پاکستان کی بھارت میں مسلمان مظاہرین پر تشدد کی مذمت

پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق بھارتی مسلمان بی جے پی کے دو رہنماؤں کے ’شر پسند بیانات‘ پر احتجاج کرنا چاہتے تھے لیکن بھارتی ریاست نے نہتے مسلمان مظاہرین پر ’بہیمانہ تشدد‘ کیا۔

پاکستان نے اتوار کو بھارت میں حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رہنماؤں کے ’گستاخانہ بیانات‘ کے خلاف احتجاج کرنے والے مسلمانوں پر بھارتی پولیس کے تشدد کی سخت مذمت کی ہے۔

پاکستانی دفتر خارجہ نے اتوار کو جاری کیے جانے والے بیان میں کہا ہے کہ بھارت میں مسلمان اپنا پر امن احتجاج ریکارڈ کرانا چاہتے تھے اور نماز جمعہ کے بعد ’گستاخانہ بیانات‘ کے خلاف اپنے جذبات کا اظہار کر رہے تھے۔

دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ بھارتی مسلمان بی جے پی کے دو رہنماؤں کے ’شر پسند بیانات‘ پر احتجاج کرنا چاہتے تھے لیکن بھارتی ریاست نے نہتے مسلمان مظاہرین کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔

پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق بھارت کی کئی ریاستوں میں مسلمان مظاہرین پر حکومت کی جانب سے طاقت کا بیہمانہ استمال کیا گیا ہے اور مسلمان مظاہرین پر فائرنگ بھی کی گئی ہے۔ بھارت کے ریاستی تشدد اور فائرنگ سے دو نہتے مظاہرین جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

پاکستانی دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارت میں 227 پر امن مظاہرین گرفتار کرلیا گیا ہے۔ ’بھارت میں ہندوتوا پر یقین رکھنے والے پولیس ملازمین مسلمانوں پر مظالم کررہے ہیں۔‘ فتر خارجہ نے مطالبہ کیا کہ ’بین الاقوامی برادری بھارت میں مسلمانوں پر بڑھتے مظالم کی مذمت کرے اور بھارت میں بڑھتے ہوئے اسلاموفوبیا کے خلاف اقدامات کیے جائیں۔‘ دوسری جانب برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق بھارتی حکام نے بتایا ہے کہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں پولیس نے گستاخانہ بیان دینے والی بی جے پی کی سابق ترجمان کے خلاف دھمکی آمیز ویڈیو پوسٹ کرنے پر ایک نوجوان کو گرفتار کر لیا ہے۔

ویڈیو میں ترجمان کا سر قلم کرنے کی دھمکی دی گئی تھی۔ یوٹیوب پر پوسٹ کی گئی  اس ویڈیو کو حکام نے ملک بھر میں پھیلنے والی ’مذہبی بدامنی‘ کو روکنے کی وسیع تر کوشش کے تحت ہٹا دیا ہے۔

اس ماہ کے آغاز میں بی جے پی نے ’گستاخانہ بیان‘ پر اپنی ترجمان نوپور شرما کو معطل کر دیا تھا جب کہ پارٹی کے ایک اور رہنما نوین کمار جندال کو متنازع بیان پر پارٹی سے نکال دیا گیا ہے۔

پولیس نے دونوں رہنماؤں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا تھا۔ ’گستاخانہ بیانات‘ کے خلاف متعدد مسلمان ممالک نے بھی برہمی اظہار کیا ہے جس سے مودی حکومت کو بڑے سفارتی چیلنج کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
اتوار کو جندال نے ٹوئٹر پوسٹ میں کہا ہے کہ ان کے خاندان کو مسلسل دھمکیاں مل رہی ہیں۔ ان کے بعض فالورز نے ٹویٹ کیا کہ دارالحکومت نئی دہلی میں واقع جندال کی رہائش گاہ کے قریب دیسی ساخت کے ایک بم کو ناکارہ بنایا گیا ہے۔

شرما اور جندال کے بیانات کے خلاف ٹوئٹر پر غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ مسلمان گروپس نے دونوں رہنماؤں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے جبکہ بعض سخت گیر ہندو گروپس نے دونوں عہدے داروں کو بہادر اور قوم پرست سیاست دان قرار دیا ہے۔

قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، عمان اور ایران نے گستاخانہ بیانات کے خلاف سفارتی سطح پر احتجاج کیا ہے اور سوشل میڈیا کے ذریعے بھارتی حکومت سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔

گذشتہ ہفتے بھارتی وزارت خارجہ نے کہا کہ ٹویٹس اور تبصرے حکومت کے نقطہ نظر کی عکاسی نہیں کرتے۔

بی جے پی کے رہنماؤں کے ’گستاخانہ ریمارکس‘ پر بھارت بھر میں جھڑپیں شروع ہو چکی ہیں کیوں کہ بھارت میں اقلیتی مسلمان برادری سے تعلق رکھنے والے افراد ان بیانات کو عبادت کی آزادی سے لے کر حجاب یا دوپٹہ  لینے تک کے مسائل پر بی جے پی کے دور حکومت میں دباؤ اور تذلیل کی تازہ ترین مثال کے طور پر دیکھتے ہیں۔

شمالی ریاست اتر پردیش میں ہونے والے فسادات میں پولیس نے 300 سے زیادہ افراد کو گرفتار کر لیا ہے اور اس کے علاوہ مختلف مقامات پر مسلمان مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کی ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں جن میں مسلمان مظاہرین پر پولیس اہلکار تشدد کرتے بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔

مشرقی ریاست مغربی بنگال میں حکام نے 16 جون تک صنعتی ضلعے ہاوڑہ میں عوامی اجتماعات پر پابندی لگادی تھی جب کہ کم از کم 70 افراد کو فسادات اور نقض امن کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔

اس سے پہلے تشدد کے واقعات کے بعد شہر میں انٹرنیٹ سروس 48 گھنٹے سے زیادہ معطل رہی تھی۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا