کراچی کے سابق ایس ایچ او جو قرآن بُنتے ہیں

کراچی کے قومی عجائب گھر میں موجود محکمہ پولیس سے ریٹائرڈ 69 سالہ بزرگ خان شاہنواز ملہی نے سوئی، سیاہی، قرطاس کے بغیر ہاتھوں سے دنیا کا پہلا بُنا ہوا قرآن پاک ترتیب دیا ہے۔

کراچی کے محتلف تھانوں میں بطور ایس ایچ او تعینات رہنے والے خان شاہنواز ملہی ریٹائرمنٹ کے بعد اب ریشم کی لکڑیوں پر دھاگوں کی مدد سے قرآن بُنتے ہیں۔

قومی عجائب گھر کے مرکزی ہال کی دیواروں پر آویزاں آرٹ فریم جس میں شیشم کی پینسلوں اور ریشمی دھاگوں کی مدد سے قرآن پاک کوترتیب دیا گیا ہے۔

ریٹائرڈ انسپیکٹر آف پولیس اور سابق ایس ایچ او خان شاہنواز ملہی نے انڈیپینڈنٹ اردو سے خصوصی بات میں کہا کہ یہ قرآن پاک دنیا کا پہلا ہاتھوں سے بُنا ہوا نسخہ ہے۔

انہوں نےکہا کہ ’1400سال کی تاریخ کو دیکھیں تو بادشاہ سے لے کر عام آدمی تک قرآن پاک لکھتے ہوئے ملےگا بہت سارے لوگوں نے مختلف انداز میں قرآن پاک ترتیب دیا ہے کہیں رنگوں کا استعمال ہوا ہےکہیں کوفی خط ہے تو کہیں لاہوری خط ہے مختلف خطوں میں قرآن پاک کی لکھائی کی گئی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا: ’یہ سارے طریقے 1400 سال میں استعمال ہوئے ہیں۔لیکن یہ بلکل جدید آئیڈیا ہے یعنی بُنا ہوا قرآن پاک۔ اس سے پہلے کبھی قرآن پاک بُنا نہیں گیا اس کی تیاری میں نہ سوئی، نہ سیاہی استعمال ہوئی ہے نہ کپڑا استعمال ہوتا ہے اور نہ کاغذ استعمال ہوا ہے۔ جب یہ چاروں چیزیں نہیں ہوتی ہیں تو انسان سوچتا ہے کہ یہ بنا کیسے ہے۔‘

شاہنواز کا کہنا ہے کہ ’سروس کےدوران مجھےکراچی سینٹرل جیل جانا ہوتا تھا۔ جیل میں بہت سارے قیدیوں کے پاس یہ فن ہے۔ مجھے بھی ایک قلم پر ایک قیدی نے میر انام لکھ کرتحفے میں دیا۔ میں اسے دیکھ کر بہت حیران ہو گیا۔ میں نے اس قیدی سےایک گھنٹےکی کلاس لے کر یہ آرٹ سیکھ لیا۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’میں نے اس آرٹ سے اردو لکھی تو اردو میں کامیاب ہو گیا پھر میں نے عربی لکھنا شروع کی۔‘

انہوں نےکہا کہ ’بچپن کے شروع سے میرا پسندیدہ موضوع ڈرائینگ تھا میں ہاتھ سے چہرے کے خاکے بنایا کرتا تھا میں نے 2002 میں اللہ کے نام کی پہلی کیلی گرافی بنائی تھی۔ میری اللہ کے نام کی کیلیگرافی کراچی ایئرپورٹ بیرون ملک روانگی کے احاطے میں لگائی گئی ہے۔‘

انہوں نےکہا کہ ’شروع میں ایسی کوئی پینسل، آئیڈیا میرےذہن میں نہیں تھا۔ میں نےعام پینسل پر ہی اس کی بُنائی کی تھی جو بازار میں میسر تھی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’جب میں نے قرآن پاک ترتیب دینےکا ارادہ کیا تو مجھے یہ سمجھ آئی کہ اگر 10 سال کا عرصہ اس کو مکمل کرنے میں لگے گا اور دس سال بعد اس کو کیڑا لگ گیا تو یہ لکڑی ختم ہو جائے گی اور اسی طرح میری ساری محنت ضائع ہو جائے گی۔‘

’تو پھر میں نے اس کے بارے میں تھوڑی اور تحقیق شروع کی۔ تو مجھے پتا چلا کہ شیشم کی لکڑی کو کیڑا نہیں لگتا۔ میں نے شیشم کی لکڑی کاانتخاب کیا۔ شیشم کی فی پینسل مجھے بائیس روپے میں پڑی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا: ’جب یہ شیشم کی پینسل دھاگے سے اور کلپ کے ذریعے فریم کی نظر ہوتی ہے تو اس کی قیمت پچاس روپے ہو جاتی ہے۔ پورے قرآن میں تقریبا شیشم کی 14 ہزار پینسلیں استعمال ہوئی ہیں۔ یہ بہت ہی مہنگا آرٹ ہے۔‘

’اس قرآن پاک کےترتیب میں مواد پر تقریباً 25 سے 30 لاکھ روپےکا خرچ آیا ہے۔‘

’میری بیوی نے اپنا زیور بھی خوشی سے قربان کر دیا۔ مجھے اس مشن میں تقریبا 10 لاکھ کا عطیہ میرے بھتیجوں، بھتیجیوں، بیٹیوں، بیٹوں، خالہ، خالو نے فراہم کیں۔‘

شاہنواز کہتے ہیں کہ ’ایک پینسل کوبُننے میں ایک گھنٹہ لگتا ہے۔ ایک دن میں پانچ، چھ پینسلیں بن جاتی ہیں۔ ایک صفحہ تین دن میں مکمل ہوتا ہے اس لیے اس کو مکمل کرنے میں دس سال کا طویل عرصہ لگا ہے۔ اس کے اندر مالی طور پر بھی مشکلات آئیں۔ مالی طور پر اپنا مکان بھی فروخت کیا کیونکہ بہت ساری ضرورتیں دس سال گھر پر بیٹھ کر وقت گزارنا تھا۔‘

شاہنواز نے بتایا کہ ’میرے پاس یہ فن 2008 سے ہے۔ ابھی تک میرا ایک بھی شاگرد نہیں بنا۔ حتٰی کہ میرے بیٹے بھی نہیں بن سکے۔ انہوں نے بھی ایک ہی دن سیکھا ہے۔ اپنا نام لکھا تھا۔ وہ بھی تیڑھا میڑھا ہو گیا۔ دوسرے دن وہ ہمت ہار گئے تھے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’بہت سے لوگوں نے کلاس لی ہے۔ بہت ساری لڑکیوں نے کلاسز لی ہیں۔ مگر آگے نہیں بڑھا کوئی۔ ایک تو یہ محنت طلب بہت ہے۔ دوسرا اس کی کوئی آؤٹ پٹ نہیں ہے۔ اس میں کوئی منافع بخش کاروبار نہیں ہے۔ اس کو آپ بطور کاروبار اختیار نہیں کر سکتے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان