غلام خان سرحد پر شمالی وزیرستان کے متاثرین کا دھرنا تاحال جاری

جون 2014 میں ضرب عضب آپریشن کے نتیجے میں بےگھر ہونے والے شمالی وزیرستان کے  تقریباً 10 لاکھ  میں سے  تقریباً پانچ ہزار خاندانوں نے افغانستان میں پناہ لی تھی، جن میں سے اکثریت مداخیل قبیلے کی تھی۔

یہ تصویر اپریل 2022 کی ہے جس میں گل عالم وزیر شمالی وزیرستان کے مداخیل اور دیگر قبائل کے ساتھ بنوں پریس کلب کے سامنے احتجاج کر رہے ہیں۔ (تصویر: گل عالم وزیر)

 

پاکستان و افغانستان کی سرحدی گزرگاہ غلام خان پر پچھلے چار روز سے جاری دھرنے میں شمالی وزیرستان کے متاثرین نے حکومت پاکستان سے ان کی جلد ازجلد وطن واپسی یقینی بنانے کی درخواست کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک ان کا مطالبہ پورا نہیں کیا جاتا، دھرنا جاری رہے گا۔

جون 2014 میں ضرب عضب آپریشن کے نتیجے میں بےگھر ہونے والے شمالی وزیرستان کے تقریباً 10 لاکھ  میں سے تقریباً پانچ ہزار خاندانوں نے افغانستان میں پناہ لی تھی، جن میں سے اکثریت مداخیل قبیلے کی تھی۔

متذکرہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے عمائدین کے مطابق، ‘آپریشن ضرب عضب شروع ہونے کے بعد اس زمانے میں صوبہ پنجاب اور صوبہ سندھ کی حکومتوں نے وزیرستان سے بے گھر ہونے والے افراد کا اپنے صوبوں میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی، جب کہ جو لوگ صوبہ خیبرپختونخوا میں بنوں کے بکا خیل کیمپ چلے گئے تھے، ان کی حالت زار دیکھتے ہوئے کئی متاثرین گھرانے مجبوراً افغانستان کوچ کرگئے تھے۔’

ان عمائدین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اشرف غنی حکومت کی جانب سے شمالی وزیرستان کے متاثرین کو جومالی معاونت ملتی تھی، طالبان حکومت کے آنے کے بعد وہ بھی بند ہوگئی۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ طالبان حکومت خود مالی امداد کی منتظر ہے، وہ  بھلا متاثرین کی مدد کس طرح کرے گی۔

افغانستان کی جانب سے غلام خان سرحد پر دھرنا دینے والوں میں شامل مکرم خان نامی ایک شخص نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ‘ہمارا یہاں کوئی روزگار نہیں ہے۔ کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ اب تو ہمیں فاقے کرنے پڑرہے ہیں۔ کوئی بیمار ہوجاتا ہے، توان کے لیے دوائی اور علاج کا کوئی بندوبست نہیں ہوتا۔’

مکرم خان نے پشتون قائدین اور بالخصوص مداخیل قبیلے کے مشران سے مدد کی اپیل کرتے ہوئے افغانستان میں شمالی وزیرستان کے متاثرین کے لیے آواز اٹھانے کی التجا کی۔

اس صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے چیف آف وزیرستان نصراللہ خان نے کہا کہ وہ عرصہ دراز سے حکومت کے ساتھ اس مسئلے پر بات چیت کرتے آرہے ہیں، تاہم ابھی تک کوئی سنوائی نہیں ہوسکی ہے۔

بنوں میں وزیر قبیلے کے رہنما ڈاکٹر گل عالم وزیر جو اس مسئلے پرفعال کردار ادا کررہے ہیں، نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پرتمام قبائل کو آئندہ کا لائحہ عمل طے کرنے کے لیے تین دن پہلے ایک جرگہ بھی بلایا تھا۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ رواں سال اپریل کے مہینے میں پاکستان کی حکومت نے نہ صرف افغانستان میں بمباری میں جان سے جانے والے افراد کے ورثا کے لیے مالی امداد کا اعلان کیا تھا، بلکہ ایک مہینے کے اندر ان کی وطن واپسی کا وعدہ بھی کیا تھا، جو کہ ابھی تک پورا نہیں کیا جاسکا ہے۔

دوسری جانب، مداخیل قبیلے کے ایک رہنما حکیم مداخیل نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ وہ ایک عرصے سے بے گھر شمالی وزیرستان کے مسئلے پر آواز اٹھاتے آرہے ہیں، یہاں تک کہ حکومت کی تجویز پر ہی مداخیل قبیلے کی ایک چھ رکنی کمیٹی افغانستان گئی اور وہاں شمالی وزیرستان کے متاثرین سے ملاقات کی۔ ‘نتیجتاً، 4775 گھرانوں نے فارمز دے کر خود کو رجسٹر کیا، جو ہم نے شمالی وزیرستان کی انتطامیہ کو پہنچا دیے۔ جس پر آج تک انتظامیہ نے کوئی عملدرآمد نہیں کیا۔’

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جب اس حوالے سے انڈپینڈنٹ اردو نے شمالی وزیرستان کی انتظامیہ سے بات کی تو ڈپٹی کمشنر شاہد علی نے بتایا کہ ایسا نہیں ہے کہ حکومتی ادارے اس سنگین مسئلے کو پس پشت ڈال کربھول چکے ہیں، بلکہ حاصل کردہ ڈیٹا کے فارمز کی تصدیق کا عمل شروع ہے، جو جلد ہی مکمل ہوجائے گا۔

اسی موضوع پرخیبر پختونخوا کے قدرتی وانسانی آفات سے نمٹنے والے صوبائی ادارے ‘پی ڈی ایم اے’ کے ترجمان احسان داوڑ نے میڈیا کو بتایا: ’اس سے قبل بھی 8000 خاندانوں کی شمالی وزیرستان واپسی ہوگئی ہے، لہذا باقی خاندانوں کی واپسی بھی ہوجائے گی۔‘

انہوں نے کہا کہ غلام خان پر دھرنا دینے والوں کے لیے انتظامات کرلیے گئے ہیں۔ ان کے لیے ایک رجسٹریشن پوائنٹ بھی بنا دیا گیا ہے اور ان کے لیے سامان بھی پہنچا دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ افغانستان میں پھنسے زیادہ تران متاثرین کی اکثریت وہ لوگ ہیں، جن کو حکومت کی جانب سے بارہا وطن واپس لانے کی کوششیں کی گئیں، لیکن یہ لوگ واپسی اور بحالی کے عمل پر تحفظات رکھنے کے باعث اپنے علاقے میں جانے پر رضامند نہیں تھے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان