سٹاک ایکسچینج کو ماحول دوست بنانے کا منصوبہ، مگر کیسے؟

رواں ماہ پاکستان سٹاک ایکسچینج اقوام متحدہ کے ذیلی ادراوں کے اشتراک سے چلنے والے سسٹین ایبل سٹاک ایکسچینجز انیشی ایٹیو کا رکن بن گیا، مگر اس پر عمل کیسے ہوگا؟

تین جون 2022 کو کراچی میں پاکستان سٹاک ایکسچینج میں سٹاک بروکر (اے ایف پی)

پاکستان سٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کے منیجنگ ڈائریکٹر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر فرخ ایچ خان کے مطابق پی ایس ایکس اقوام متحدہ کے ذیلی ادراوں کے اشتراک سے چلنے والے سسٹین ایبل سٹاک ایکسچینجز انیشی ایٹیو کا رکن بننے کے بعد ماحول دوست سٹاک ایکسچینج کی راہ پر گامزن ہوگئی ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے فرخ ایچ خان نے کہا:  ’سب کو پتہ ہے کہ پاکستان ماحولیاتی تبدیلی کے باعث مختلف قدرتی آفات سے متاثرہ ممالک کی فہرست میں شامل ہے۔ پاکستان کو کئی اقسام کی قدرتی آفات کا سامنا ہے۔ مختلف گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج کرہ ارض پر موسمی تبدیلی کا باعث بن رہا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ان گیسز کے اخراج کو کم کیا جائے۔‘

پی ایس ایکس کے مینیجنگ ڈائریکٹر فرخ خان کے مطابق: ’سسٹین ایبل سٹاک ایکسچینجز انیشی ایٹیو کا رکن بننے کے بعد پی ایس ایکس اپنے تمام دفاتر میں موسمی تبدیلی کا باعث بننی والی گیسز کے اخراج کو کم کرے گی۔‘

ان کا کہنا تھا: ’اب پاکستان سٹاک ایکسچینج سے منسلک 530 ادارے بھی پابند ہیں کہ اپنے دفاتر اور کاروبار میں گیسز کے اخراج کو کم کرنے کے ساتھ ماحول دوست سرگرمیاں اپنائیں تاکہ موسمی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے کے ساتھ پائیدار ترقیاتی اہداف (ایس ڈی جیز) مکمل کیے جاسکیں۔‘

پی ایس ایکس کو چھ جون 2022 کو سسٹین ایبل سٹاک ایکسچینجز انیشی ایٹیو کا رکن بنایا گیا۔ 

اس اقدام کا آغاز اقوام متحدہ کے گلوبل کمپیکٹ، اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے اصول برائے ذمہ دارانہ سرمایہ کاری (پی آر آئی)، اقوام متحدہ کانفرنس برائے تجارت و ترقی (یو این سی ٹی اے ڈی) اور اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام فنانس انیشیٹو کی جانب سے مشترکہ طور پر کیا گیا تھا۔ اس وقت دنیا بھر کی 115 سٹاک ایکسچینجز اس انیشی ایٹیو کی رکن ہیں۔

اس عالمی اقدام کا ہدف ہے کہ دنیا بھر میں سٹاک ایکسچینجز اور سکیورٹیز مارکیٹ ریگولیٹرز کی استعداد کار میں اضافہ کیا جائے تاکہ پائیدار ترقی کے سلسلے میں ذمہ دارانہ سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی، سماجی اور گورننس کے مسائل پر کارپوریٹ کارکردگی کو بہتر بنانے میں بھی مدد مل سکے اور غربت کے خاتمے کے لیے اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف (ایس ڈی جیز) کو حاصل کیا جاسکے۔

اس انیشی ایٹیو کے رکن بننے والی سٹاک ایکسچیجز کے لیے ماحول، سماج اور گورننس کی بہتری کے لیے کچھ میعار رکھے گئی ہیں جن کے مطابق بہتر ماحول کے لیے رکن بننے والے سٹاک ایکسچینج اور اس سے منسلک کمپنیاں اپنے کاربان کے اخراج سے متعلق باقاعدگی سے رپورٹ جاری کریں گی۔ نقصان دہ اور آلودگی پھیلانے والی اشیا اور کیمکلز کے استعمال کو محدود کریں گی، اور گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو کم کرنے کے ساتھ توانائی کے متبادل ذرائع کو استعمال کریں گی۔ 

اس کے علاوہ رکن بننے والے سٹاک ایکسچینج اور ان سے منسلک کمپنیاں تیسری جنس، ایل جی بی ٹی افراد کے حقوق کا تحفظ کرنے اور جنسی ہراسانی کے خلاف پالیساں تشکیل دینے اور ملازمین کو مناسب تنخواہیں دینے کی بھی پابند ہوں گی۔

ساتھ ساتھ بہتر گورننس کے لیے کمپنیاں بورڈ میں ڈائریکٹرز میں تنوع اور کارپوریٹ شفافیت کو یقینی بنائیں گی۔

اس سلسلے میں پی ایس ایکس کی چیئرپرسن ڈاکٹر شمشاد اختر کی سربراہی میں ای ایس جی ٹاسک فورس تشکیل دے دی گئی ہے۔

سی ای او فرخ ایچ خان کا کہنا ہے کہ یہ پاکستان اور پی ایس ایکس کے لیے یہ ایک اہم پیش رفت ہے اور ایک فرنٹ لائن ریگولیٹر کی حیثیت سے ادارہ اقوام متحدہ کے اس باوقار اقدام میں شامل ہونے پر فخر محسوس کرتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ماحولیات