گلوبل وارمنگ کی وارننگ

لگتا یوں ہے جیسے دنیا کے کبوتر نے پگھلتے گلیشیئرز کی بلی کو دیکھ کر آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔

 31 اگست، 2022 کو بلوچستان کے سیلاب زدہ ضلع جعفر آباد میں ایک بچہ چارپائی کے سایے میں بیٹھا ہے (اے ایف پی)

یہ تحریر آپ یہاں مصنف کی آواز میں سن بھی سکتے ہیں۔


کہا جا رہا ہے کہ پاکستان اس وقت گلوبل وارمنگ کا ’گراؤنڈ زیرو‘ ہے اور یہ بات کسی اور نے نہیں پاکستان میں ماحولیاتی تبدیلی کی وفاقی وزیر محترمہ شیری رحمان نے کہی بلکہ دہرائی ہے۔

ستمبر کے مہینے میں 11 تاریخ کا سانحہ یاد کرنا اور بدلتے ہوئے ماحول کی تباہ کاریوں کی وارننگ دیتے ہوئے نائن زیرو کا حوالہ دینا کچھ ایسا غلط بھی نہیں۔

’ہماری دنیا اس وقت گراؤنڈ زیرو پہ جی رہی ہے۔‘ یہ بات سیاسی تجزیہ کار ایان بریمر اور اکانومسٹ نوریل روبینی دس بارہ سال پہلے اپنی کتاب میں لکھ گئے ہیں کہ ہم اب ’جی زیرو‘ دنیا میں جی رہے ہیں۔

لیکن لگتا یوں ہے جیسے دنیا کے کبوتر نے پگھلتے گلیشیئرز کی بلی کو دیکھ کر آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔

پاکستان میں حالیہ بارشوں اور سیلابی ریلوں سے ہونے والی تباہی دنیا بھر کے لیے لمحہ فکریہ ہونی چاہیے اور اگر ابھی تک نہیں ہوئی تو سیکریٹری جنرل اقوامِ متحدہ انتونیو گوتریس کے ان بیانات کے بعد تو دنیا کو فکر ہی فکر لاحق ہو جانی چاہیے جو انہوں نے پاکستان کے ایک تہائی ڈوبے ہوئے علاقوں کا طائرانہ دورہ کرنے کے بعد جاری کیے۔

انہوں نے کہا کہ اس تباہی کا گلوبل وارمنگ سے براہ راست تعلق ہے جس کی وجہ سے صدیوں سے ایستادہ پہاڑوں پر جمی برف پگھل رہی ہے اور اس پگھلاؤ کے ذمے دار جی۔ ایٹ ممالک ہیں کیونکہ فضا کو آلودہ کرنے والی کاربن کے اخراج کا 80 فیصد حصہ انہی بڑے ممالک کی صنعتوں سے جُڑے دھویں کے طفیل پیدا ہوتا ہے جبکہ اس میں پاکستان کا حصہ ایک فی صد سے بھی کم ہے۔

چلو صنعت کاری کے فقدان کا کوئی فائدہ تو ہوا۔ یہ وہی دھواں دار آلودگی ہے جس نے اوزون کی قدرتی حفاظتی تہہ کو اتنا نقصان پہنچایا ہے کہ دنیا بھر کو آگاہی دینے کی خاطر 16 ستمبر کو اوزون ڈے قرار دیا گیا ہے۔

سچ کہیں تو جی- ایٹ، جی وارمنگ اور جی زیرو کے درمیان گھرے ہوئے ہم پاکستانی، جی حضوری کے علاوہ کر بھی کیا سکتے ہیں کہ پانی ہمارے سروں سے گزر چکا ہے۔

لیکن باقی بظاہر ابھی تک محفوظ دنیا کے لیے بھی، جہاں پانی ابھی تک ان کی ناک سے نیچے ہے، گلوبل وارمنگ کی وارننگ کب سے جاری ہو چکی۔

پُرتگال سے تعلق رکھنے والے سوشلسٹ نظریات کے مالک سابق وزیر اعظم انتونیو گوتریس ایک درد مند دل اور حساس طبیعت رکھتے ہیں۔

اپنے سیدھے سبھاؤ اور بے خوف تجزیہ کاری نے انہیں لگی لپٹی رکھے بغیر یہ سب کہنے کا موقع دیا کہ انڈسٹریلائزیشن کی بدولت دنیا بھر کے طاقت ور ممالک کا گروہ جی۔ ایٹ کے زیرِ تسلط کاروباری صنعتوں سے کاربن کا اخراج گلوبل وارمنگ کا سب سے بڑا سبب ہے۔

جی۔ ایٹ کے نیوکلیئس میں آٹھ بڑے ممالک امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی، کینیڈا، اٹلی اور جاپان شامل ہیں جبکہ آٹھواں رکن روس، یوکرین سے جنگ کے باعث فی الحال مرکزے سے باہر ہے۔

لیکن اس سے زہریلی گیسوں کی پیداوار میں اس کا جُرم کم نہیں ہو جاتا۔ یورپی یونین بھی ایک فورم کی صورت میں اس گروپ کا حصہ ہے اور سب جانتے ہیں کہ یورپی یونین 28 ملکوں پر مشتمل ہے۔

ان کے علاوہ وہ ممالک جنہیں BRICS کے نام سے بھی جانا جاتا ہے ان میں برازیل، روس، انڈیا، چائنا اور ساؤتھ افریقہ شامل ہیں۔

یہ ممالک اس صنعتی طاقت کے نیوکلیئس سے باہر لیکن دائرے کے اندر ہیں۔

باقی تیسری یا چوتھی دنیاؤں کو پاکستان سمیت دائرے سے باہر رکھا گیا ہے لیکن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے زہریلے اثرات سب سے پہلے ہم پاکستانیوں پر نازل ہوئے ہیں کہ ہم پگھلتے ہوئے گلیشیئرز کے راستے میں بیٹھے ہیں۔

لگتا ہے کہ پاکستان کے وزیرِ خارجہ بلاول بھٹو نے انتونیو گوتریس کے توسط سے دنیا کو کم از کم یہ پیغام دینے میں کامیابی حاصل کر لی ہے کہ بقولِ احمد فراز؛

میں آج زد پہ اگر ہُوں تو خوش گُمان نہ ہو
چراغ سب کے بجھیں گے، ہوا کسی کی نہیں

تیز ہوا چراغ بجھانے میں جتنی بدلحاظ ہے پانی کی اونچی لہر بھی زندگی ڈبونے میں اتنی ہی ظالم ہے۔

کُرّہَ زمین کے گرد قدرتی حفاظتی حصار جسے ہم اوزون کے نام سے جانتے ہیں وہ لاکھوں بلکہ کروڑوں سال کے ارتقائی سفر کا نتیجہ ہے۔

ٹرائی آکسیجن یعنی آکسیجن کے تین مالیکیولوں سے بنا یہ ہلکے پیلے رنگ کا حصار ہمارے سیّارے کا ازلی محافظ ہے۔

لیکن انسان نے کمرشل ازم کے ہاتھوں اندھا دُھند صنعت سازی کے ذریعے نقصان دہ گیسیں پیدا کر کے اس اوزون میں بھی چھید کر دیے ہیں جسے دھرتی ماں نے ہمیں کائناتی تابکاری سے محفوظ رکھنے کے لیے چادر کی طرح تان رکھا ہے۔

 بقولِ شاعر

آلودگی نے کر دیے ہیں چھید جا بجا
کیا حال اے زمیں! تری چادر کا ہو گیا!

زمین پر قدرتی جنگلات کی بے رحمانہ کٹائی اور انتہائی نقصان دہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کی بڑھتی مقدار کی بدولت زمین کی سطح کا اوسط درجہ حرارت پچھلے سو سال میں ایک ڈگری سینٹی گریڈ بڑھ چُکا ہے۔

اگر اسی رفتار سے حدت بڑھتی رہی تو 2050 تک یہ درجہ حرارت ڈیڑھ درجہ سینٹی گریڈ مزید بڑھ چُکا ہو گا۔

بڑھتی ہوئی آبادی کا مسئلہ بھی اسی کمرشل ازم سے جُڑا ہے جس پر کم از کم غریب ممالک تو کان دھرنے کو تیار نہیں۔

مجموعی حدت سے گلیشیئرز تیزی سے پگھلنے کے باعث سمندروں کی سطح بلند ہو رہی ہے اور گرم بھی جس سے سمندر پھیل رہے ہیں اور اپنا علاقہ واپس لینے کی کوشش میں ہیں۔

دبئی، جکارتہ، میلبورن اور کراچی سب اس کی لسٹ میں ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تیزی سے بدلتے ہوئے موسمی حالات کو کچھ زیرک نگاہوں نے (HARP) سے بھی منسلک کیا لیکن بظاہر کسی کے پاس اس کا کوئی ثبوت نہیں۔

تجسس رکھنے والوں کی لیے بتائے دیتے ہیں کہ یہ امریکی فوج کی فضائی مطالعے کی سائنسی کوشش ہے جس کا پُورا نام ( High Frequency Active Auroral Research Program) ہے۔

اس لیے اے ذہین انسانو ’مصنوعی ذہانت‘ تخلیق کرتے ہوئے دھرتی کے قدرتی نظام سے چھیڑ خانی کم کرو ورنہ بڑھتی ہوئی تمازت سے جب گلیشیئر پگھلیں گے تو پہاڑوں، وادیوں، میدانوں، دریاؤں سے ہوتے ہوئے سمندر میں گریں گے اور اپنے قریب ترین علاقوں کو نگلتے جائیں گے۔

تب سیاحوں کی جنت، بارہ سو جزیروں کا حسین ملک مالدیپ رہے گا نہ دنیا کا وہ آخری کونا جہاں شیر روتے ہیں۔

‘Many a mecha has gone to the end of the world ... never to come back! That is why they call the end of the world’MAN-Hattan’… the lost city in the sea, Where the lions weep.’

 

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ