جمہوریت کو فسطائیت کے خطرے کا سامنا

فسطائیت کا ایک اشد ضروری نشانہ انصاف کے ادارے بھی ہوتے ہیں تاکہ فسطائیت کے مخالف لوگوں کو کسی طور بھی حکمران طبقے کے خلاف سر اٹھانے کی جرات نہ ہو۔

فرانس میں فسطائیت کے خلاف احتجاج میں تقسیم ہونے والے پمفلٹ  (اے ایف پی)

پاکستان میں سوچ سمجھ رکھنے والا طبقہ، جو کہ تیزی سے سکڑتا جا رہا ہے، ملک میں آہستہ آہستہ مگر اعتماد سے بڑھتی ہوئی فسطائیت سے فکر مند ہے۔

یہ رینگتی فسطائیت پاکستانی سیاست میں کوئی نیا رجحان نہیں ہے۔ ہم نے 80 اور 90 کی دہائیوں میں جمہوری فسطائیت کا بھی پر زور مظاہرہ دیکھا تھا اور اس سے پہلے بدترین آمریت کے دور میں بھی۔ 2008 اور 2013 کے انتخابات، 18 ویں ترمیم اور میثاق جمہوریت کی جزوی پاسداری سے فسطائیت کے خلاف ایک نسبتاً مضبوط بند باندھ دیا گیا تھا جو موجودہ حالات میں پھر سے اپنے پر پھیلانے لگا ہے۔

فسطائیت کیوں خطرناک ہے اور وہ کیسے ہماری جمہوریت کو نقصان پہنچا سکتی ہے، ہمیں اس کے آگے بند باندھنے کی کیوں ضرورت ہے؟

فسطائیت نے یورپ میں جنگ عظیم اول اور دوم میں جرمنی اور اٹلی پر مکمل قبضہ رکھا جو کہ لاکھوں لوگوں کی موت پر ختم ہوا۔ اس کا کسی ملک میں بھی جاری رہنا اس کی بقا کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔

چونکہ فسطائیت کا مقصد کسی ایک شخص یا ادارے کا پورے معاشرے پر مکمل کنٹرول ہوتا ہے تو اس کے لیے اس شخص یا ادارے کے اردگرد ایک خیالی اور فرضی برتری اور حب الوطنی کا ہالہ بنایا جاتا ہے، اور اسے تقریباً ایک مسلک (cult) کی شکل دے دی جاتی ہے۔ وہ شخص یا ادارہ کوئی غلط کام نہیں کر سکتا اور عوام کو پروپیگنڈے کے ذریعے یقین کرا دیا جاتا ہے کہ ان کا کہا ہوا ہر لفظ سچ ہے۔ جھوٹ اتنی دفعہ بولا جاتا ہے کہ وہ سچ نظر آنے لگتا ہے اور اس سارے عمل میں لوگوں کے جذبہ حب الوطنی کا استحصال بے رحمی سے کیا جاتا ہے۔

اگر ہم آج کے پاکستان کے حالات کا بغور مطالعہ کریں تو بڑی اچھی طرح نظر آنے لگتا ہے کہ ایک شخصی ہیولا قائم کیا جا رہا ہے جس سے لگتا ہے کہ صرف ایک شخص یا ادارہ پاکستان کے سیاسی، معاشی اور سماجی مسائل کو حل کر سکتا ہے۔ وہ شخص سب سے زیادہ ایماندار ہے اور اس کے کسی عمل کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھنا یا اس کا تحقیقی جائزہ لینا ملک دشمنی ہے۔ کبھی کبھی اس میں مذہب کا تڑکا بھی لگا دیا جاتا ہے، اور جو تنقید کی جرات کرے اسے ہر قسم کے ننگے القابات بشمول ملک دشمنی سے نواز کر کے خاموش کرا دیا جاتا ہے۔

ان حرکات کا مظاہرہ ہمیں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت اور 90 کی دہائی میں بےنظیر بھٹو اور نواز شریف کی نام نہاد جمہوری حکومتوں میں بھی کھل کر نظر آیا۔

فسطائیت کا ایک اہم نشانہ بولنے کی آزادی پر پابندی یا اسے کنٹرول کرنا بھی ہوتا ہے۔ دوسری جنگ عظیم میں جرمنی اور اٹلی کی فسطائی حکومتوں نے اس اصول پر سختی سے عمل کرتے ہوئے سچ کے حصول کو تقریباً ناممکن بنا دیا۔ یہی طریقہ کار ہمیں جنوبی ایشیا میں بنگلہ دیش، بھارت اور پاکستان میں واضح طور پر نظر آ رہا ہے۔ غیرپسندیدہ بیانیے کو لوگوں کے کانوں اور آنکھوں سے دور کرنے کے لیے مختلف حربے استعمال کیے جا رہے ہیں۔

کبھی ٹی وی چینلوں پر پابندی، ان کی نشریات میں رکاوٹ، ناپسندیدہ کالم نگاروں کے مضامین کی اشاعت پر پابندی، میڈیا ہاؤسز کو سیلف سنسر پر مجبور کرنا، ان کے اشتہارات کو روکنا اور پسندیدہ اخبارات اور چینلوں پر اشتہارات کی بارش کرنا فسطائی ایجنڈے کی تکمیل کا ذریعہ ہیں۔ یہ سرگرمیاں مصنوعی طور پر عام لوگوں کو حقائق سے محروم تو کر دینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی ناقابل اعتبار معلومات کے ذرائع کو فروغ ملتا ہے، جس سے ریاست کے مخالف عناصر فائدہ اٹھاتے ہیں۔

لیکن فسطائی حکومتیں منفی مقاصد کے حصول کے لیے ان تباہ کن اثرات کو نظر انداز کرتے ہوئے معاشرتی مضبوطی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچاتی ہیں اور معاشرے میں ایک واضح تقسیم پیدا ہوجاتی ہے۔ ہم یہ تقسیم جنوبی ایشیا کے ملکوں میں بشمول پاکستان واضح طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ایک ایسی جھوٹ، نفرت اور تقسیم کی مہم چلائی جا رہی ہے جو کہ معاشرے کو تو کمزور کر رہی ہے مگر حاکم طبقے کی طاقت میں اضافہ کرتی جا رہی ہے۔

فسطائیت کا ایک اشد ضروری نشانہ انصاف کے ادارے بھی ہوتے ہیں تاکہ فسطائیت کے مخالف لوگوں کو کسی طور بھی حکمران طبقے کے خلاف سر اٹھانے کی جرات نہ ہو، اور جو یہ ہمت کرے اسے فوراً جھوٹے مقدمات میں پھنسا کر اور سزا دلوا کر دوسروں کے لیے نشان عبرت بنا دیا جائے۔ انصاف کے اداروں پر حملہ نہ صرف جمہوریت کی بنیادوں کو کھوکھلا کرتا ہے بلکہ معاشی اساس کو بھی سخت نقصان پہنچاتا ہے۔ کیونکہ کمزور نظام عدل بیرونی سرمایہ کاری کے اعتماد پر ایک کاری وار ہوتا ہے اور انہیں ملک میں سرمایہ کاری سے روکتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ہمارے ہاں فوجی آمریت کی مدت کے علاوہ جمہوری دور بھی فسطائی روایات سے بھرا رہا ہے۔ جمہوری حکومتوں میں بھی سیاسی مخالفین نشانہ رہے۔ کبھی کسی کو بھینس کی چوری اور کبھی کسی کو منشیات کی سمگلنگ اور مبینہ غداری پر قید و بند کی صعوبتیں سہنی پڑیں۔

2008 اور 2018 کے درمیان ان پرانی جمہوری اور آمرانہ حکومتوں کی بہ نسبت فسطائی ہتھکنڈوں سے بہت حد تک گریز کیا گیا۔ اس کی بھی وجہ شاید جمہوری حکومتوں کی سیاسی کمزوریاں تھیں نہ کہ جمہوری اقدار سے محبت یا عقیدت۔ اس دور میں بہت کم سیاسی سرکوبی دیکھنے کو ملی اور کوئی سیاسی قیدی جیل میں نہیں بھیجا گیا۔ میڈیا تقریباً مکمل آزاد رہا اور ہر روز حکومتوں کے گرنے کی نوید دیتا رہا۔ حکومتوں کے خلاف بڑے بڑے دھرنے کیے گئے اور ان پر پولیس ایکشن آخری قانونی حربے کے طور پر استعمال کیا گیا۔ یہ سب اقدامات چاہے مجبوری کے تحت کیے گئے، انہوں نے فسطائیت کے آگے بند باندھے رکھا۔

سول سوسائٹی نے بھی اس آزادی سے اپنی طاقت میں اضافہ کیا اور بہت ساری قانون سازی میں ایک اہم کردار ادا کیا۔

یہ تمام محدود جمہوری کامیابیاں جو ایک لمبی جدوجہد کے بعد حاصل ہوئیں، ان کو موجودہ حالات میں خطرے کا سامنا ہے۔ سیاسی مخالفین اور کارکنوں کی پکڑ دھکڑ، منشیات کی سمگلنگ کے مقدمے، میڈیا پر بےجا پابندیاں، تنقیدی مضامین کی اشاعت میں رکاوٹیں، صحافیوں کو دھمکیاں اور میڈیا ہاؤسز کو سیلف سنسر پر مجبور کرنا نہ صرف جمہوری اداروں کو کمزور کر رہا ہے بلکہ ریاست کی بنیادیں بھی ہلا رہا ہے۔

فسطائیت کی کامیابی جمہوریت کی موت ہو گی۔ اس لیے حکمرانوں اور اداروں کو آج کے فائدے کی بجائے مستقبل کی طرف دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ملک کا سیاسی استحکام جمہوریت سے وابستہ ہے نہ کہ فسطائی طاقتوں کو مضبوط کرنے سے۔

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر