یلو سٹون: مغربی امریکہ میں سیلاب سے تباہ کاریاں

طوفانی بارشوں کے ’غیرمعمولی‘ سلسلے کی وجہ سے اس نیشنل پارک میں افراتفری پھیلی ہوئی ہے اور سڑکیں ٹوٹنے کے باعث پارک کے دروازے لوگوں کے لیے بند کر دیے گئے ہیں۔

13 جون 2022 کی اس تصویر میں وہ گھر دیکھا جاسکتا ہے جو سیلاب کے باعث دریائے یلو سٹون میں بہہ گیا (فوٹو: اے پی)

مغربی امریکہ میں واقع یلوسٹون نیشنل پارک میں بڑے پیمانے پر سیلاب کی وجہ سے ایک بڑے گھر کے دریا میں گرنے اور تیرنے کی ویڈیو ان دنوں دیکھی جاسکتی ہے۔

طوفانی بارشوں کے ایک ’غیرمعمولی‘ سلسلے کی وجہ سے اس نیشنل پارک میں افراتفری پھیل ہوئی ہے اور پیر سے اس کے دروازے لوگوں کے لیے بند کر دیے گئے ہیں۔

شدید موسم کی وجہ سے مٹی کے تودے گرنے کے باعث متعدد سڑکیں ٹوٹ گئیں اور ایک پل تباہ ہو گیا۔

پارک کے سپرنٹنڈنٹ کیم شولی نے ایک بیان میں کہا کہ ’ہماری پہلی ترجیح پارک کے شمالی حصے کو خالی کرنا ہے، جہاں متعدد سڑکیں اور پل ٹوٹ چکے ہیں جبکہ مٹی کے تودے گرنے سمیت دیگر مسائل کا سامنا ہے۔‘

پارک کے اندر پہلے سے موجود لوگوں کو نکال لیا گیا ہے۔ ابھی تک دوبارہ اس کے کھولے جانے کا اعلان نہیں کیا گیا کیوں کہ نیشنل پارک سروس نے حالات کو ’انتہائی خطرناک‘ قرار دیا ہے۔

یلوسٹون سے باہر واقع گارڈنر اور مونٹانا جیسی کمیونٹیز کا رابطہ دیگر علاقوں سے منقطع ہوگیا ہے کیوں کہ شہر کے اندر اور باہر جانے والی سڑکیں ناقابل استعمال ہوچکی ہیں۔

اس علاقے میں کرائے کے گھر میں رہنے والے ایک خاندان نے سی این این کو بتایا کہ وہ پھنس گئے ہیں۔

انڈیانا کے شہر ٹیرے ہاؤٹ سے آنے والے پارکر میننگ نے بتایا کہ ہفتے کے روز پانی کی سطح زیادہ تھی لیکن گذشتہ 10 سے 12 گھنٹوں کے اندر حالات مزید خراب ہو گئے ہیں۔

پارکر میننگ گارڈنر کے ایک کیبن میں ٹھہرے ہوئے تھے، جہاں وہ پانی کی بلند ہوتی سطح اور دریا کے کناروں کا کٹاؤ براہ راست دیکھ سکتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں پورے کے پورے درخت دریا میں تیرتے ہوئے نظر آنا شروع ہوگئے تھے۔‘

میننگ نے بتایا: پیر کی شام میں نے دیکھا کہ پانی دریا کے کنارے کو کاٹ رہا ہے جس کی وجہ سے گھر دریا میں گرا اور تیرتا ہوا دور چلا گیا۔‘

اس مشہور قدرتی پارک کے کچھ حصوں میں بجلی منقطع ہوچکی ہے ۔ یہ واضح نہیں ہے کہ پارک کب دوبارہ کھلے گا۔

یہ بارشیں اس موسم میں ہوئی ہیں جب سیاحت عروج پر ہوتی ہے یعنی جون میں۔ یہاں سالانہ 30 لاکھ سے زائد سیاح آتے ہیں اور ان کی تعداد موسم خزاں تک کم نہیں ہوتی۔ یہ یلوسٹون کے مصروف ترین مہینوں میں سے ایک ہے۔

سیلاب نے ریڈ لاج، مونٹانا کی ایک گلی کو شدید متاثر کیا۔  یہ 21 سو افراد پر مشتمل ایک قصبہ ہے جہاں سے بہت سے سیاح یلو سٹون میں اپنے سفر کا آغاز کرتے ہیں۔

بلنگز گزٹ کی رپورٹ میں کرسٹن اپوڈاکا کے بارے میں بتایا گیا ہے، جو شمال مشرق میں 40 کلومیٹر کے فاصلے پر جولیٹ میں بہہ جانے والے پل کے پار کھڑی رو رہی تھیں۔

ان کی دادی، جو مارچ میں چل بسی تھیں، ان کا لاگ کیبن سیلاب کی نظر ہوگیا تھا۔

انہوں نے کہا: ’میں چھٹی نسل میں سے ہوں۔ یہ ہمارا گھر ہے، وہ پل جہاں سے میں کل گاڑی چلاتے ہوئے گزری تھی۔ بہہ جانے سے قبل میری ماں نے اس پل کو صبح تین بجے گاڑی پر عبورکیا تھا۔‘

پارک حکام نے پیر کو پارک کے شمالی حصوں کو خالی کرا لیا۔ سپرنٹنڈنٹ کیم شولی نے کہا کہ ممکن ہے علاقے کی سڑکیں کافی عرصے تک ناقابل استعمال رہیں۔

سیلاب نے پارک کے باقی حصوں کو بھی متاثر کیا ہے۔

پارک حکام کی جانب سے پوش علاقوں میں پانی کی سپلائی اور گندے پانی کے نظام کے ساتھ مزید سیلاب اور ممکنہ مسائل کی وارننگ دی ہے۔

یلوسٹون میں ہفتہ، اتوار اور پیر کو چھ سینٹی میٹر بارش ہوئی۔ نیشنل ویدر سروس کے مطابق یلوسٹون کے شمال مشرق میں بیئرٹوتھ پہاڑوں میں 10 سینٹی میٹر تک بارش ہوئی۔

جس طرح تیز بارشیں ہو رہی ہیں، ماحولیاتی بحران سے سیلاب کے خطرے میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ گذشتہ ایک صدی میں شدید ترین طوفانوں کے دوران پوری کاؤنٹی میں بارش کا تناسب کم ہوتا جا رہا ہے۔

سی این این کی رپورٹ کے مطابق گرم درجہ حرارت کی وجہ سے تیزی سے برف پگھلنے کے باعث بھی یلوسٹون میں اس ہفتے آنے والے سیلاب میں اضافہ ہوا۔

جنوبی وسطی مونٹانا میں دریائے سٹیل واٹر پر واقع ایک کیمپ گراؤنڈ میں سیلاب کی وجہ سے 68 افراد پھنس گئے۔

سٹیل واٹر کاؤنٹی ایمرجنسی سروسز ایجنسیوں اور سٹیل واٹر مائن کے عملے نے پیر کو لوگوں کو چھوٹی کشتی کے ذریعے ووڈبائن کیمپ گراؤنڈ سے نکالا۔ سیلاب کی وجہ سے علاقے کی کچھ سڑکیں بند ہیں اور مکانات کو خالی کرا لیا گیا ہے۔

شیرف کے دفتر نے ایک بیان میں کہا: ’جب پانی کم ہو جائے گا تو ہم گھروں اور ڈھانچوں کے نقصان کا جائزہ لیں گے۔‘


اس رپورٹ کی تیاری میں ایسوسی ایٹڈ پریس کی بھی معاونت شامل ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ