سمندر میں قالین کی طرح تیرتے سولر پینل

بیلجیئم کے شہر اوسٹینڈ سے دور پانیوں میں ’فلوٹنگ سولر پارک‘ بنایا جائے گا، جس تنصیب کی پیداواری صلاحیت 500 کلو واٹ تک ہوگی۔

نیدرلینڈز اور ناروے میں قائم ایک ٹیک سٹارٹ اپ کمپنی بڑے پیمانے پر شمسی پینل تیار کر رہی ہے جو بحیرہ شمالی میں لہروں پر ’قالین کی طرح تیر سکتے ہیں۔‘

دا انڈپینڈنٹ کے مطابق ان پینلز کے ساتھ، سولر ڈک نامی کمپنی کے انجینیئرز کا مقصد کرہ ارض کے 36 کروڑ مربع کلومیٹر کے سمندروں کو توانائی کی پیداوار کے لیے استعمال کرنا ہے۔

اس مقصد کے لیے بیلجیئم کے شہر اوسٹینڈ سے دور پانیوں میں مرگنسر کے نام سے ایک ڈھانچہ ’فلوٹنگ سولر پارک‘ بنایا جائے گا۔ اس تنصیب کی پیداواری صلاحیت 500 کلو واٹ تک ہوگی۔

پائلٹ پراجیکٹ کامیاب ہونے کی صورت میں ٹیکنالوجی کو اگلے سال سے کمرشلائز کر دیا جائے گا۔

اس منصوبے کی مالی اعانت جرمنی میں توانائی کی بڑی کمپنی آر ڈبلیو ای کرتی ہے، جو روس-یوکرین جنگ کی وجہ سے قدرتی گیس پر اپنے انحصار سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سولر ڈک کے سی ای او کوین برگرز نے کہا: ’محفوظ، پائیدار اور سستی توانائی کی ضرورت یورپ اور دنیا بھر کی صنعت سے نئے اور فوری عمل درآمد کا مطالبہ کرتی ہے۔

’ناردن سی کے سخت حالات میں سولر ڈک کی مضبوط ٹیکنالوجی کا مظاہرہ ہمیں اس ٹیکنالوجی کو دنیا میں تقریباً کہیں بھی لاگو کرنے کے قابل بنائے گا۔‘

ساحلی علاقوں میں تیرتے سولر پینلز کا کامیاب تجربہ کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر 12 ہزار تیرتے سولر پینلز جو کہ چار فٹ بال کے میدانوں کے سائز کے ہیں، پیداوار شروع کرنے کے لیے مئی میں پرتگال کے الکویوا آبی ذخائر میں لگائے گئے تھے۔

ساحل سے دور رکھنے کے لیے بنایا گیا پینل زیادہ مشکل حالات کا مقابلہ کرنے کے قابل ہونا چاہیے۔ ان سخت حالات میں تیز ہوائیں، تیز لہریں اور سمندری پانی کے نمکیات شامل ہیں۔

اس لیے سولر پینل پلیٹ فارم تیار کیا ہے جو پینلز کو پانی کے اوپر رکھنے، نیچے کی لہروں کی پیروی کرنے اور کرنٹ کے مطابق ڈھالنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

اس طرح، آلات کے برقی اجزا کو خشک، صاف اور مستحکم رکھا جائے گا۔

یہ ڈیزائن فرانسیسی ریگولیٹری ایجنسی بیورو ویریٹاس سے سرٹیفیکیشن حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔ آف شور فلوٹنگ سولر پینلز کے لیے یہ پہلا سرٹیفیکیشن ہے۔

آر ڈبلیو ای ڈائریکٹرز میں سے ایک نے کہا، ’یہ ان ممالک کے لیے پرکشش مواقع فراہم کرتا ہے جن کی ہوا کی اوسط رفتار کم ہے لیکن زیادہ شمسی سہولت ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی تحقیق