کیا واقعی پنجاب میں ن لیگ کا فارورڈ بلاک بننے جارہا ہے؟

وزیر اعظم کے معاون خصوصی نعیم الحق نے ہفتہ کی شام اپنے ٹویٹر پیغام میں دعوی کیا کہ پنجاب سے مسلم لیگ ن کے 15ایم پی ایز نے وزیر اعظم عمران خان سے اسلام آباد میں ملاقات کر کے اپنی جماعت اور قیادت پراظہار عدم اعتماد کردیا ہے۔

اے ایف پی

حکمران جماعت پی ٹی آئی اور مسلم لیگ ن کے رہنماوں میں گزشتہ کئی روز سے ایک دوسرے کے اراکین کی وفاداریاں تبدیل کر لینے کا دعوی کیا جاتارہاہے۔ سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے چند روز قبل میڈیا سے گفتگو میں دعوی کیا تھا کہ کئی پی ٹی آئی اراکین ان کی قیادت سے رابطے میں ہیں اور وہ جلد ہی حکومتی پالیسیوں پر عدم اعتماد کریں گے۔ اس کے برعکس  وزیر اعظم کے معاون خصوصی نعیم الحق نے ہفتہ کی شام اپنے ٹویٹر پیغام میں دعوی کیا کہ پنجاب سے مسلم لیگ ن کے 15ایم پی ایز نے وزیر اعظم عمران خان سے اسلام آباد میں ملاقات کر کے اپنی جماعت اور قیادت پراظہار عدم اعتماد کردیاہے اور وہ پی ٹی آئی حکومت کی پالیسیوں کے ساتھ حکومت کا ساتھ دینے کو تیار ہوگئے ہیں۔

پی ٹی آئی ذمہ داروں کی جانب سے ابھی تک ان اراکین صوبائی اسمبلی کے نام ظاہر نہیں کئے گئے جبکہ میڈیا پر چلنے والی خبروں سے متعلق ن لیگی سابق وزیر ریاض پیرزادہ نے تردید کر دی۔ تاہم ن لیگی عہدیدار نے 7 ایم پی ایز کی وزیر اعظم سے ملاقات کی تصدیق کر دی ہے۔ تجزیہ کار اس اقدام کو لوٹاکریسی کو فروغ دینے کی قابل مذمت پالیسی قراردے رہے ہیں۔

حکومتی دعوی:

پی ٹی آئی رہنما وزیر اعظم سے ملاقات کرنے والے اراکین کے نام بتانے کوتیارنہیں۔ وزیر اعظم کے معاون خصوصی نعیم الحق اورمرکزی سیکرٹری اطلاعات عمر سرفراز چیمہ نے  انڈپینڈنٹ اردو کے رابطہ کرنے پر پندرہ اراکین پنجاب اسمبلی کی وزیر اعظم سے ملاقات کا دعوی ضرور کیا لیکن ان کے نام ظاہر کرنے سے معذرت کر لی۔ان کا کہنا تھا ان اراکین سے معاملات طے پاگئے ہیں۔ مذکورہ  اراکین نے وزیر اعظم اور وزیر اعلی پنجاب کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے یقین دلایا کہ وہ حکومت کے ساتھ ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے اپنے ایک بیان میں دعوی کیا کہ مسلم لیگ ن کے 9اراکین قومی اسمبلی جلد ہی وزیر اعظم سے ملاقات کر کے حکومت کا ساتھ دینے کی یقین دہانی کرائیں گے۔ انہوں نے کہا اگلا ہفتہ ن لیگ میں توڑ پھوڑکاہے جلد ہی پنجاب کی اپوزیشن جماعت میں انتشار بھی نظر آئے گا۔

وفاقی وزیر سائنس وٹیکنالوجی فواد چودھری کے مطابق پہلا مرحلہ ن لیگی اراکین کا حکومت کے ساتھ ملاپ کا ہے دوسرے مرحلہ میں سینیٹرز کا ایک گروپ بھی پی ٹی آئی حکومت کا ساتھ دینے کو تیارہے۔

مسلم لیگ ن نے حکومتی دعوی مسترد کردیا

مسلم لیگ ن کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل عطااللہ تارڑ نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کا دعوی غلط ہے۔ صرف چھ ایم پی ایز کی وزیر اعظم سے اپنے حلقوں کے مسائل سے متعلق ملاقات کی اطلاعات ہیں جن میں جلیل شرقپوری،غیاث الدین اور یونس انصاری  (اشرف انصاری ایم پی اے کے بھائی جو آزاد الیکشن لڑے تھے اور شکست کھا گئے تھے) اور دیگر اراکین شامل ہیں۔ انہوں نے کہا ملاقات کرنے والے اراکین میں کوئی بھی مستقل مسلم لیگ ن کا رکن نہیں یہ سب مختلف جماعتوں سے ن لیگ میں شامل ہوئے تھے۔تمام اراکین کا میاں نواز شریف اور شہباز شریف کی قیادت پر مکمل اعتماد ہے۔انہوں نے کہاپارٹی میں مریم نواز اور شہباز شریف کے دھڑوں سے متعلق اطلاعات میں بھی کوئی صداقت نہیں۔

یہ بھی پڑھیے:

کیا پرانے پاکستان کو مکمل تباہ کرکے نیا پاکستان بنے گا؟

بھانڈے قلعی کرا لو!

ن لیگی رہنما پرویز رشید نے ایک بیان میں کہا  کہ محکمہ زراعت کا دباو برداشت کرنا ہر رکن کے لئے ممکن نہیں اس لئے بار بار پارٹی وفاداریاں بدلنے کے عادی بعض اراکین کے جانے سے پارٹی کو فرق نہیں پڑتا۔انہوں نے کہا اپوزیشن میں ہونے کے باوجود مسلم لیگ ن متحد ہے اسے توڑنے کی کوششیں ناکام ہونگیں۔

لوٹا کریسی جمہوریت کے لیے نقصان دہ ہے:

سینئر صحافی سلمان غنی نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا مسلم لیگ ن کے سابق وفاقی وزیر ریاض پیرزادہ کی سربراہی میں وزیر اعظم سے لیگی اراکین کی ملاقات کی خبریں چلوائی جارہی ہیں۔انہوں نے کہا ریاض پیرزادہ نے انہیں فون کر کے بتایا کہ وہ ن لیگ کی قیادت کے ساتھ کھڑے ہیں انہوں نے وزیر اعظم سے کوئی ملاقات نہیں کی۔سلمان غنی نے کہا حکومت اصولوں کے دعوے کر کے لوٹا کریسی کو فروغ دے رہی ہے۔جو ہمیشہ سے ہوتی آئی ہے۔وفادریاں تبدیل کرانے سے حکومت کو فائدہ ہوسکتا ہے لیکن جمہوریت کمزور ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا:’حکومت خود نظام میں خرابی کا سبب بن رہی ہے جبکہ دونوں بڑی اپوزیشن جماعتیں ن لیگ اور پیپلز پارٹی حکومت گرانے کے مخالف ہیں اور اس جانب سے حکومتی اراکین کی وفاداریاں تبدیل کرانے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو وفاق اور پنجاب میں بہت کم اراکین کی عددی برتری ہے اگر اپوزیشن جماعتیں پہلے دن چاہتیں تو ان ہاوس تبدیلی ممکن تھی۔لیکن ماضی کے تلخ تجربات سے سبق حاصل کرنے والی دونوں بڑی جماعتوں ایسا نہیں کیا۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’جنوبی پنجاب صوبہ محاذ نے جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کاتحریری معاہدہ کیا لیکن وہ اپنی محرومیاں ختم کر کے خاموش ہوگئے۔اسی طرح جو بعض اراکین اسمبلی وفاداریاں تبدیل کر رہے ہیں وہ بھی صرف ذاتی مفادات ہی چاہتے ہیں۔بجٹ پاس ہونے کے باوجود حکومت کو ہارس ٹریڈنگ کی ضرورت کیوں محسوس ہورہی ہے یہ قابل غور ہے۔آنے والے دنوں میں اپوزیشن نے وفاداریاں تبدیل کرانے شروع کیں تو ماضی کی طرح پھر پارلیمانی بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان