دونبیس میں لڑائی جنگ کا رخ طے کرے گی: یوکرینی صدر

یوکرین کے صدر وولودی میر زیلنسکی نے کہا ہے کہ مشرقی خطے میں جاری لڑائی ہی آنے والے ہفتوں میں جنگ کا رخ طے کرے گی اور شہریوں پر زور دیا کہ وہ روس کے سامنے ڈٹے رہیں۔

یوکرین کے صدر وولودی میر زیلنسکی نے کہا ہے کہ دونبیس کے مشرقی علاقے میں روسی فوجیوں کے خلاف کیئف کی لڑائی اس جنگ کا رخ طے کرے گی۔

انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ ہے وہ دو اہم شہروں پر ماسکو کے تباہ کن حملے کے سامنے ڈٹے رہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق وولودی میر زیلنسکی نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا: ’بدقسمتی سے، تکلیف دہ نقصانات ہوئے ہیں۔ لیکن ہمیں مضبوط رہنا چاہیے۔ یہ ہمارا ملک ہے۔‘

ان کا کہنا تھا: ’دونبیس میں ثابت قدمی بہت اہم ہے۔ دونبیس کی یہ طے کرنے میں انتہائی اہمیت ہے کہ آنے والے ہفتوں میں کون غالب آئے گا۔‘

روسی افواج کے نشانے پر دونبیس خطے کے شہر سیویرودونیتسک کی انتظامیہ کے سربراہ اولیگزندر ستریوک نے یوکرینی ٹیلی وژن کو بتایا کہ ’شدید فائرنگ‘ سے بچنے کے لیے تقریباً 500 شہری ازوٹ کیمیائی پلانٹ میں پناہ لیے ہوئے تھے۔

روسی افواج نے سیویرودونیتسک کے صنعتی مرکز میں بچ جانے والے یوکرینی فوجیوں کا رابطہ منقطع کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں اور تینوں پلوں کو تباہ کر دیا ہے جو اس شہر کو ایک دریا کے پار جڑواں شہر لیسیچانسک سے جوڑتے ہیں۔

خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق روس نے سیویرودونیتسک میں  کیمیکل پلانٹ میں چھپے یوکرینی فوجیوں کو بدھ کی صبح تک ہتھیار ڈالنے کا کہا ہے۔

روس کے نیشنل ڈیفنس مینجمنٹ سینٹر کے سربراہ میخائل میزنتسیف نے انٹرفیکس نیوز ایجنسی کو بتایا: ’جنگجوؤں کو ماسکو کے وقت کے مطابق بدھ کی صبح 8 بجے’اپنی بے وقوفانہ مزاحمت روک کر ہتھیار ڈال دینے چاہییں۔‘

انہوں نے کہا کہ عام شہریوں کو انسانی راہداری کے ذریعے باہر نکالا جائے گا۔

روئٹرز کے مطابق یوکرین کا کہنا ہے کہ کیمیائی فیکٹری میں 500 سے زائد شہری فوجیوں کے ساتھ پھنسے ہوئے ہیں جہاں اس کی افواج کئی ہفتوں سے روسی بمباری اور حملوں کے خلاف  مزاحمت کر رہی ہے جس کے نتیجے میں سیویرودونیتسک شہر کا بیشتر حصہ کھنڈرات میں تبدیل ہو گیا ہے۔

روسی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ وہ بدھ کو پلانٹ سے لوگانسک خطے کے علیحدگی پسندوں کے زیر انتظام حصے میں انخلا  کا اہتمام کرنے کے لیے تیار ہے۔

علاقائی گورنر سرگئی گادے کے مطابق یوکرین کی افواج کو سیویرودونیتسک کے مرکز سے پیچھے دھکیل دیا گیا ہے اور روسیوں نے شہر کو گھیرنے کی کوشش میں اس کے 70 سے 80 فیصد حصے پر قبضہ کر لیا ہے۔

دونبیس کو فتح کرنے کے لیے ماسکو کی کوششوں میں سیویرودونیتسک پر قبضہ کرنے سے روس کے لیے سلوویانسک اور ایک اور بڑے شہر، کرامیترسک کے لیے بھی راہ ہموار ہو جائے گی، جو بنیادی طور پر روسی بولنے والا علاقہ اور جزوی طور پر روسی کے حامی علیحدگی پسندوں کے پاس2014 سے موجود ہے۔

’اسلحے کی سست فراہمی‘

وولودی میر زیلنسکی نے صحافیوں کو بتایا کہ جنگ کب تک جاری رہے گی اس کا انحصار بین الاقوامی حمایت اور ’یورپی ریاستوں کے رہنماؤں کی شخصیات‘ پر ہے۔

انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ’کچھ رہنماؤں کے محدود طرز عمل‘ نے ’ہتھیاروں کی فراہمی کو بہت سست‘ کر دیا ہے۔

نائب وزیر دفاع انا ملایار نے کہا کہ کیئف کو مغرب سے درخواست کردہ ہتھیاروں کا صرف 10 فیصد ملا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ہیگ میں نیٹو کے رکن رہنماؤں کے ایک گروپ سے ملاقات میں نیٹو کے سیکرٹری جنرل جینز سٹولٹنبرگ نے کہا کہ وہ مزید ہتھیاروں کی ترسیل  کے لیے کام کر رہے ہیں۔

فرانس کے یورپ کے وزیر کلیمنٹ بیون نے کہا کہ یورپی یونین کو چاہیے کہ وہ کیئف کی یورپی یونین میں شمولیت کی درخواست پر ’مثبت اشارہ‘ بھیہجے۔

یورپی کمیشن آنے والے دنوں میں کیئف کی رکنیت کے امکانات کے بارے میں اپنی سفارش دینے والا ہے۔

’کوئی جگہ محفوظ نہیں‘

لیسیچانسک میں ایک بلند مقام سے اے ایف پی کی ایک ٹیم نے سیویرودونیتسک میں کیمیکل فیکٹری اور شہر کے ایک اور علاقے سے سیاہ دھواں اٹھتے دیکھا۔

یوکرینی فوج دریا کے پار سیویرودونیتسک پر کنٹرول کے لیے لڑنے والی روسی افواج کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے کے لیے اونچی جگہ کا استعمال کر رہی ہے

لیسیچانسک کی 83 سالہ ویلنٹینا نے گراؤنڈ فلور پر واقع اپنے اپارٹمنٹ میں بیٹھے اے ایف پی کو بتایا کہ صورت حال بہت خوفناک ہے۔

انہوں نے کہا: ’وہ آخر کیوں نہیں مان جاتے، خدا کے لیے، ہاتھ ملا لیں۔‘

لیسیچانسک سے کرماٹورسک جانے والی سڑک پر یوکرینی افواج مزید ہتھیاروں کے نظام کو اگلے مورچوں پر لے جا رہی تھیں جبکہ خصوصی گاڑیاں ٹینکوں کو مرمت کے لیے لے کر جا رہی تھیں۔

لیسیچانسک کے قریب واقع نوودروزیسک شہر میں ابھی بھی گھروں سے جلنے اور دھوئیں کی بو آرہی تھی جو ہفتے کے آخر میں گولہ باری سے آگ لگنے کے باعث تباہ ہو گئے تھے۔

اپنی آستین پر کھوپڑی کا لوگو لگائے ہوئے فائر سٹیشن پر کھڑے ایک فوجی نے کہا کہ یہاں کوئی بھی جگہ محفوظ نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہاں بہت سے لوگ (اب بھی) موجود ہیں۔

سلوویانسک میں 41 سالہ ناتالیا نامی ایک بے روزگار کلینر نے کہا کہ وہ یہ فیصلہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں کہ آیا یہاں سے نکلا جائے یا نہیں۔

انہوں نے اے ایف پی کو بتایا: ’اگر انہوں نے شہر پر شدید بمباری شروع کر دی تو لوگ دوبارہ وہاں سے چلے جائیں گے۔‘

’یتیموں کے متعلق تنبیہ‘

نیویارک میں اقوام متحدہ کے ایک سینئر عہدیدار نے منگل کو خبردار کیا تھا کہ یوکرینی بچوں کو روس میں گود نہ لیا جائے جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ ماسکو کے فروری میں ہونے والے حملے کے بعد سے وہاں کئی ہزار نوجوانوں کو منتقل کیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ (یونیسیف) کے یورپ اور وسطی ایشیا کے علاقائی ڈائریکٹر اسفان خان نے صحافیوں کو بتایا: ’ہم روسی فیڈریشن سمیت اس بات کا اعادہ کر رہے ہیں کہ ہنگامی حالات کے دوران یا اس کے فوراً بعد  بچوں کو گود لینا کبھی نہیں ہونا چاہیے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ایسے بچوں کو یتیم تصور نہیں کیا جاسکتا اور ان کی نقل و حرکت رضاکارانہ ہونی چاہیے۔

زیادہ پڑھی جانے والی یورپ