روس یوکرین میں مہلک ترین ہتھیار استعمال کر رہا ہے: برطانیہ

برطانیہ کی وزارت دفاع نے ایک بیان میں کہا کہ روسی افواج ممکنہ طور پر یوکرین میں 1960 کی دہائی کے بھاری اینٹی شپ میزائل داغ رہی ہیں۔

نو مئی 2022 کی اس تصویر میں روسی دارالحکومت ماسکو میں جاری فوجی پریڈ کے دوران روس کے یارس بین البراعظمی میزائل کو نمائش کے لیے پیش کیا جا رہا ہے(اے ایف پی)

یوکرین اور برطانیہ نے خبردار کیا ہے کہ روسی افواج ایسے ہتھیاروں پر انحصار کر رہی ہیں جو بڑے پیمانے پر انسانی جانوں کے نقصان کا باعث بن سکتے ہیں۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ انتباہ ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ماسکو مشرقی یوکرین پر قبضہ کرنے کے لیے خطے میں پیش قدمی جاری رکھے ہوئے ہے اور شدید اور طویل جنگ سے دونوں فریقین کے وسائل ختم ہو رہے ہیں۔

برطانیہ کی وزارت دفاع نے ایک بیان میں کہا کہ روسی افواج ممکنہ طور پر یوکرین میں 1960 کی دہائی کے بھاری اینٹی شپ میزائل داغ رہی ہیں۔

برطانوی وزارت کے مطابق Kh-22 نامی روسی میزائل بنیادی طور پر جوہری وار ہیڈ کا استعمال کرتے ہوئے طیارہ بردار بحری جہاز کو تباہ کرنے کے لیے بنائے گئے تھے لیکن جب روایتی وار ہیڈز کے ساتھ انہیں زمینی حملوں میں استعمال جائے تو وہ انسانوں کے لیے انتہائی مہلک اور شدید نقصان سبب بن سکتے ہیں۔

اے پی کے مطابق دونوں فریقین نے جنگ میں بڑی مقدار میں ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے جس سے ان کے وسائل اور ہتھیاروں کے ذخیرے پر بہت زیادہ دباؤ پڑا ہے۔

برطانوی وزارت نے کہا ہے کہ روس ممکنہ طور پر پرانے 5.5 ٹن وزنی اینٹی شپ میزائل استعمال کر رہا ہے کیونکہ اس کے پاس زیادہ جدید میزائلوں کی کمی ہے۔ تاہم وزارت نے اس بارے میں کوئی تفصیلات نہیں بتائیں کہ ان میزائلوں کو کہاں تعینات کیا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے سنگاپور میں جاری سکیورٹی کانفرنس میں یوکرین پر روس کے حملے ظالمانہ قرار دیا تھا۔

ہفتے کو شنگری لا ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے لائیڈ آسٹن کا کہنا تھا: ’ظالم ان قوانین کو روند دیتے ہیں جو ہم سب کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ یہ افراتفری اور غیر مستحکم دنیا کا ممکنہ پیش نظارہ ہے جس میں ہم میں سے کوئی نہیں رہنا چاہے گا۔‘

یوکرین کے صدر وولادی میر زیلنسکی نے بھی بعد میں ایک ورچوئل سیشن میں اس کانفرنس سے خطاب کیا۔

لوہانسک کے گورنر کا روس پر آتش گیر ہتھیار استعمال کرنے کا الزام

یوکرین کے مشرقی صوبے لوہانسک کےگورنر نے روس پر ایک گاؤں میں آتش گیر ہتھیار استعمال کرنے کا الزام لگایا۔

صوبائی گورنر سرہی ہائیڈائی نے الزام لگایا کہ وربیوکا میں رات کے وقت کیے گئے روسی حملوں سے شہری تنصیبات کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا اور متاثرین کی ایک بڑی تعداد اس کا نشانہ بنی۔

گورنرٹیلی گرام پر لکھا: ’رات کے وقت، دشمن نے فلیم تھروور(شعلے برسانے والے) راکٹ سسٹم کا استعمال کیا جس سے بہت سے گھر جل گئے۔‘

تاہم گورنر کے دعوے کی فوری تصدیق نہیں ہو سکی۔

بچوں کی ہلاکتیں

یوکرین میں حکام نے بتایا کہ روس کے حملے کے آغاز سے اب تک آٹھ سو کے قریب بچے ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یوکرین کے پراسیکیوٹر جنرل کے دفتر سے جاری ایک بیان کے مطابق روس کی فوجی سرگرمیوں کے نتیجے میں کم از کم 287 بچے ہلاک ہوئے جب کہ کم از کم 492 بچے حملوں میں زخمی ہوئے۔

بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ یہ اعداد و شمار حتمی نہیں ہیں۔

روس اور یوکرین نے ایک دوسرے پر بحیرہ اسود میں بارودی سرنگیں بچھانے کا الزام بھی لگایا ہے۔

’روس نے یوکرین کی گندم چوری کی‘

ایک مقامی نمائندے نے ہفتے کو روس کے آزاد خبر رساں ادارے ’انٹرفیکس‘ن کو بتایا کہ لڑائی کے دوران یوکرین کے جنوبی زاپوریزہیا خطے، جس پر اب روس کا قبضہ ہے، میں ماسکو کی جانب سے تعینات حکام نے مقامی اناج خریدنے اور اسے روس کی جانب سے دوبارہ فروخت کرنے کے لیے ایک کمپنی قائم کی ہے۔

یوکرین اور مغرب نے روس پر الزام لگایا ہے کہ وہ یوکرین کا اناج چوری کر رہا ہے جس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے عالمی خوراک کے بحران سے لاکھوں افراد بھوک سے مر سکتے ہیں۔

زاپوریزہیا میں روس کی مسلط کردہ عارضی انتظامیہ کے سربراہ یوگنی بیلسکے نے کہا ہے کہ نئی کمپنی نے اناج کی کئی تنصیبات کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’یہاں موجود اناج روس کی ملکیت ہو گا اور ہمیں پرواہ نہیں ہے کہ اسے کون خریدے گا۔‘

یہ واضح نہیں تھا کہ جن یوکرینی کسانوں کا اناج روس فروخت کر رہا ہے انہیں ادائیگی ہو رہی تھی یا نہیں۔

یوکرین کے صدارتی دفتر نے روس کی فوج پر فصل کی کٹائی سے قبل اناج کے کھیتوں پر گولہ باری اور کھڑی فصلیں جلانے کا الزام بھی لگایا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا