سوات کے سکول پرنسپل جنہیں پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں کا غم نہیں

سائیکل سے اپنی محبت کہانی بیان کرتے ہوئے عبدالقیوم بلالہ نے بتایا کہ 1952 میں انہوں نے پہلی سائیکل خریدی جب وہ پرائمری سکول میں زیر تعلیم تھے۔

عمر کے اس مقام پر جہاں لوگ مختلف بیماریوں کے شکنجے میں ہوتے ہیں، وہیں سائیکل سے 86 سالہ رفاقت کی بدولت عبدالقیوم بیماریوں سے کوسوں دور ایک تندرست زندگی گزار رہے ہیں (فوٹو: شہزاد نوید/ ویڈیو سکرین گریب)

سوات کی تحصیل کبل کے علاقے سرسینئی سے تعلق رکھنے والے 65 سالہ عبدالقیوم بلالہ کو زندگی میں کبھی بھی پیٹرول کی قیمتوں نے پریشان نہیں کیا۔

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے نے عوام کی زندگی اجیرن بنادی ہے لیکن سکول کے پرنسپل عبدالقیوم بلالہ کا ان قیمتوں سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں کیونکہ سفر مختصر ہو یا طویل، سائیکل ہی عبدالقیوم کا اوڑھنا بچھونا ہے اور انہیں اپنی سائیکل سے بے انتہا محبت ہے۔

عمر کے اس مقام پر جہاں لوگ مختلف بیماریوں کے شکنجے میں ہوتے ہیں، وہیں سائیکل سے رفاقت کی بدولت عبدالقیوم بیماریوں سے کوسوں دور ایک تندرست زندگی گزار رہے ہیں۔

عبدالقیوم بلالہ نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا: ’میں ملک بھر میں ہمیشہ سائیکل پر ہی گھومتا ہوں۔ پیٹرول سستا ہو جائے یا مہنگا، مجھے کوئی پریشانی نہیں ہوتی۔ سائیکل پر سفر کرنے سے میں تندرست ہوں، جسم چست و توانا ہے اور اب تو لوگ ورزش کے لیے ایک قسم کی ساکت سائیکل چلاتے ہیں، میرے نزدیک سائیکل پر سفر کرنا ایک اچھی اور مفید ورزش ہے۔‘

سائیکل سے اپنی محبت کہانی بیان کرتے ہوئے عبدالقیوم نے بتایا کہ 1952 میں انہوں نے پہلی سائیکل خریدی جب وہ پرائمری سکول میں زیر تعلیم تھے۔ ’پہلے میں سائیکل پر صرف سکول و کالج جایا کرتا تھا لیکن پھر میں نے اپنی روزمرہ زندگی میں سائیکل کو ہی اپنا سہارا بنا لیا، اب میرے پاس تین سائیکلیں ہیں لیکن میں اپنی پہلی سائیکل پر سفر کرنے کو ترجیح دیتا ہوں۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’میں نے پانچویں جماعت میں سوات سے پشاور تک کا پیدل سفر بھی کیا جس پر میرے تین دن لگے تھے۔‘

عبدالقیوم بلالہ نے بارہویں جماعت تک تعلیم سوات میں حاصل کی اور پھر مزید تعلیم کے لیے کراچی یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور 1971 میں انہوں نے جغرافیہ میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی۔ جب واپس سوات آئے تو یہاں پر نوکری کے لیے کوششیں شروع کی لیکن نوکری نہیں ملی، جس کے بعد انہوں نے اپنے علاقے میں ایک نجی تعلیمی ادارہ قائم کیا جہاں پر وہ بچوں کو پڑھاتے ہیں۔

عبدالقیوم بلالہ مزید کہتے ہیں کہ بچپن سے جوانی تک سائیکل پر سفر کرنے میں انہیں کسی قسم کی تکلیف یا پریشانی نہیں اٹھانی پڑی لیکن جب ان کی عمر آہستہ آہستہ ڈھلنے لگی تو لوگوں نے باتیں کرنا شروع کردیں کہ یہ دیکھو بوڑھا شخص سائیکل پر سفر کر رہا ہے ۔

’کئی دفعہ لوگوں نے میری حوصلہ شکنی بھی کی لیکن میں ٹھہرا سائیکل کا دیوانہ ،اتنی آسانی سے ہار ماننے والا نہیں تھا۔ ‘

2018 میں عبدالقیوم بلالہ نے سوات سے کراچی تک کا سفر سائیکل پر کیا، جیب میں 25 ہزار روپے لے کر وہ 18 دنوں میں کراچی پہنچے، اس دوران راستے میں انہیں کافی مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

بقول عبدالقیوم: ’مختلف دشوار گزارراستوں سے 18 دنوں میں کراچی پہنچا، راستے میں مختلف مقامات پر قیام بھی کیا اور جگہ جگہ پر لوگوں نے استقبال بھی کیا۔ ’ایک مقام پر کتے نے بھی کاٹ لیا لیکن میرے حوصلے پست نہیں ہوئے اور میں بڑھتا چلا گیا اور بالآخر منزل مقصود تک پہنچ گیا۔‘

اب ان کی خواہش ہے کہ وہ گوادر اور پھر وہاں سے ایران کا سفر کریں۔

عبدالقیوم بلالہ سائیکل سے اپنی محبت کی انوکھی داستان کے علاوہ چار کتابوں کے مصنف بھی ہیں، جن میں سے دو کتابیں اردو ’داستان سوات، چارمنگ سوات،‘ ایک پشتو کتاب ’بچوں کے لیے پیاری کہانیاں‘ اور ایک انگریزی ‘ابراہم لنکن‘ کے بارے میں ہے۔ اس کے علاوہ عبدالقیوم بلالہ بینجو بجانے میں بھی مہارت رکھتے ہیں۔

خیبرپختونخوا کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی کے ڈپٹی مینیجر سعد بن اویس نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ عبدالقیوم بلالہ کا سائیکل پر سفر کرنا ایک طرف لوگوں کی حوصلہ افزائی کا باعث بن رہا ہے، تو دوسری جانب اِسے سیاحت کے فروغ اور ملک کا ایک مثبت پہلو نمایاں کرنے میں اہم کردار مانا جا رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ’یہ شخص سائیکل چلا کر لوگوں کو یہ احساس دلا رہا ہے کہ پیٹرول کی قیمتیں چاہے جتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہوں انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ عبدالقیوم بلالہ کا اس عمر میں پورے ملک کے اندر سائیکل پر سفر کرنا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان اب ایک پر امن علاقہ ہے جبکہ سوات کے نام سے پورے ملک میں گھومنا یہاں کی سیاحت کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کررہا ہے۔‘

ماہرین کے مطابق سائیکل چلانا صحت کے لیے نہایت مفید ورزش ہے۔ یہ ورزش جسم کے تمام پٹھوں اور اعضا کو حرکت میں لا کر انہیں فعال کرتی ہے۔ اگر اس عادت کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیا جائے تو گاڑیوں اور دیگر سفری سہولیات کی وجہ سے پیدا ہونے والی ماحولیاتی آلودگی کو بھی کم کیا جاسکتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا