چین میں مسلمانوں کو حراست میں رکھنے کے خلاف 22 ممالک متحد

اقوام متحدہ کے بائیس رکن ممالک کی جانب سے چین پر زور دیا گیا ہے کہ وہ چین میں رہنے والے لاکھوں اویغور مسلمانوں کی گرفتاریاں بند کرے۔ یہ اس بارے میں اپنی نوعیت کی پہلی مشترکہ کوشش تھی۔

اقوام متحدہ کے مطابق کم سے کم دس لاکھ اویغور اور باقی اقوام سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کو چین کے مغربی صوبے سنکیانگ میں زیر حراست رکھا جا رہا ہے (اے پی)

اقوام متحدہ کے بائیس رکن ممالک کی جانب سے چین پر زور دیا گیا ہے کہ وہ چین میں رہنے والے لاکھوں اویغور مسلمانوں کی گرفتاریاں بند کرے۔ یہ اس بارے میں اپنی نوعیت کی پہلی مشترکہ کوشش تھی۔

اقوام متحدہ کے مطابق کم سے کم دس لاکھ اویغور اور باقی اقوام سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کو چین کے مغربی صوبے سنکیانگ میں زیر حراست رکھا جا رہا ہے۔

22 ممالک کے سفیروں کی جانب سے لکھے جانے والے اس خط میں ’بڑے پیمانے پر حراستی مرکز اور کڑی نگرانی کے ساتھ ساتھ اویغور سمیت باقی اقلیتوں پر عائد پابندیوں ‘ پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

ان ممالک میں برطانیہ، فرانس، جرمنی کے علاوہ کینیڈا، جاپان اور آسٹریلیا شامل ہیں۔ امریکہ گذشتہ برس اس کونسل سے علیحدگی اختیار کر چکا ہے۔

انسانی حقوق کے لیے سرگرم افراد کی جانب ے کونسل اجلاس کے دوران اس خط کا پڑھے جانا یا اس بارے میں قرارداد پیش کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا تھا جو پورا نہیں ہو سکا۔

یہ خط فورم کے صدر کو آٹھ جولائی کو لکھا گیا اور اس میں چین سے 47 رکنی فورم کا حصہ بننے پر مذہبی آزادیوں کے حوالے سے بلند معیار قائم کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

خط میں کہا گیا کہ ’ہم چین سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بین الاقوامی اور ملکی قوانین پر عمل کرتے ہوئے سنکیانگ سمیت پورے ملک میں بنیادی انسانی حقوق اور مذہبی آزادیوں کا احترام کرے۔ ہم چین سے یہ بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اویغور اور باقی مسلمانوں سمیت سنکیانگ میں موجود تمام اقلیتوں کی بے قاعدہ گرفتاریاں اور آزادانہ نقل و حمل پر عائد پابندیاں ختم کرے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

خط میں چین سے یہ تقاضہ بھی کیا گیا کہ وہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمشنر مشیل بیچلیٹ سمیت بین الاقوامی ماہرین کو سنکیانگ تک  آزادانہ رسائی دے۔

مشیل بیچلیٹ چلی کی سابقہ صدر ہیں۔ انھوں نے چین پر زور دیا ہے کہ وہ سنکیانگ میں مسلمانوں کے لاپتہ اور گرفتار کرنے کی اطلاعات پر اقوام متحدہ کو تحقیقات کی اجازت دے۔

گذشتہ ماہ جینیوا میں اقوام متحدہ کے لیے چین کے سفیر نے امید ظاہر کی تھی کہ مشیل بیچلیٹ دورے کی دعوت کی درخواست قبول کریں گی۔

ایک سفارت کار کی جانب سے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا گیا ہے کہ چینی وفد اس خط پر’شدید برہم‘ ہے اور اس کی جانب سے اس خط کا جواب دینے کی تیاری کی جا رہی ہے۔

ایک بیان میں ہیومن رائٹس واچ کی جانب سے اس خط کو یہ کہہ کر سراہا گیا کہ ’یہ نہ صرف سنکیانگ کے رہائشیوں کے لیے اہم ہے بلکہ دنیا بھر کے ان لوگوں کے لیے بھی جو اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل پر یقین رکھتے ہیں کہ وہ اس معاملے میں طاقتور ممالک کا بھی احتساب کر سکتی ہے۔‘

تین ہفتوں پر مشتمل اجلاس کے آغاز کے موقع پر سنکیانگ کے نائب گورنر نے عالمی برادی کی جانب سے ریاستی حراسی مراکز کی مذمت کے جواب میں کہا  تھا کہ ’یہ دراصل تربیتی مراکز ہیں جو لوگوں کو شدت پسند رجحانات سے محفوظ رکھنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔‘

گذشتہ ہفتے ایک تحقیق میں یہ کہا گیا تھا کہ چین میں ہزاروں مسلمان بچوں کو ان کے والدین سے علیحدہ کیا جا رہا ہے۔ رپورٹ میں اس کو ’سماج کی دوبارہ تشکیل اور تقافتی نسل کشی قرار‘ دیا گیا تھا۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا