آٹھ دنوں میں 27 لاشیں: سکھر بیراج میں تیرتی لاشیں کہاں سے آتی ہیں؟

مقامی لوگوں کے مطابق مون سون بارشوں کے بعد سکھر بیراج پر تیرتی ہوئی لاشوں کے ملنے کا سلسلہ کئی سالوں سے جاری ہے۔

23 مارچ، 2021 کی اس تصویر میں مقامی ملاح اور رضاکار سکھر کے قریب بہتے دریائے سندھ میں ایک کشتی میں نگرانی کرتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں(اے ایف پی)

سندھ کے تیسرے بڑے شہر سکھر کے قریب دریائے سندھ پر بنے قدیم سکھر بیراج میں گذشتہ کئی دنوں سے تیرتی ہوئی لاشیں ملنے کا سلسلہ جاری ہے۔ سکھر پولیس کے مطابق گذشتہ آٹھ دنوں کے دوران سکھر بیراج میں تیرتی ہوئی ملنے والی لاشوں کی تعداد 27 ہو چکی ہے۔

ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) پولیس سکھر ریجن جاوید جسکانی نے اتوار کو پاکستان کی مقامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سکھر بیراج کے دروازوں کے پاس تیرتی ہوئی 12 لاشیں ملی ہیں جن میں بیشتر لاشیں ناقابلِ شناخت تھیں۔‘

پولیس کے مطابق ملنے والی 27 لاشوں میں سے تین لاشیں ہندو خواتین کی تھیں۔

سینیئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) سکھر سنگھار ملک نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’اتوار کو ملنے والی لاشوں میں سے ایک لاش ایک ہندو خاتون کی تھی، جن کو ان کی موت کے بعد عقیدے کے مطابق دفنانے یا جلانے کے بجائے پانی میں بہا دیا گیا تھا۔ اور پولیس کی جانب سے مکمل تصدیق کرنے کے بعد اس لاش کو دوبارہ پانی میں بہا دیا گیا۔‘

سنگھار ملک کے مطابق: ’ملنے والی لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے ہسپتال بھیجا گیا، جس کے بعد ایدھی کے امدادی ادارے کے حوالے کر دیا گیا تاکہ ان کو امانتاً دفنایا جا سکے کیوں کہ جن لاشوں کی شناخت نہیں ہوتی انہیں امانتاً دفنایا دیا جاتا ہے۔‘

تیرنے والی لاشیں کچے کے قبرستانوں سے آئیں؟

ایس ایس پی سکھر سنگھار ملک کی جانب سے سکھر بیراج میں ملنے والی لاشوں کے بعد اعلیٰ حکام کے لیے بنائی جانے والی رپورٹ کے مطابق موجودہ وقت میں دریائے سندھ میں طغیانی ہے اور کچے میں سیلابی صورت حال ہے، جس کے باعث ممکنہ طور پر کچے کے قبرستانوں سے لاش بہہ کر سکھر بیراج پہنچی ہوں گی۔

دریائے سندھ کے دونوں کناروں پر مٹی کی دیواروں سے بڑے بند بندھے ہوئے ہیں تاکہ جب دریا میں طغیانی ہو تو دریا کا پانی باہر نکل کر سیلاب کا سبب نہ بنے۔ ان دیوار نما بندوں کے درمیان دریا کا فاصلہ کہیں زیادہ چوڑا تو کہیں کم ہو جاتا ہے۔

دونوں کناروں پر موجود ان بندوں کے درمیاں کئی جگہ پر 22 کلومیٹر کا فاصلہ ہے جیسے دریا سندھ کے دائیں جانب موجود شمالی سندھ کے ضلع شکارپور کی تحصیل خان پور اور دریا کے بائیں جانب سکھر کی تحصیل پنوعاقل سے لگنے والے کنارے کا فاصلہ 22 کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے۔ جبکہ کہیں دریا کے دونوں بندوں کے درمیان کا فاصلہ فقط دو کلومیٹر ہے جیسے سیہون کے قریب لکی شاہ صدر کے مقام پر ہے۔

 دریا سندھ کے دونوں کناروں پر موجود دیوار نما ان بندوں کے درمیان والے علاقے کو کچے کا علاقہ کہا جاتا ہے۔

کچے کی اس زرخیز زمین پر سندھ اور پنجاب میں زراعت کی جاتی ہے۔ کچے کے علاقے میں زراعت سے منسلک کسانوں کے متعدد دیہات کچے یہاں مستقل پائے جاتے ہیں جہاں بڑی تعداد میں لوگ رہتے ہیں۔

کچے کی ان بستیوں میں رہنے والے لوگوں نے یہاں قبرستان بھی بنا رکھے ہیں۔ پولیس رپورٹ کے مطابق سیلابی صورت حال کے بعد کچے کے ان قبرستانوں سے ممکنہ طور پر لاشیں نکل کر بہتی ہوئی سکھر بیراج تک چلی گئی ہیں۔

لاشیں دفن کیے جانے والے ہندوؤں اور سکھوں کی ہیں؟

ایس ایس پی سکھر سنگھار ملک کی مرتب کردہ پولیس رپورٹ کے مطابق ان لاشوں میں کچھ لاشیں طبی موت مرنے والے ہندوؤں اور سکھوں کی بھی ہوسکتی ہے جنہیں مذہبی عقیدے کے مطابق مرنے کے بعد ان کے لواحقین دفنانے کے بجائے پانی میں بہا دیتے ہیں۔

 کیا ہندو دھرم میں مرنے والوں کو پانی میں بہانے کا رواج ہے؟

 یہ جاننے کے لیے کراچی کے اوڈیرو لال مندر کے شیوادھاری اور پنڈت گوسوامی مہاراج وجے سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’ہندو مذہب کے عقیدے میں مرنے والوں کی ’اگنی سنسکار‘ یا جلانے کی رسم عام ہے۔’

ان کے مطابق ’جلانے کے علاوہ ہندو دھرم کے عقیدے کے مطابق ’جل گھاٹ‘ یا جل ارپن یعنی مُردے کو بہتے پانی میں بہا دینے کی رسم بھی موجود ہے۔’جل گھاٹ‘ بھی ہندو دھرم میں ’کریا کرم‘ یعنی آخری رسومات کا ایک حصہ ہے۔‘

 مہاراج وجے نے انڈپینڈنٹ اردو کو مزید بتایا: ’مگر بھارت کی طرح پاکستان میں ندیوں کی بہتات نہیں ہے کہ یہ رسم ادا کی جائے۔ سندھو ندی ہی واحد بڑی ندی ہے مگر اس میں بھی پانی نہیں ہے۔ اس لیے پاکستان میں ’جل گھاٹ‘ یا ’جل ارپن‘ کم ہوتا ہے۔‘

لاشوں کی اکثریت الٹنے والی کشتی سواروں کی ہیں؟

18 جولائی کو پنجاب کے علاقے مچھکو کے قریب دریائے سندھ میں باراتیوں کی ایک کشتی دریائے سندھ میں الٹنے سے 20 افراد ہلاک ہو گئے اور 30 افراد لاپتہ ہوگئے۔ جن میں اکثریت خواتین کی تھی۔

حکام کے مطابق کشتی میں گنجائش سے زیادہ لوگ سوار تھے جن کی تعداد 100 سے زیادہ بتائی جا رہی ہے اور وہ شادی کی تقریب میں شرکت کے لیے جا رہے تھے۔

سکھر بیراج پر نامعلوم لاشیں کب سے آرہی ہیں؟ تھانوں کی حدود کا کیا تنازع ہے؟

سکھر کے مقامی لوگوں کے مطابق مون سون بارشوں کے بعد جب سکھر بیراج پر سیلابی صورت حال ہوتی ہے تو اس وقت تیرتی ہوئی لاشیں ملتی ہیں اور لاشوں کے ملنے کا یہ سلسلہ گذشتہ کئی کئی سالوں سے جاری ہے۔

ایس ایس پی سکھر سنگھار ملک کے مطابق اس طرح کی نامعلوم افراد کی لاشیں ہرسال تیرتی ہوئی سکھر بیراج میں نظر آتی ہیں۔ گذشتہ سال سکھر بیراج سے 31 لاشیں ملیں تھیں۔

سکھر کے سینیئر صحافی ممتاز بخاری کے مطابق دو سال قبل سکھر بیراج سے 36 لاوارث لاشیں ملی تھیں۔

ممتاز بخاری کے مطابق سکھر بیراج پر ملنے والی لاشوں میں سے کچھ لاشیں ممکنہ طور پر اس کشتی حادثے میں ہلاک ہونے والے افراد کی ہوسکتی ہیں۔

1932  میں تعمیر ہونے والا سکھر بیراج درائے سندھ پر بننے والا پہلا بیراج ہے۔ جس کے کُل 66 دروازے ہیں۔

سکھر بیراج کے یہ 66 دورازے سکھر ضلع کے دو پولیس تھانوں کے حدود میں بٹے ہوئے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ممتاز بخاری نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ گیٹ نمبر ایک سے 34 تک سکھر شہر کے تھانے اے سیشن کی حدود میں آتا ہے جبکہ گیٹ نمبر 35 سے گیٹ نمبر 66 تک روہڑی تھانے کی حدود میں آتے ہیں۔

سکھر میں عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں کہ دونوں تھانوں کے درمیان تنازعے کے باعث سکھر بیراج میں تیرتی ہوئی لاشوں کو نہیں نکالا جاتا۔

امیرِ جماعتِ اسلامی پاکستان سراج الحق نے ہفتے کی شام کو سکھر بیراج پر تیرتی ہوئی لاشوں کی ویڈیو اپنے ٹوئٹر اور فیس بک پر وڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’آج سکھربیراج سےگزرنا ہوا۔ تین دنوں سے یہاں تین لاشیں تیر رہی ہیں۔ اور تھانہ روہڑی اور تھانہ سکھر میں حدود کےاختلاف کی وجہ سےاب تک ان لاشوں کو نکالا نہیں جاسکا۔ کیسا خراب طرزحکمرانی اور سنگدلی ہے۔‘

ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) پولیس سکھر ریجن کے تعلقات عامہ کے عہدیدار فرحان سرور نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے اس خیال کو یکسر مسترد کردیا کہ ’لاشیں اس لیے تیر رہی ہیں کہ تھانوں کے درمیاں حدود کا تنازع ہے۔‘

ان کے مطابق: ’ایسا بالکل بھی نہیں ہے۔ ایسا تب ہو جب پانی میں کہیں سے تیر کر آنے والے لاش کو باہر نکالنا پولیس کا کام ہو۔ یہ کام ضلعی انتظامیہ، سول ڈیفینس یا پھر محکمہ آبپاشی کا ہے، جن کا بیراج پر کنٹرول ہے۔‘

’پولیس لاش پانی سے باہر نکلنے کے بعد اس کا پوسٹ مارٹم کرانے یا تفتیش کرنے کی پابند ہے۔ مگر اس وقت کوئی شعبہ نہیں نکال رہا تو مجبوری میں پولیس لاشیں نکال رہی ہے۔ اس وقت سکھر میں کوئی سرکاری غوطہ خور نہیں ہیں۔ اس لیے کچھ نجی افراد کو رقم دے کر لاش نکالی جاتی ہے۔‘

تھانوں کی حد بندی کو 1978 میں فوت ہونے والے سندھی زبان کے نثر نویس نسیم کھرل نے اپنی ایک کہانی ’چونتیسواں دروازہ‘ میں ایک ایسی ہی کہانی میں بیان کیا تھا۔ جس میں بیراج کا پانی ناپنے والے گیج ریڈر کو ایک ایسی ہی لاش گیٹ نمبر 34 پر دکھائی دیتی ہے تو وہ ایک تھانے کو اطلاع کرنے جاتے ہیں، تب تک لاش پانی میں بہہ کر دوسری تھانے کی حد والے دروازے میں چلی جاتی ہے۔ جس پر دوسرا تھانا بھی ان کی فریاد نہیں سنتا اور تنگ آکر گیج ریڈر گیٹ کھول کر لاش کو بہا دیتا ہے۔

 ممتاز بخاری کے مطابق وہ کہانی افسانوی کہانی تھی کیوں کہ سکھر بیراج کے دروازوں کی باضابطہ حدبندی 2012 میں ہوئی ہے۔

سکھر بیراج پر سرکاری غوطہ خوروں اور لانچ کی عدم دستیابی

سکھر بیراج کے قریب دریا کے کنارے لب مہران کے مقام سے متصل ایک جگہ کا نام لانچ موڑ ہے جہاں مقامی لوگوں کے مطابق ماضی میں محکمہ آبپاشی کی لانچیں رکھی جاتی تھیں ایسی کسی ایمرجنسی میںا استعمال کیے جاتے تھے۔

سوشل میڈیا پر ایک وائرل ویڈیو میں دیکھا گیا ایک مقامی صحافی ایک غوطہ خور کا انٹرویو لے رہا ہے جس میں مقامی غوطہ خور محمد علی میرانی نے بتایا کہ وہ کئی سالوں سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بیراج میں تیرتے ہوئے لاشیں نکال رہے ہیں اور انھیں پولیس کی جانب سے کچھ رقم دی جاتی ہے۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ ان کو سرکاری غوطہ خور کے طور ہر نوکری دی جائے۔

اس سلسلے میں جب صوبائی وزیر  آبپاشی  جام خان شورو سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’میں نے وائرل ویڈیو دیکھی ہے اور محمد علی میرانی کو سرکاری غوطہ خور مقرر کردیا گیا ہے۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ بیراج محکمہ آبپاشی کے زیرانتظام ہے تو وہاں غوطہ خور اور کوئی لانچ کیوں نہیں ہے؟ جس پر انھوں نے کہا کہ یہ معلومات ان کے پاس فی الحال نہیں ہے، وہ جلد ہی معلومات لے کر رابطہ کریں گے، مگر اس خبر کے فائل ہونے تک ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان