دوحہ مذاکرات ختم، امریکہ سے مزید بات چیت کے لیے تیار: ایران

ایران کا کہنا ہے کہ وہ قطر میں ہونے والے اس مذاکراتی دور کے بعد امریکہ سے نئے بلاواسطہ مذاکرات کے لیے تیار ہے تاکہ جوہری معاہدے کی بحالی کی راہ میں آخری رکاوٹوں کو دور کیا جا سکے۔

ایران کی ایٹمی توانائی تنظیم کی جانب سے 23 دسمبر 2019 کو جاری کی گئی ایک تصویر میں دارالحکومت تہران کے جنوب میں واقع جوہی پلانٹ اراک کا ایک منظر  (فائل فوٹو: اےایف پی/ ایچ او/ اٹامک انرجی آرگنائزیشن آف ایران)
 

قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ایران اور امریکہ کے درمیان بلواسطہ مذاکرات کے بعد ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کے باعث 2015 کے جوہری معاہدے کی بحالی کے امکانات اور بھی کم ہیں جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ وہ امریکہ سے مزید بات چیت کے لیے تیار ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بات کرتے ہوئے امریکی عہدیدار کا کہنا تھا کہ ’دوحہ مذاکرات کو زیادہ سے زیادہ بہتا پانی قرار دیا جا سکتا ہے یا اسے واپسی کا سفر کہا جا سکتا ہے۔ اس وقت یہ بہتا پانی الٹی سمت بہہ رہا ہے۔‘

امریکی عہدیدار نے ان معاملات کی تفصیل نہیں بتائی جن پر دوحہ مذاکرات میں بات چیت ہو رہی ہے۔

قطرمیں ہونے والے ان مذاکرات میں یورپی یونین کے عہدیداروں نے دونوں ممالک کے درمیان پیغام رساں کا کردار ادا کیا ہے تاکہ ایران اور امریکہ کے درمیان 2015 میں ہونے والے جوہری معاہدے کو بحال کیا جا سکے۔

دوسری جانب ایران کا کہنا ہے وہ قطر میں ہونے والے اس مذاکراتی دور کے بعد امریکہ سے نئے بلاواسطہ مذاکرات کے لیے تیار ہے تاکہ جوہری معاہدے کی بحالی کی راہ میں حائل آخری رکاوٹوں کو دور کیا جا سکے۔

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق اقوام متحدہ میں تعينات ایرانی سفیر ماجد تخت روانچی نے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کو بتایا کہ ’ایران کی مذاکراتی ٹیم دوبارہ تعمیری بات چیت اور معاہدے پر پہنچنے کے لیے تیار ہے۔‘

انہوں نے مزيد کہا کہ ’گیند اب امریکہ کی کورٹ میں ہے، اگر امریکہ عملیت پسندی کا ثبوت دیتے ہوئے سنجیدہ رویہ اپناتا ہے تو معاہدہ ہونا ناممکن نہیں ہے۔‘

روانچی کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان دوحہ میں جاری مذاکرات بغیر کسی پیش رفت کے ختم ہو چکے ہیں۔

تاہم روانچی نے ان مذاکرات کو ’سنجیدہ اور مثبت‘ قرار دیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ، ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان 2015 میں ہونے والے معاہدے سے 2018 میں یکطرفہ طور پر علیحدگی اختیار کر لی تھی جس کے بعد انہوں نے ایران پر سخت پابندیاں عائد کر دی تھیں۔

مذاکرات کے حالیہ دور کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس کے دوران امریکہ، برطانیہ اور فرانسیسی عہدیداروں نے دوحہ مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار ایران کو قرار دیا ہے۔

اجلاس کے دوران ایرانی سفیر نے کہا کہ ’ایران نے امریکہ سے اس بات کی گارنٹی مانگی ہے کہ دوبارہ اس معاہدے کو چھوڑا نہیں جائے گا اور امریکہ اس کی شقوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایران پر پھر سے پابندیاں عائد نہیں کرے گا۔‘

اس حوالے سے بات کرتے ہوئے امریکی عہدیدار کا کہنا تھا کہ امریکہ نے اپریل 2021 میں مذاکرات کے آغاز میں ہی ایران کو بتا دیا تھا کہ امریکہ ایران کو اس بات کی کوئی قانونی ضمانت نہیں دے سکتا کہ مستقبل کی امریکی انتظامیہ اس معاہدے پر قائم رہے گی۔

ان کا کہنا تھا: ’ہم کہہ چکے ہیں کہ ہم مستقبل کی انتظامیہ کو اس پر پابند رکھنے کا کوئی قانونی راستہ نہیں رکھتے۔ اس لیے ہم نے اس کے متبادل تلاش کرنے کی کوشش کی۔ ہمارے مطابق یہ معاملہ ختم ہو چکا ہے۔‘

امریکی اور ایرانی حکام دونوں نے گیند دوسرے کے کورٹ میں ہونے کے بیانات بھی جاری کیے ہیں۔

امریکی عہدیدار نے ایران کے اس موقف کو بھی مسترد کیا ہے جس کے مطابق مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کا ذمہ دار امریکہ کو ٹھہرایا گیا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا