران نے اپنے اپنے نقصانات کی تفصیلات سے انڈپینڈنٹ اردو کو آگاہ کیا ہے۔

اس حوالے سے سب سے زیادہ نقصان کا تخمینہ لاہور میں لگایا جا رہا ہے جہاں پولیس نے مارچ سے دو روز قبل ہی کارروائیوں کا آغازکر دیا تھا، لاہور کے علاوہ پنجاب کے دیگر شہروں میں بھی تحریک انصاف کے کارکنان کے خلاف کریک ڈاؤن کیا گیا تھا۔

پولیس کے مطابق مارچ کےدوران پولیس کے تین اہلکار جان سے گئے جبکہ کئی زخمی بھی ہوئے ہیں۔

پولیس نے پی ٹی آئی کے کئی رہنماؤں کو23 اور 24 مئی کی رات لانگ مارچ میں شمولیت سے روکنے کی کوشش کی مگر 25 مئی کو صبح سویرے ہی کارکنان کو لاہور میں ہی روک لیا گیا۔

اس مقصد کے لیے شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر کنٹینرز لگائے گئے اور کارکنان کو منتشر کرنے کے لیے آنسوگیس کی شیلنگ کی گئی جس کے بعد پی ٹی آئی کے کارکنوں نے ردعمل میں پولیس کی کئی گاڑیاں توڑ دیں اور بعض مقامات پر توڑ پھوڑ بھی کی۔

مارچ کے دوران پی ٹی آئی کے ایک کارکن راوی پل پر کنٹینر ہٹاتے ہوئے گر کر ہلاک بھی ہوئے تھے۔

پولیس نے شہر لاہور کے مختلف تھانوں جن میں تھانہ گلبرک، بھاٹی گیٹ، شاہدرہ شامل ہیں میں تحریک انصاف کے رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ کے مقدمات بھی درج کر لیے ہیں۔

پولیس ترجمان کے مطابق مارچ کے دوران اہلکاروں کی ہلاکت اور زخمی ہونے کے ساتھ سکیورٹی آلات اور گاڑیوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔

ادھر انجمن تاجران کے مطابق اس صورت حال کے باعث تاجروں کو ایک دن میں کروڑوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

 معاشی ماہرین بھی ان دنوں میں معیشت کو اربوں روپے کے نقصان کا تخمینہ لگا رہے ہیں۔

دوسری جانب پی ٹی آئی کے مطابق ان کے کارکنان اور رہنماؤں کو بھی جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

محکمہ پولیس کا کیا نقصان ہوا؟

محکمہ پولیس کی جانب سے مکمل نقصان کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے تاہم ابھی تک جو تفصیل سامنے آئی ہے اس کے مطابق ترجمان پنجاب پولیس اسامہ محمود نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’لانگ مارچ کے دوران مشتعل مظاہرین نے مختلف اضلاع میں پولیس اہلکاروں پر تشدد کیا، جس سے صوبے کے مختلف اضلاع میں فرائض سر انجام دینے والے پنجاب پولیس کے تین اہلکار ’شہید‘ جبکہ 100 اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔‘

ان کے مطابق: ’لاہور میں فرائض کی ادائیگی کے دوران ایک اہلکار جبکہ اٹک میں دو اہلکار مارے گئے۔ جبکہ لاہور میں کانسٹیبل کمال احمد کو فائرنگ کرکے قتل کیا گیا۔ اٹک میں دواہلکار مدثر عباس اور محمد جاوید ڈیوٹی پر جاتے ہوئے بس الٹنے سے جان سے گئے۔‘

اسامہ محمود کے بقول ’لاہور میں 34، اٹک میں 48، سرگودھا میں نو، میانوالی، راولپنڈی، جہلم اور دیگر شہروں میں بھی متعدد اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’مشتعل مظاہرین نے پولیس کی 11 گاڑیاں توڑیں، قیمتی سامان، سرکاری املاک کو کروڑوں روپے کانقصان پہنچایا اور اسلحہ بشمول دو ایس ایم جیز بھی چھین لی گئیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ابھی نقصان کی مالیت کا تخمینہ لگایا جارہا ہے تاہم ایک اندازہ کے مطابق محکمہ پولیس کو 10 سے 15 کروڑ کا مالی نقصان ہوا ہوگا۔ اس کے علاوہ جو آنسو گیس کے شیل بڑی تعداد میں استعمال کرنا پڑے، گاڑیوں کا پیٹرول جو خرچ ہوا، اہلکاروں کو کھانا اور پانی پہنچانے پر خرچ ہونے والا فنڈ الگ ہے۔‘

پی ٹی آئی کا کیا نقصان ہوا؟

تحریک انصاف کو پولیس کی جانب سے رکاوٹوں کا سامنا کرتے ہوئے شدید نقصان اٹھانا پڑا۔

 ترجمان پی ٹی آئی پنجاب مسرت جمشید نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’حکومت جو نقصان کے دعوے کر کے سیاست چمکا رہی ہے وہ یہ بتائے کہ تحریک انصاف کے کارکنوں نے کہاں قانون ہاتھ میں لیا؟ جب پولیس نے لاٹھی چارج اور شیلنگ کی تو لوگوں نے اپنی جان بچانے کی کوشش کی اور جو نقصان تحریک انصاف کے کارکنوں کا ہوا ہے اس کا ازالہ کون کرے گا؟‘

مسرت جمشید چیمہ کے بقول ’ہمارے پانچ کارکن مارے گئے اور سینکڑوں زخمی کیے گئے۔ ڈاکٹر یاسمین راشد اور ہمارے چار دیگر رہنماؤں اور کارکنان کی سینکڑوں گاڑیاں توڑ دی گئیں۔ املاک کو نقصان ہمارے کارکنوں نے نہیں بلکہ ان کو پکڑتے ہوئے پولیس نے خود پہنچایا ہے۔‘

ان کے مطابق ’بسیں تک توڑ کر ان کے ٹائروں سے ہوا نکال دی گئی، لوگ سامان نکال کر لے گئے۔ گاڑیوں سمیت کارکنوں کو پکڑ کر گاڑیاں توڑی گئیں یہ کروڑوں کا نقصان ہے جو ہمارے رہنماؤں اور کارکنوں کو خود ادا کرنا پڑے گا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’لبرٹی چوک پر احتجاج کرنے والے پر امن کارکنان پر شیلنگ کی گئی۔ 20 سے زائد گاڑیاں بری طرح تباہ کر دی گئیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’ہمارے رہنماؤں اور کارکنوں پر تو مقدمے ہو گئے لیکن جو پولیس نے ہمارے ساتھ کیا اس پر کارروائی کون کرے گا؟‘

تاجروں اور کنٹینرز مالکان کا ناقابل تلافی نقصان

انجمن تاجران پاکستان کے رہنما نعیم میر نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’سیاسی رہنما تو لانگ مارچ کی کال دے دیتے ہیں لیکن یہ نہیں سوچتے کہ اس کے تاجروں اور عوام پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟‘

انہوں نے کہا کہ ’دو دن پولیس اور پی ٹی آئی کارکنوں کی آنکھ مچولی سے مختلف علاقوں میں دکان داروں کا کاروبارشدید متاثر ہوا، خاص طور پر 25 مئی کی صبح سے رات گئے تک لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں بندشوں سےکاروبار زندگی بند رہا۔ جس کے نقصان کا حساب لگانا مشکل ہے۔ کیوں کہ ہمارا نقصان کبھی کسی نے پورا نہیں کرنا ہوتا نہ اپوزیشن نے اور نہ ہی حکومت نے۔‘

نعیم میر کے بقول ’جب تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کا لانگ مارچ ہوا تھا اور اس میں بھی یہی حالات ہوئے تھے۔ تب صرف پنجاب میں تاجروں کو ایک دن میں ڈیڑھ سے دو ارب روپے کا نقصان ہوا تھا لہذا اس بار بھی اسی کے قریب ہوا ہوگا جس کے ملکی معیشت پر بھی برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔‘

گڈز ٹرانسپورٹرز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری طارق نبیل نے بتایا کہ ’جب بھی کوئی لانگ مارچ یا احتجاج ہوتا ہےانتظامیہ بغیر کسی ہچکچاہٹ کے کنٹینز پکڑ کر راستوں پر کھڑے کر دیتی ہے۔ اس دوران یہ بھی خیال نہیں کیا جاتا کہ کنٹینرز ادویات یا اشیا خوردنوش، سبزیوں یا پھلوں سے بھرے ہیں جو کھڑے کرنے سے خراب ہوجاتے ہیں۔‘

طارق کے بقول ’ہمیں کبھی کنٹینرز کو کھڑے رکھنے یا ان کے اندر خراب ہونے والے سامان کی قیمت کبھی ادا نہیں کی گئی۔‘

انہوں نے کہا کہ ’گذشتہ لانگ مارچ جو لاہور سے اسلام باد تک تھا اس میں ہمیں دودن کے دوران ڈیڑھ ارب سے زائد مالیت کا نقصان اٹھانا پڑا تھا جب کہ اس بار پہلے سے زیادہ کنٹینرز پکڑے گئے ہیں تو نقصان بھی زیادہ ہوا ہے لیکن ہم یہ نقصان پورا کرنے کا مطالبہ کس سے کریں۔‘

پیٹرول کی قلت

سیکریٹری جنرل پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن خواجہ عاطف کے مطابق ’لاہورمیں دو روز سے پیٹرول اور ڈیزل کی سپلائی نہیں ہوسکی۔ لاہورمیں روزانہ 30 لاکھ لیٹر پیٹرول اور ڈیزل کی کھپت ہے۔ شہر میں تقریبا 400 پیٹرول پمپس ہیں اورراستوں کی بندش کے باعث سپلائی نہیں کی جاسکی جس سے پیٹرولیم ڈیلرز کو بھی کروڑوں روپے نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔‘

اس دوران شہریوں کو بھی پیٹرول دستیاب نہیں تھا کیوں کہ انتظامیہ نے پیٹرولیم کی فروخت روکنے کی ہدایت کی تھی۔

واضح رہے 25 مئی کی رات اسلام آباد بلیو ایریا، ڈی چوک اور اطراف میں ہونے والی توڑ پھوڑ کا تخمینہ انتظامیہ کی جانب سے تاحال لگایا جا رہا ہے۔

ماہر معیشت اشفاق احمد نے کہا کہ ’ملک کو مجموعی طور پر دو دن کی اس افرا تفری میں اربوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑا۔ جب کہ عالمی سطح پر ملک کی ساکھ الگ متاثر ہوئی جس کے اثرات معاشی سرگرمیوں پر پڑتے ہیں سرمایہ دار سرمایہ کاری کرنے سے ڈرتے ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست