آرمی چیف کی امریکہ کو فون کال دنیا کو کیا پیغام دیتی ہے؟

دلچسپ بات یہ ہے کہ حکومت سمیت سیاست دانوں کی اکثریت نے جنرل باجوہ کی امریکی مدد کی کال پر عوامی سطح پر کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا۔

 آرمی چیف قمر جاوید باجوہ 2019 میں امریکہ کے دورے کے موقعے پر واشنگٹن میں امریکی چیف آف سٹاف جنرل جوزف ڈنفرڈ کے ساتھ (اے ایف پی) 

غیر ملکی نیوز ایجنسیوں نے 29 جولائی کو خبر دی کہ پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے امریکی ڈپٹی وزیر خارجہ وینڈی شرمین کو کچھ روز پہلے فون کیا، اور ان سے کہا کہ وہ پاکستان کو 1.2 ارب ڈالر کی جلد ادائیگی کے لیے پاکستان کی مدد کریں یعنی آئی ایم ایف سے رابطہ کریں۔

اس کال کی سب سے پہلے خبر جاپانی خبر رساں ایجنسی نکی ایشیا نے دی۔ یہ رپورٹ، جس کا عنوان تھا، ’پاکستان کے آرمی چیف نے ڈیفالٹ سے بچنے کے لیے امریکہ سے مدد کی اپیل کی،‘ بین الاقوامی سطح پر وائرل ہو گئی۔ پاکستانی فوج کے ذرائع نے اس خبر کی ترید نہیں کی۔

ابھی اس خبر پر تبصرہ آنا شروع ہی ہوا تھا کہ ایک اور فون کی خبر آئی۔ وہ پاکستانی ذرائع نے رپورٹ کی لیکن آرمی کے اپنے آئی ایس پی آر سے یا کسی بڑے اخبار سے نہیں آئی بلکہ ایک آن لائن اخبار نے کی۔

اس خبر کے مطابق چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ اور کمانڈر یونائیٹڈ سٹیٹس سینٹ کام جنرل مائیکل ایرک کوریلا کے درمیان جولائی 29 کو ٹیلی فونک گفتگو ہوئی۔ گفتگو کے دوران باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی استحکام، دفاع اور سکیورٹی تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، اس کے علاوہ مشترکہ مفادات کی بنیاد پر باہمی طور پر سود کثیر جہتی تعلقات کو فروغ دینے کے لیے اور خطے کی عسکری صورت حال پر بات ہوئی۔

رپورٹ یہ بھی ہوا کہ امریکی کمانڈر نے پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت کا اعتراف کیا۔ دو آرمی کمانڈروں میں گفتگو تو بنتی ہے، یہ روٹین کی بات تھی، کوئی غیرمعمولی نہیں۔

 سوال پہلی فون کال پر اٹھتے ہیں۔ کال کا مقصد تو ایک ہی رہا ہو گا، پاکستان کو اقتصادی مشکل سے نکالنا۔ پر سوال تو اور بھی ہیں۔ آیا ان معاملات میں ملوث ہونا آرمی چیف کا آئینی لحاظ سے درست ہے، حالانکہ بظاہر آرمی چیف پاکستان کو ڈیفالٹ کے قریب کی صورت حال سے نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ حکومت سمیت سیاست دانوں کی اکثریت نے آرمی چیف کی امریکی مدد کی کال پر عوامی سطح پر کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا۔ البتہ سابق وزیراعظم عمران خان نے ایک انٹرویو میں کہا کہ اس قسم کی کال کرنا آرمی چیف کا کام نہیں اور اگر پاکستان امریکہ سے مدد مانگ رہا ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ امریکہ بھی پاکستان سے کوئی مطالبہ کرے گا۔

یہ یاد رہے کہ آرمی چیف نے عمران خان کی حکومت کے دوران سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے بھی مدد کی درخواست کی تھی۔ اس وقت پاکستان کو ڈالر کے ذخائر میں تیزی سے کمی کے مسائل کا سامنا تھا اور اسے ڈالروں کے علاوہ نرم شرائط پر خام تیل کی بھی ضرورت تھی۔

اس وقت پی ٹی آئی حکومت کے وزرا نے آرمی چیف کی کامیاب کردار کی تعریف کی تھی۔ وزیراعظم نے بھی آرمی چیف کی مدد کو سراہا تھا۔ اس وقت آرمی چیف کے آئینی مینڈیٹ اور ان کے کردار پر کوئی سوال نہیں اٹھایا گیا۔ درحقیقت، آرمی چیف کی سہولت کو معمول کے طور پر دیکھا گیا کیونکہ سویلین حکومت اور فوج کی اعلیٰ کمان ’ایک ہی صفحے پر‘ سمجھی جاتی تھیں۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا کسی ملک کے آرمی چیف کے لیے یہ آئینی اور سیاسی طور پر درست ہے کہ وہ کسی دوسرے ملک کے اہلکار کو فون کرے اور آئی ایم ایف سے فنڈز کی جلد تقسیم کے لیے مدد طلب کرے؟

تاہم اس وقت کے اپوزیشن رہنماؤں نے آرمی چیف کی مدد و مداخلت پر شاید ہی کوئی آئینی سوال اٹھائے۔ فقط اس کو فوج کی اپنے وزیر اعظم کی حمایت کے طور پر ہی دیکھا۔

آج سوال یہ بھی ہے کہ امریکی وینڈی شرمین کو چیف کی ایس او ایس فون کال نے پاکستان کے اندر کی صورت حال، گورننس، خارجہ پالیسی، معیشت، حکومت، بشمول آرمی چیف کی عالمی امور کی سمجھ اور آئی ایم ایف جیسی تنظیموں کے کام کے بارے میں کئی اہم سوالات اٹھائے ہیں۔ ان تمام سوالات میں سے تین قابل ذکر ہیں:

اول: کیا کسی ملک کے آرمی چیف کے لیے یہ درست ہے کہ وہ دوسرے ملک کے اہلکار کو فون کرے؟

اور نہ صرف کال کرے بلکہ آئی ایم ایف سے فنڈز کی جلد تقسیم کے لیے مدد مانگے؟ یقینی طور پر نہیں۔ آرمی چیف ایک جمہوری نظام میں اپنےعہدے پر فائز ہیں، ایک فوجی حکومت میں نہیں۔ ان کا خارجہ پالیسی اور ملک کے معاشی معاملات میں ملوث ہونا غیر آئینی ہے۔

اس طرح کی آرمی چیف کی امریکی انتظامیہ سے لابنگ پاکستان فوج ٹاپ کمانڈ کی شاید امریکہ کے ساتھ خصوصی تعلق کے خواہش کی نشاندہی کرتی ہے۔

اصل معاملہ پیچیدہ ہے۔ یہ دیکھتے ہوئے کہ پاکستان کو سٹریٹجک لحاظ سے مشکلات کا سامنا ہے، جہاں اس کا معاشی چیلنج جیو سٹریٹجک محاذ پر احتیاط سے چلنا ہے، جس میں چین اس کا دیرینہ ساتھی ہے اور امریکہ، ایک اہم ملک ہے جس کے ساتھ پاکستان کو منسلک رہنا چاہیے، تو کیا آرمی چیف کی کال کئی محاذوں پرغلط سگنل نہیں دیتی؟ ایسے اشارے جن سے پاکستان کا قد و کاٹھ اور مذاکراتی مقام کم ہوتا ہے؟

 بہرحال معاشی مشکل کوئی بھی ہو، آرمی چیف کی ایسی کال کا فائدہ کم اور سوال زیادہ ہیں اور ایسی کال محض فوجی ٹاپ کمان کے غیر آئینی کردار کو تقویت دیتی ہے جس کے پاکستان کو تاریخی طور پر بہت نقصان اٹھانا پڑے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ آرمی چیف نے طویل عرصے سے پاکستان کے وزیر خارجہ کے طور پر کام کیا ہے، خاص طور پر امریکہ کے ساتھ تعلقات میں۔ امریکی سفارت خانے کا ڈپٹی چیف آف مشن اکثر آرمی چیف سے ملنے جاتا ہے۔ آرمی چیف کی فون کال بھی ان خاص تعلقات کی عکاسی کرتی ہے۔  

دوم: اگر ایسی کال سے کوئی فائدہ حاصل ہونے کا امکان نہیں تو کال کیوں کی گئی؟

پاکستان کے معاملے میں، خاص طور پر جب سے پی ٹی آئی کی حکومت آئی ہے، نواز شریف کے اقتدار سے بےدخل ہونے کے بعد آرمی چیف پاکستان کے معاشی معاملات میں اس وقت ملوث ہوئے جب دفاع سے متعلق اخراجات میں اضافے کا معاملہ اٹھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پی ٹی آئی حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد جنرل باجوہ عملی طور پر ایک ’ہینڈز آن اکانومی مین‘ تھے۔ وہ خصوصی ترقیاتی منصوبوں وغیرہ جیسے معاملات میں ملوث تھے۔

عمران خان کی سابقہ حکومت کی طرح اس حکومت کو بھی کسی حد تک فوجی اعلیٰ کمان نے اقتدار میں آنے میں کچھ سہولت کاری کی تھی اور فوجی اعلیٰ کمان اب بھی کسی حد تک اس حکومت کی مدد کرتی ہے، اگرچہ وہ اس کی تردید کرتے ہیں اور فوج کا کہنا ہے کہ وہ ان معاملات میں ’نیوٹرل‘ ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ آرمی چیف کا دفتر طویل عرصے سے بہت سے معاملات میں فعال ہے۔ فون کال کے بارے میں سوال اسی تناظر میں عجب شاید محسوس ہوں۔ آخر چیف نے طویل عرصے سے پاکستان کے وزیر خارجہ کے طرح خارجہ شخصیات سے اہم ملاقاتیں کرتے رہے ہیں۔  

تین: آرمی چیف کی ایسی ایس او ایس کال پاکستان کے حالات کے بارے میں کیا بتاتی ہے؟

اس طرح کی کال واضح طور پر بتاتی ہے کہ پاکستان آئی ایم ایف کی رقم حاصل کرنے کے لیے کتنا بےقرار اور مجبور ہے۔ ایسی SOS  کال بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسی کے لیے پاکستان کی بحرانی اقتصادی صورت حال پر ایک مہر کی مانند ثابت ہوئی ہو گی۔

سوم: آخری سوال یہ ہے کہ کیا یہ کال ستمبر سے پہلے 1.2 ارب امریکی ڈالر کی ادائیگی کو تیز کرے گی جب آئی ایم ایف میں موسم گرما کے کی چھٹی کا وقفہ ہے؟ ہمارے خیال سے تو ایسا ہونا بہت مشکل دکھائی دیتا ہے۔

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کے ذاتی خیالات پر مبنی ہے جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ