عمران خان کو صرف عوام ہی سیاست سے باہر کر سکتے ہیں: پرویز خٹک

پی ٹی آئی رہنما کا کہنا ہے کہ نوازشریف واپس آئیں اور ون ٹو ون عمران خان کے ساتھ مقابلہ کریں۔

پرویز خٹک اور عمران خان کے درمیان ایک ملاقات کا منظر (تصویر پرویز خٹک/ٹوئٹر)

سابق وزیر دفاع اور پاکستان تحریک انصاف کے سینیئر رہنما پرویز خٹک نے پیر کو میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان فوج کی ان کی جماعت پی ٹی آئی سے کوئی نارضگی نہیں۔

انہوں نے نوشہرہ میں ہوئی گفتگو کے دوران کہا کہ عمران خان کو صرف عوام ہی سیاست سے آؤٹ کر سکتے ہیں۔

انہوں نے سندھ اور بلوچستان کی حکومتوں سے کہا کہ جلد انتخابات کے لیے وہ صوبائی اسمبلیاں تحلیل کر دیں تو پی ٹی آئی بھی دونوں صوبوں یعنی خیبرپختونخوا اور پنجاب کی اسمبلیاں توڑنے کو تیار ہے۔

پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ ’ممنوعہ فنڈنگ کیس میں کچھ بھی نہیں، سب ایک ڈرامہ ہے۔‘

ان کے مطابق: ’فوج کی پی ٹی آئی کے ساتھ کوئی ناراضگی نہیں۔ حالات ایسے بنے تھے کہ سب سمجھ رہے تھے کہ عمران خان ختم ہو گئے۔ میرا خود اب بھی فوج کےساتھ رابطہ ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ اتحادی حکومت پھنس گئی ہے یہ نہ حکومت چھوڑ سکتے ہیں نہ چلا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’نوازشریف کو واپس آنا چاہیے۔ وہ جیل جائیں یا ضمانت کرائیں۔ نوازشریف واپس آئیں اور ون ٹو ون عمران خان کے ساتھ مقابلہ کریں۔‘

دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے آج فیصل آباد میں میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ عمران خان مسلسل اپنے منصوبے بدل رہے ہیں کیوں کہ ’انہیں خود یقین نہیں کہ آگے کیا کرنا ہے۔‘

وفاقی وزیرداخلہ نے کہا کہ ’اب وہ (عمران خان) جلسہ کر رہے ہیں جس میں الٹی میٹم دیا جائے گا لیکن وہ خود نہیں جانتے کہ وہ کس بارے الٹی میٹم جاری کریں گے؟ الیکشن کی کال کے لیے؟ لیکن وہ تو چیف الیکشن کمشنر کو ہٹانا چاہتے تھے۔‘

رانا ثنا اللہ نے کہا: ’پہلے چیف الیکشن کمشنر کو ہٹائیں، خیبر پختونخوا اور پنجاب میں اسمبلیاں تحلیل کریں، اپنے اراکین قومی اسمبلی کے استعفے منظور کرائیں اور پھر انتخابات کے بارے میں بات کریں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ جب تک عمران خان یہ سب کچھ نہیں کر لیتے، پی ٹی آئی کا نئے انتخابات کا مطالبہ ایک ’دھوکے‘ کے سوا کچھ نہیں۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنا ہر شخص کا آئینی اور جمہوری حق ہے ’لیکن ہم کسی بھی شخص یا پارٹی کو کسی بھی قیمت پر عوام کو تکلیف پہنچانے کی اجازت نہیں دیں گے۔‘

بلوچستان میں فوجی ہیلی کاپٹر کے حادثے پر سوشل میڈیا پر اشتعال انگیز مہم کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ ملک کے تحفظ میں فوج کا کردار قابل احترام تھا لیکن پی ٹی آئی کی منفی سیاست نے قومی اداروں کو بھی نہیں بخشا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا کہ ’آج میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ 22 کروڑ پاکستانیوں میں آپ کو ایک بھی ایسا شخص نہیں ملے گا جو فوج سے محبت نہ کرتا ہو یا اس کی قربانیوں کا احترام نہ کرتا ہو۔‘

رانا ثنا اللہ نے عمران خان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’میں مانتا ہوں کہ جو لوگ یہ ٹرینڈز بناتے ہیں وہ گمراہ ہو گئے ہیں اور میں یہ بات کئی بار کہہ چکا ہوں کہ یہ شخص، جو پی ٹی آئی کا سربراہ ہے، قوم کو گمراہ کر رہا ہے اور نوجوانوں کو تقسیم کر رہا ہے۔‘

پی ٹی آئی کے رہنما فواد چوہدری اپنی نیوز کانفرنس میں سوشل میڈیا پر ہیلی کاپٹر حادثے کے بعد فوج مخالف ٹرینڈ چلائے جانے کی مذمت کر چکے ہیں جبکہ صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی بھی ان ٹرینڈز کی مذمت کر چکے ہیں۔

وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے خبردار کیا کہ اگر آج پی ٹی آئی چیئرمین کو مسترد نہ کیا گیا تو وہ ’قوم کو ایسی ناخوشگوار صورت حال کی جانب دھکیل دیں گے جو ہم میں سے کوئی بھی دیکھنا نہیں چاہتا۔‘

وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ ممنوعہ فنڈنگ کیس میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کے فیصلے نے ثابت کیا ہے کہ عمران خان ایک ’غیر ملکی ایجنٹ‘ تھا جو ملک میں ’افراتفری اور انتشار‘ پھیلانے کا ذمہ دار ہے۔

رانا ثنا اللہ کا کا کہنا تھا کہ ’قوم کو گمراہ کرنے والے تمام ذمہ داروں کو سزا دی جائے گی۔ ہم نے وفاقی تحقیقاتی ادارے کی دو کمیٹیاں تشکیل دی ہیں جن میں سے ایک فوج کے خلاف نفرت انگیز تبصروں کے خلاف تحقیقات شروع کرے گی اور دوسری غیر ملکی فنڈنگ کی تحقیقات کرے گی۔

’میں آج آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ انکوائری میں نامزد ہر فرد کے خلاف مقدمہ درج کر کے گرفتار کیا جائے گا۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست