یمن: گینڈے اور بیل کے سینگ سے بنے روایتی خنجر

ہزاروں سال سے یمنی ثقافت کا حصہ رہنے والے خم دار خنجر پہلے وقتوں میں جنگجوؤں کا ہتھیار ہوا کرتے تھے لیکن اب صرف نمائش کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

گینڈے اور دیگر جانوروں کے سینگ سے تیار کیے جانے والے خم دار خنجر ہزاروں سال سے یمنی ثقافت کا حصہ ہیں جنہیں مقامی باشندے اپنی کمر پر اس انداز میں باندھتے ہیں کہ ان کے قیمتی دستے نظر آئیں۔

یمنی میں ثقافتی علامت سمجھے جانے والے ان خنجروں کی تیاری مقامی سطح پر ہوتی ہے۔

یمن کے دارالحکومت صنا کے ایک بازار میں تنگ اور چھوٹی دکانوں پر ماہر کاریگر بیٹھے ان خنجروں کو ڈھالنے میں مصروف نظر آتے ہیں۔

اس بازار میں داخل ہوتے ہی کہیں ہتھوڑوں سے لوہے کے دستے کوٹنے کی آواز تو کہیں خنجروں کی دھار بنانے کے لیے برقی ریگ مال سے رگڑائی کا شور سنائی دیتا ہے۔

کاریگروں کے اس بازار سے ہی متصل وہ دکانیں ہیں جہاں ان خنجروں کو فروخت کیا جاتا ہے۔

ان یمنی خنجروں کی تین اقسام ہیں۔ اس پر خبر رساں ادارے روئٹرز نے عمار قبص سے بات کی جو ان خنجروں کو فروخت کرنے کے کاروبار سے منسلک ہیں۔

عمار کا کہنا تھا کہ ’مختلف اقسام کے روایتی خنجر ہیں۔ اس میں شامل ہیں سیفانی۔ بیل کے سینگ سے بنے کارک بھی ہیں۔ ماسوئی ہے جو بارہ سنگھے کے سینگوں سے بنتا ہے۔‘

عمار کا کہنا تھا کہ ان خنجروں کی ’تین اقسام ہیں لیکن سب سے مہنگی قسم سیفانی ہے جو گینڈے کے سینگ سے بنتی ہے ایک ایسا جانور جو ناپید ہو چکا ہے۔ یمن میں اس کا استعمال کئی سالوں سے ہو رہا ہے۔‘

عالمی سطح پر گینڈے کو ناپید ہونے والے جانوروں میں شمار کیا جاتا ہے اس لیے اب اس کے سینگ، کھال اور دیگر اعضا سے کسی بھی شے کی تیاری ممنوع قرار دی جا چکی ہے۔

یمن میں بھی کئی دہائیوں سے گینڈے کے سینگ سے خنجر کی تیاری پر پابندی عائد ہے۔

عمار نے بتایا کہ اگر کوئی سیفانی خنجر خریدنا بھی چاہے گا تو اسے وہ خنجر ملے گا جو کم از کم آج سے چالیس سال پہلے تیار ہوا تھا۔

ابو مزین یمنی خنجر بنانے والے ایک کاریگر ہیں اور انہیں اپنی کمر پر خنجر باندھنے کا بھی شوق ہے۔

ابو مزین نے روئٹرز کو بتایا کہ ’اب 20 یا 25 سال ہو گئے ہیں کہ ہم نے گینڈے کا سینگ خنجر بنانے کے لیے استعمال نہیں کیا۔ وہ موجود ہوتے ہیں لیکن ہم پر ان کے استعمال پر پابندی ہے۔‘

گینڈے کے سینگ سے خنجر بنانے پر پابندی کے بعد کارک کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے۔

کارک یمنی خنجر کی وہ قسم ہے جس میں بیل کے سینگ استعمال ہوتے ہیں۔

عمار نے اس پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’گینڈے کا سینگ اب موجود نہیں ہے کیوں کہ اس پر مقامی اور بین الاقوامی پابندی لگ چکی ہے اس لیے اب وہ بہت مہنگا ہو گیا ہے۔ لیکن اب ہم بیل کے سینگ استعمال کرتے ہیں اور وہ بہت اچھے ہیں۔ اب لوگ ان کی مانگ کرتے ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان