یوکرین جنگ برسوں جاری رہ سکتی ہے: نیٹو سربراہ

نیٹو کے سیکرٹری جنرل جینز سٹولٹن برگ نے کہا ہے کہ یوکرین کو جدید ترین ہتھیاروں کی فراہمی سے مشرقی دونبیس کو روسی کنٹرول سے آزاد کروانے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔

نیٹو کے سربراہ جنرل جینز سٹولٹن برگ نے اتوار کو کہا کہ یوکرین میں جنگ برسوں تک جاری رہ سکتی ہے۔

جنرل سٹولٹن برگ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب یوکرین کو نیٹو بلاک میں شامل ہونے کے لیے امیدوار کا درجہ دیے جانے کی تجویز کے بعد اسے شدید روسی حملوں کا سامنا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق جرمن روزنامے بِلڈ ام سونٹاگ نے نیٹو کے سیکرٹری جنرل جینز سٹولٹن برگ کے حوالے سے لکھا کہ یوکرین کی فوج کو جدید ترین ہتھیاروں کی فراہمی سے مشرقی دونبیس کے علاقے کو روسی کنٹرول سے آزاد کروانے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔

انہوں نے کہا: ’ہمیں اس حقیقت کے لیے تیاری کرنی چاہیے کہ اس میں برسوں لگ سکتے ہیں۔ چاہے اخراجات زیادہ ہوں، نہ صرف فوجی مدد کے لیے بلکہ توانائی اور خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے بھی۔‘

جمعے کو کیئف کا دورہ کرنے والے برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے بھی لندن کے ’سنڈے ٹائمز‘ اخبار میں لکھے گئے مضمون میں ایک طویل جنگ کی تیاری کی ضرورت کے بارے میں ایسے ہی تبصرے کیے تھے۔

ہفتے کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے جانسن نے ’یوکرین کی تھکاوٹ‘ سے بچنے کی ضرورت پر زور دیا اور روسی افواج کی پیش قدمیوں کے حوالے سے کہا کہ ’اتحادیوں کو چاہیے کہ وہ یوکرینیوں کو دکھائیں کہ وہ طویل عرصے تک ان کی حمایت کے لیے موجود ہیں۔‘

انہوں نے مزید لکھا کہ یہ یقینی بنانا چاہیے کہ ’یوکرین کو حملہ آور کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے ہتھیار، سازوسامان، گولہ بارود اور تربیت مل رہی ہے۔‘

بقول بورس جانسن: ’وقت اہم عنصر ہے۔ ہر چیز کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ آیا یوکرین اپنی سرزمین کا دفاع کرنے کی اپنی صلاحیت کو روس کی جانب سے حملہ کرنے کی صلاحیت کی تجدید سے زیادہ تیزی سے مضبوط بنا سکتا ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے: امریکہ کا یوکرین کے لیے مزید ایک ارب ڈالر فوجی امداد کا اعلان

یوکرین کو جمعے کو ایک اہم تقویت ملی جب یورپی کمیشن نے اسے یورپی یونین کے امیدوار کا درجہ دینے کی سفارش کی، جس کی یورپی یونین کے ممالک اس ہفتے سربراہی اجلاس میں توثیق کریں گے۔

اس سے یوکرین روس کے 24 فروری کے حملے سے پہلے کی اپنی خواہش کو پورا کرنے کی راہ پر گامزن ہو جائے گا، چاہے حقیقی رکنیت میں کئی سال لگ جائیں۔

’مضبوط دفاع‘

دوسری جانب یوکرینی فوجی دونیتسک کے قریب شدید روسی گولہ باری کے باوجود اپنی پوزیشن سنبھالے بیٹھے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ روسی جارحیت کے مقابلے میں ان کا دفاع بہترین ہے۔

ایک یوکرینی فوجی الیگزینڈر نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو میں کہا: ’ہمارا توپ خانہ روسی فوجیوں کے خلاف کام کر رہا ہے اور وہ ہمارے توپ خانے کے خلاف کام کر رہے ہیں۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ ہمارے فوجی بہتر کام کر رہے ہیں۔ واضح طور پر کام کر رہے ہیں۔ ہم یہ دیکھ رہے ہیں۔ وہ گولے داغتے ہیں۔ بہت سے گولے استعمال کرتے ہیں۔  ہمارے نشانے کچھ حد تک زیادہ بہتر ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’مجھے بہت خوشی ہے کہ ہم نے اپنی پوزیشن کو برقرار رکھا ہے۔ انہیں (روس کو) فخر تھا کہ وہ دنیا کی دوسری بڑی فوج ہیں لیکن وہ ہمارے ساتھ کچھ نہیں کر سکے۔ ہم مضبوطی سے جمے ہوئے ہیں۔ اگرچہ ہم کچھ جگہوں پر پوزیشن برقرار نہیں رکھ سکے لیکن ہمارے پاس جو کچھ تھا اس کے ساتھ ہم اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ میرے خیال میں سب کچھ یوکرین کا ہوگا۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی یورپ