کابل: گردوارے پر حملے میں دو افراد زخمی

افغان وزارت داخلہ اور عینی شاہدین نے بتایا کہ مسلح افراد نے گردوارے پر دھاوا بولتے ہوئے کم از کم ایک دستی بم پھینکا۔

حملے کا نشانہ بننے والا گردوارہ کابل کے باغ بالا محلے میں واقع ہے جہاں سے سیاہ دھویں کے بادل اٹھتے ہوئے دکھائی دیے (فوٹو: روئٹرز/ ویڈیو سکرین گریب)

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ہفتے کی صبح سکھوں کے ایک گردوارے میں دھماکے اور فائرنگ سے کم از کم دو افراد زخمی ہو گئے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے افغان وزارت داخلہ اور عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا کہ مسلح افراد نے گردوارے پر دھاوا بولتے ہوئے کم از کم ایک دستی بم پھینکا۔

سکھ برادری کے ایک رہنما گرنام سنگھ نے بتایا: ’میں نے گردوارے سے گولیوں اور دھماکوں کی آوازیں سنیں۔‘

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق گرنام سنگھ کا کہنا تھا کہ گردوارے کے اندر تقریباً 30 لوگ موجود تھے۔

ان کے بقول: ’ہم نہیں جانتے کہ ان میں سے کتنے زندہ ہیں یا کتنے مر چکے ہیں۔‘

انہوں نے مزید بتایا: ’طالبان ہمیں اندر جانے کی اجازت نہیں دے رہے، ہم نہیں جانتے کہ کیا کرنا ہے۔‘

دوسری جانب طالبان حکومت کی وزارت داخلہ کے ترجمان عبدالنفی تقور نے بتایا کہ دستی بم دھماکے میں سکھ برادری کے دو افراد زخمی ہوئے۔

ترجمان نے مزید بتایا کہ اس واقعے کے چند منٹ بعد علاقے میں ایک اور کار بم دھماکہ ہوا لیکن اس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق حملے کا نشانہ بننے والا گردوارہ کابل کے باغ بالا محلے میں واقع ہے جہاں سے سیاہ دھویں کے بادل اٹھتے ہوئے دکھائی دیے جبکہ سوشل میڈیا پر جاری پوسٹس میں فائرنگ کی آوازیں سنی جا سکتی ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اے پی کے مطابق کسی بھی گروپ نے فوری طور پر حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ تاہم  داعش خراسان کے نام سے مشہور اسلامک سٹیٹ گروپ کی جانب سے حال ہی میں ملک بھر میں مساجد اور اقلیتوں پر حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

افغانستان میں تقریباً 300 سکھ خاندان آباد ہیں جبکہ 1970 کی دہائی میں یہ تعداد تقریباً پانچ لاکھ تھی۔

گذشتہ برس اگست میں افغانستان کا اقتدار سنبھالنے والے طالبان کا کہنا ہے کہ انہوں نے ملک سے بدامنی کو ختم کردیا ہے لیکن تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عسکریت پسندی کے دوبارہ سر اٹھانے کا خطرہ بدستور موجود ہے۔

سکھ برادری کے اراکین اور میڈیا رپورٹس کے مطابق بہت سے لوگوں نے طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد ملک چھوڑ دیا تھا۔

2020 میں بھی کابل کے ایک گردوارے میں داعش کے حملے کے نتیجے میں 25 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

پاکستان نے کابل میں سکھوں کے گردوارے پر دہشت گردی کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے افغان عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔

اسلام آباد میں دفتر خارجہ کے بیان میں کابل اور گذشتہ روز قندوز کی امام صاحب مسجد پر حملوں کا ذکر کرتے ہوئے مذہبی مقامات کو نشانہ بنانے کو سراسر نفرت انگیز قرار دیا۔

پاکستانی دفتر خارجہ نے دہشت گردی کی لعنت سے لڑنے اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے افغان حکام کی تمام کوششوں کی حمایت کا اعلان کیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا