ایک بولر کا بولر سے آمنا سامنا

برمنگھم میں کھیلے جانے والے پانچویں ٹیسٹ میچ کے دوسرے دن جسپریت بمرا نے سٹوارٹ براڈ کے ایک اوور میں 35 رنز بنائے جو ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کا سب سے مہنگا اوور بن گیا ہے۔

بمرہ نے دو جولائی کو برمنگھم میں کھیلے جانے والے ٹیسٹ کے دوران براڈ کے ایک اوور میں سب سے زیادہ رنز بنائے (اے ایف پی)

کرکٹ اور خاص طور پر ٹیسٹ کرکٹ میں اکثر ایسا دیکھا گیا ہے کہ کسی بھی ٹیم میں اوپر کے نمبر پر آنے والے بلے باز جن بولرز کو نہیں کھیل پا رہے ہوتے انہیں کے خلاف نیچے کے نمبرز پر بلے بازی کرنے والے یعنی ٹیل اینڈرز آتے ہی چوکے چھکوں کی برسات کر دیتے ہیں۔

اس حوالے سے عام طور پر تو یہی کہا جاتا ہے کہ چونکہ ٹیل اینڈرز بولرز ہوتے ہیں تو ان پر رنز کرنے کا دباؤ ہوتا نہیں اس لیے وہ کھل کر کھیلتے ہیں۔

اسی صورتحال کو الٹ کر لیں تو آپ نے بھی دیکھا ہوگا کہ ایسا ہی اس وقت بھی ہوتا ہے جب اوپر کے نمبرز پر کھیلنے والے بلے باز بڑا سکور کریں تو تب بھی اکثر ٹیل اینڈرز بڑا سکور کر لیتے ہیں۔۔۔ وجہ وہی ہے، اچھا سٹارٹ اور کم دباؤ۔

بالکل ایسا ہی برمنگھم میں بھارت اور انگلینڈ کے درمیان کھیلے جانے والے میچ میں بھی ہوا ہے جہاں ایک بولر نے دوسرے بولر کے خلاف ورلڈ ریکارڈ بنایا۔

رنز لینے والے جسپریت بمرا ہیں اور رنز دینے والے سٹوراٹ براڈ ہیں۔

برمنگھم میں کھیلے جانے والے پانچویں ٹیسٹ میچ کے دوسرے دن جسپریت بمرا نے سٹوارٹ براڈ کے ایک اوور میں 35 رنز بنائے جو ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کا سب سے مہنگا اوور بن گیا ہے۔

اس اوور آغاز بمرا نے چوکے سے کیا۔ اس کے بعد براڈ نے وائڈ بال کرائی جو کیپر کی پہنچ سے دور تھی اس لیے باؤنڈری لائن کراس کر گئی اس طرح بیٹنگ ٹیم کو پانچ رنز ملے۔

اگلے گیند نو بال قرار دی گئی مگر اس پر بمراہ نے چھکا بھی لگایا یعنی کل سات رنز ملے۔ اس کے بعد بمرا نے اگلی تین گیندوں پر لگاتار تین چوکے لگائے مگر سلسلہ وہاں رکا نہیں۔

اوور کی آخری دو گیندوں پر ایک چھکا اور ایک رنز بنا۔ اس طرح براڈ کے اس اوور میں کل 35 رنز بنے جو ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں کسی ایک اوور میں پڑنے والے سب سے زیادہ رنز ہیں۔

اگر وائڈ بال پر چوکے اور نو بال کو نکال دیا جائے تو بمرا کے بلے سے بننے والے رنز 29 ہیں۔ اس طرح وہ ٹیسٹ کرکٹ میں ایک اوور میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے بلے باز بن گئے ہیں۔

ان سے قبل گریٹ برائن لارا نے 2003 میں جوہانسبرگ میں پیٹرسن کے ایک اوور میں 28 رنز بنائے تھے۔ ان کے بعد آسٹریلیا کے جارج بیلی نے 2013 میں پرتھ میں اینڈرسن کے اوور میں بھی 28 ہی رنز جڑے تھے۔

صرف یہ دو بلے باز ہی نہیں بلکہ جنوبی افریقہ کے مہاراج نے پورٹ ایلزبتھ میں جو روٹ کے اوور میں بھی 28 رنز ہی بنائے تھے۔

آپ بھی یہی سوچ رہے ہوں گے کہ یہ سب تو ٹھیک ہے مگر یہ اچانک پانچواں ٹیسٹ کیسے شروع ہو گیا۔ تو بات ایسی ہے کہ بھارت اور انگلینڈ کے درمیان 2021 میں پانچ ٹیسٹ میچوں کی سیریز شروع تو ہوئی تھی مگر کرونا وبا کے باعث مکمل نہ ہو پائی تھی۔

اس سیریز کے چار ٹیسٹ میچ 2021 میں کھیلے جا چکے ہیں جن میں سے دو بھارت نے جیتے، ایک میں انگلینڈ کو کامیابی حاصل ہوئی جبکہ ایک ٹیسٹ میچ بغیر نتیجے کے ختم ہو گیا تھا۔

اسی سیریز کا پانچواں اور آخری ٹیسٹ میچ اب کھیلا جا رہا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ