ضمنی الیکشن: عمران خان نو نشستوں پر الیکشن لڑیں گے

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے قومی اسمبلی کی نو نشستوں کے لیے ضمنی انتخابات خود لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔

عمران خان 22 جون 2022 کو اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے (فوٹو اے ایف پی)

چیئرمین پی ٹی آئی نے آج بروز جمعہ بنی گالہ میں چند صحافیوں سے خصوصی بات چیت کی۔

عمران خان کے ساتھ ملاقات سے قبل شہباز گل کے ساتھ صحافیوں کی نشست ہوئی جس میں انہوں نے بتایا کہ ’عمران خان ایسے لوگ پاکستانی سیاست میں لائے جنہیں کسی کا خوف نہیں اور اسی لیے وہ کھل کر باتیں کرتے ہیں۔‘

بنی گالہ میں عمران خان کے آفس میں بڑی تعداد میں تحریک انصاف کے رہنما موجود تھے جو پارٹی کا آئندہ لائحہ عمل تیار کرنے میں مصروف تھے۔

شہباز گل نے عمران خان سے ملاقات کے لیے آئے صحافیوں سے چائے کا پوچھا اور کہا کہ ’یہاں چائے ایک بار ہی ملتی ہے یہاں پی لیں یا پھر عمران خان سے ملاقات کے دوران۔‘ مگر چائے دو سے تین مرتبہ ملی لیکن صرف چائے ہی ملی، اس کے ساتھ کچھ بھی نہیں تھا۔

عمران خان سے ملاقات شروع ہوئی تو سب سے پہلے انہوں نے چائے کا پوچھا اور کہا ہماری مہمان نوازی چائے ہی ہوتی ہے۔

ضمنی الیکشن کے حوالے سے عمران خان کا کہنا تھا کہ ’جنرل الیکشن 2018 میں پانچ نشستوں سے الیکشن لڑا تھا اور اس بار نو نشستوں پر میدان میں اتروں گا۔‘

سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے تحریک انصاف کے گیارہ استعفے قبول کیے تھے جن میں دو خواتین کی مخصوص نشستیں بھی شامل تھیں۔

نو جنرل نشستوں پر ضمنی انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 25 ستمبر کی تاریخ کا اعلان کیا ہے۔

حال ہی میں پنجاب میں ہونے والے ضمنی الیکشن میں 15 نشستوں پر کامیابی کے باوجود عمران خان کا کہنا تھا کہ ’لہر ہماری تھی مگر پھر بھی ن لیگ کے ووٹوں میں اضافہ ہوا۔‘

سربراہ تحریک انصاف الیکشن کمیشن کے فیصلے سے نالاں دکھائی دیے مگر ان کی باڈی لینگویج کافی مطمئن تھی اور ملاقات کے دوران مسکراتے رہے۔

عمران خان نے الیکشن کمیشن کے فیصلے پر مسکراتے ہوئے کہا کہ ’یہ فیصلہ الیکشن کمیشن کا نہیں بلکہ کہیں اور سے آیا ہے۔‘

انہوں نے چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کو اپنے دور حکومت میں ہونے والی ’دو بڑی غلطیوں میں سے ایک‘ قرار دے دیا۔ جب دوسری غلطی کے بارے میں استفسار کیا گیا تو انہوں نے بتانے سے گریز کیا۔

ممنوعہ فنڈنگ کے بارے میں پی ٹی آئی کے خلاف الیکشن کمیشن کے فیصلے سے متعلق عمران خان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کو ملنے والے عطیات میں غیر قانونی نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’جب تحریک انصاف نے یہ فنڈز جمع کیے، اس وقت صرف ملٹی نیشنل کمپنیوں اور دوسرے ممالک سے فنڈز جمع کرنا غیر قانونی تھا۔‘

عمران خان نے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے بغیر نام لیے انکشاف کیا کہ دو ممالک نے شاہ محمود قریشی کو فنڈز دینے کی آفر کی اور بتایا کہ اس سے پہلے وہ ممالک ’پاکستان پیپلز پارٹی کو سپورٹ‘ کرتے رہے ہیں۔

 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جنرل الیکشن کے متعلق پوچھا گیا کہ اگر 2023 میں ہوتے ہیں تو کیاا پی ٹی آئی کی مقبولیت کی حالیہ لہر اس وقت تک رہے گی؟ جواب میں عمران خان نے پراعتماد انداز میں کہا کہ ’الیکشن اسی سال کروانا ہے۔‘

عمران خان کا کہنا تھا کہ ’اگر چیف الیکشن کمشنر تبدیل نہ ہوئے تو صوبائی حکومتیں نہیں چھوڑیں گے۔‘

پی ٹی آئی کے آزادی مارچ سے متعلق عمران خان نے بتایا کہ جلد الیکشن کی تاریخ دینے کی ضمانت پر لانگ مارچ تاخیر سے ہوا اور اس دوران جو بھی ضمانتیں دی گئیں سب غلط ثابت ہوئی۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ’ان کا پروگرام مجھے گرفتار کرنے کا تھا اور جب میں پشاور پہنچا تو اس رات پولیس مجھے گرفتار کرنے بنی گالہ پہنچ چکی تھی۔‘

توشہ خانہ کے تحائف سے متعلق عمران خان کا کہنا تھا کہ اس سے لیے گئے تحائف، ان کی فروخت اور ٹیکس سب کچھ ظاہر کر رکھا ہے۔ انہوں مزید بتایا کہ ایک گاڑی بھی تحفے میں ملی جو میں نے نہیں رکھی کیوں کہ یہ قانون کے خلاف ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان