صدر شی کی پوتن کو ’روسی خودمختاری‘ کی حمایت کی یقین دہانی

چینی صدر پوتن کو ایک ’پرانا دوست‘ قرار دیے چکے ہیں اور چینی کسٹمز کے اعداد و شمار کے مطابق بیجنگ ماسکو کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے۔

روس کے صدر ولادی میر پوتن اور چینی صدر شی جن پنگ 4 فروری 2022 کو بیجنگ میں ملاقات کے دوران۔ (اے ایف پی)

چین کے صدر شی جن پنگ نے بدھ کو ایک ٹیلی فون کال کے دوران اپنے روسی ہم منصب ولادی میر پوتن کو ماسکو کی ’خودمختاری اور سلامتی‘ کے لیے بیجنگ کی حمایت کا یقین دلایا۔

چین کے سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کے مطابق صدر شی نے اس موقعے پر کہا کہ چین ’بنیادی مفادات اور خودمختاری اور سلامتی جیسے خدشات سے متعلق امور پر روس کو باہمی تعاون کی پیشکش کرنا جاری رکھے گا۔‘

24  فروری کو پوتن کی یوکرین پر فوجی چڑھائی کے بعد سے یہ دونوں رہنماؤں کے درمیان رپورٹ ہونے والی دوسری بات چیت ہے۔

چین نے یوکرین پر ماسکو کے حملے کی نہ صرف مذمت کرنے سے انکار کیا بلکہ مغربی پابندیوں اور کیئف کو ہتھیاروں کی فروخت کی مذمت کرتے ہوئے روس کو سفارتی تحفظ بھی فراہم کیا۔

سی سی ٹی وی کے مطابق صدر شی نے دونوں ممالک کے درمیان سال کے آغاز سے عالمی بحران اور تبدیلیوں کے تناظر میں دو طرفہ تعلقات میں بہتری کا بھی خیر مقدم کیا۔

چینی صدر نے اس موقع پر کہا کہ ’بیجنگ دونوں ممالک کے درمیان سٹریٹجک تعاون کو فروغ دینے کے لیے تیار ہے۔‘

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق کریملن نے اس بات چیت کے حوالے سے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے ’غیر قاتونی مغربی پابندیوں‘ کے باوجود اقتصادی تعاون کو بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔

کریملن نے دونوں رہنماؤں کی بات چیت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا: ’مغرب کی غیر قانونی پابندیوں کی پالیسی کی وجہ سے عالمی معیشت کی صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے توانائی، مالیاتی، صنعتی، ٹرانسپورٹ اور دیگر شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے پر اتفاق کیا گیا ہے۔‘

یوکرین پر حملے کے جواب میں مغرب نے روس کے خلاف سخت ترین پابندیاں عائد کی ہیں اور ماسکو کا خیال ہے کہ یورپ اور امریکہ اس طرح عالمی معیشت میں سست روی کا باعث بنے ہیں۔

ماسکو بڑی غیر ملکی فرمز کے روس چھوڑنے کے بعد نئی منڈیوں اور سپلائرز کی تلاش میں ہے۔

’نو لمٹس ریلیشن شپ‘

 دوسری جانب یورپی یونین اور امریکہ نے خبردار کیا ہے کہ یوکرین میں روسی جنگ کے لیے بیجنگ کی طرف سے کسی بھی قسم کی حمایت یا مغربی پابندیوں سے بچنے میں ماسکو کی مدد سے چین کے ساتھ تعلقات خراب ہوں گے۔

چین کے ساتھ بھارت دوسری بڑی معیشت ہے جس نے ماسکو کے حملے پر اس کے خلاف جوابی اقدامات میں حصہ نہیں لیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

چینی حکام کی نظر میں یورپی ممالک واشنگٹن کے اقدام کی پیروی کرتے ہوئے یوکرین کی پشت پناہی کر رہے ہیں جب کہ بطور روسی گیس صارف یہ ان کے اپنے مفادات کے خلاف ہے۔

ماضی میں سرد جنگ کی تلخیوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے بیجنگ اور ماسکو نے امریکہ کے عالمی غلبے کا مقابلہ کرنے کے لیے حالیہ برسوں میں باہمی تعاون میں اضافہ کیا ہے۔

دونوں ممالک سیاسی، تجارتی اور عسکری شعبوں میں ایک دوسرے کے قریب آ گئے ہیں جسے وہ ’نو لمٹس ریلیشن شپ‘ کہتے ہیں۔

دونوں ممالک نے گذشتہ ہفتے روس اور چین کو ملانے والے پل کا افتتاح کیا تھا۔

دونوں رہنماؤں کے درمیان بدھ کو یہ ٹیلی فون کال صدر شی جن پنگ کی 69ویں سالگرہ کے موقع پر ہوئی ہے۔

چینی صدر پوتن کو ایک ’پرانا دوست‘ قرار دے چکے ہیں اور فروری میں بیجنگ سرمائی اولمپکس کی افتتاحی تقریب میں انہیں بھی مدعو کیا گیا تھا۔

چینی کسٹمز کے اعداد و شمار کے مطابق بیجنگ ماسکو کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم گذشتہ سال 147 ارب ڈالر تک پہنچ گیا جو 2019 کے مقابلے میں 30 فیصد سے زیادہ ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا