قطر فٹ بال ورلڈ کپ کی الٹی گنتی جاری

بہت سے لوگوں کا دعویٰ تھا کہ یہ کبھی نہیں ہوگا، لیکن مشرق وسطیٰ میں پہلی بار ہونے والے اس ٹورنامنٹ کو آخر کس نظر سے دیکھا جائے گا، یہ جاننے کے لیے ہمارے پاس تقریباً 100 دن باقی ہیں۔

چھ جولائی 2022 کو لی گئی ایک تصویر میں قطر کے دارالحکومت دوحہ میں فٹ بال ورلڈ کپ کے لیے مخصوص الجنوب سٹیڈیم کو دیکھا جاسکتا ہے (فوٹو: اے ایف پی)

البدا ٹاور جہاں قطر فٹ بال ورلڈ کپ کے منتظمین قیام پذیر ہیں، وسطی دوحہ میں ساحل سمندر کے سامنے واقع ہے۔ یہ عمارت شہر کی ان جدید عمارتوں میں شامل ہے، جسے بیرونی جانب سے چمکدار شیشوں سے آراستہ کیا گیا ہے۔

عمارت کی لابی میں ایک گھڑی (کلاک) نصب ہے (یا کم از کم آخری بار جب میں وہاں گیا تو کلاک لگی ہوئی تھی)۔ یہ گھڑی فیفا ورلڈ کپ 2022 شروع ہونے تک دنوں کی گنتی کر رہی ہے۔ اس وقت یہ گھڑی عام طور پر مستقبل میں اتنی دور کی تاریخیں ظاہر کر رہی تھی کہ ایسا لگتا تھا کہ یہ ٹورنامنٹ شاید ہی کبھی ہو۔

لیکن اس ہفتے کے دن سے، اگر گھڑی اب بھی وہیں ہو تو قطر فٹ بال ورلڈ کپ شروع ہونے میں صرف 100 دن باقی رہ جائیں گے۔

بالآخر ٹورنامنٹ کی تاریخ کا سب سے زیادہ متنازع ایونٹ واقعی ہمارے قریب آن پہنچا ہے۔ بہت سے لوگوں کا دعویٰ تھا کہ یہ کبھی نہیں ہوگا، لیکن جتنے یقینی انداز میں انگلینڈ کو متوجہ کیا جا رہا ہے، اس سے لگتا ہے کہ یہ واقعی منعقد ہوگا۔

بدعنوانی، محنت کشوں کے حقوق، کارکنوں کی اموات کے دعوؤں، ہم جنس پرستوں، خواجہ سراؤں اور اس نوع کے دوسرے مسائل، ورلڈ کو پہلی بار نومبر اور دسمبر میں لے جانا، بائیکاٹ کی باتیں اور سفارتی بحرانوں کے 12 سال بعد اور بڑے اخراجات کے پیش نظر یہ ٹورنامنٹ کھیلوں کی تاریخ کا سب مہنگا ایونٹ ہو سکتا ہے، لیکن حقیقی فٹ بال کا آغاز ہونے کو ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بلاشبہ اس تمام صورت حال کا مطلب یہ ہے کہ اب تک بحث کی سطح جو بھی رہی ہو، اگلے 100 دنوں میں اس میں مزید شدت آئے گی۔ تیار ہو جائیں۔

لیکن قطر ورلڈ کپ کے بارے میں تمام جانے پہچانے سوالات اور دعوؤں سے قطع نظر، اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ آخر کار اس بات کا جواب مل جائے گا کہ ایک شہر کی انتظامیہ کھیلوں کے اس طرح کے بڑے ایونٹ کی میزبانی کرنے کی کس قدر قابل ہو گی۔

ہر چیز کو خوبصورتی کے ساتھ تیار کیا جائے گا اور قطر بلاشبہ ان لوگوں کو متاثر کرے گا جو پہلی بار وہاں آ رہے ہیں۔ لیکن اس وقت تک جس سوال کا جواب نہیں دیا جاسکتا وہ یہ ہے کہ تقریباً 27 لاکھ آبادی والے ایک چھوٹے سے ملک میں کاروباری زندگی کیسے چلے گی، جب مزید 15 لاکھ افراد اکٹھے وہاں وہاں پہنچ جائیں گے۔ ان لوگوں میں سے زیادہ تر دوحہ میں ہوں گے۔

قطر نے ورلڈ کپ کی میزبانی کے لیے مختلف مقامات کے درمیان قربت پیدا کی ہے۔ آٹھ سٹیڈیمز میں سے کسی بھی سٹیڈیم کے درمیان سب سے زیادہ فاصلہ تقریباً 42 میل ہے۔

قطر کے بارے میں ہونے والی بحث کا زیادہ تر حصہ کہیں زیادہ سنجیدہ معاملات پر مرکوز رہا ہے لیکن ایسے وقت میں کہ جب ٹورنامنٹ کا آغاز ہمارے قریب آ رہا ہے یہ خلیجی ریاست کس طرح صورت حال سے نمٹ سکتی ہے، اس حوالے سے تقریباً چار ہفتے اہمیت کے حامل ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں پہلی بار ہونے والے ٹورنامنٹ کو آخر کس نظر سے دیکھا جائے گا۔

یہ جاننے کے لیے ہمارے پاس تقریباً 100 دن باقی ہیں۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ