انڈیا کا شہر پوری جہاں ’ہر قدم پر مندر‘ ہیں

ریاست اڈیشہ کے مشرقی ساحلی خطے پر واقع شہر پوری روحانیت کے دارالحکومت کے طور پر بھی مشہور ہے۔

 ہندو مذہب میں اس شہر کو ایک تیرتھ استھان یعنی زیارت گاہ کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ایک ہندو اپنی زندگی میں اس شہر کو کم از کم ایک بار ضرور دیکھنا چاہے گا (تصویر: سہیل اختر قاسمی)

انڈیا میں کچھ شہر ایسے ہیں جہاں مندروں کا جال بچھا ہوا ہے۔ ان ہی میں سے ایک ریاست اڈیشہ کا شہر پوری بھی ہے، جہاں قدم قدم پر مندر مل جاتے ہیں

اس شہر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہاں بر و بحر غرض ہر جگہ مندر ہیں۔

اڈیشہ کے مشرقی ساحلی خطے پر واقع پوری روحانیت کے دارالحکومت کے طور پر بھی مشہور ہے۔ اس کے کئی نام ہیں جیسے جگناتھ پوری، نیلا چلا، نیلا گری، نیلا دری، پروشوتم کھیترا وغیرہ وغیرہ۔

 ہندو مذہب میں اس شہر کو ایک تیرتھ استھان یعنی زیارت گاہ کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ایک ہندو اپنی زندگی میں اس شہر کو کم از کم ایک بار ضرور دیکھنا چاہے گا۔

 مورخین کے مطابق آٹھویں عیسوی میں شنکر اچاریہ نے یہاں اپنے قدم رکھے اور کئی مٹھ (روحانیت کے مراکز) قائم کیے۔ ان مٹھوں کے ساتھ یہاں مندر بھی بنائے گئے۔ اس شہر کی مذہبی حیثیت تب سے ہے جب سے یہاں جگناتھ دیوتا براجمان ہیں۔

پوری شہر انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی سے تقریباً 1900 کلومیٹر دور ہے۔ اگر کسی کی زبان پر اس شہر کا نام آجائے تو لوگ زبان چومنے لگتے ہیں۔

چونکہ یہ شہر دہلی سے کافی فاصلے پر ہے، جس کی وجہ سے ہندو عقیدت مند بڑی تعداد میں یہاں نہیں جا پاتے، جبکہ بنارس اور اجین جیسے مذہبی شہروں میں عقیدت مندوں کا تانتا لگا رہتا ہے۔

جگ ناتھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ہرے کرشن ست پتی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’پوری میں کافی مندر ہیں۔ اسے مندروں کی نگری کہا جاتا ہے۔ اصل مندر تو جگ ناتھ مندر ہوگیا۔ اس کے بعد جہاں جگ ناتھ پیدا ہوئے، وہ گنڈیچہ مندر۔ پوری میں جنگ ناتھ مندر ہے، شیو جی کا مندر بھی ہے، لوک ناتھ مندر بھی ہے۔ یہ مندروں کا شہر ہے، یہاں تقریباً 400 یا 500 مندر ملیں گے۔‘

انہوں نے مزید بتایا: ’یہاں ہر مٹھ میں، جس کی تعداد تقریباً 600 یا 700 ہے، میں چھوٹے مندر ملیں گے۔ شنکر اچاریہ ڈھائی ہزار سال پہلے آئے تھے تو انہوں نے مٹھ کی تعمیر کی۔ اس کو گوردھن مٹھ کہتے ہیں، اس کے احاطہ میں دو تین مندر ملیں گے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

چونکہ پوری شہر کا ایک طولانی حصہ سمندر سے گھرا ہے، جبکہ دوسری طرف ایک نمکین جھیل ہے، جو کہ تقریباً 65 کلومیٹر سے زیادہ علاقے پر محیط ہے۔ اس کے وسط میں کئی مندر ہیں، جن میں سب سے مشہور کالی جائی مندر ہے۔ یہ بھی پوری کا سب سے محترم مندر مانا جاتا ہے۔

کالی جائی مندر کے پجاری دھرمیندر پردھان بتاتے ہیں کہ ’کالی جائی پانی کے بیچ میں ہے۔ یہ پانی سمندری پانی ہے، یہاں طوفان آتا ہے۔ اس مندر کی ایک کہانی ہے۔ دراصل جائی نام کی ایک لڑکی تھی، جس کی شادی کے لیے لوگ پانی پوت گاؤں جارہے تھے، اس وقت طوفان آیا اور کشتی ڈوب گئی۔ اس وقت کالی ماتا یہاں پرکٹ یعنی ظاہر ہوئی اور پھر وہ کالی جائی بن گئی۔ جس کے نام پر پانی پوت کے گاؤں کے راجا نے یہاں پر 1770 میں پہلا مندر بنایا پھر 1836 میں یہ مندر دوبارہ تعمیر ہوا۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ زیادہ تر کالی مندروں میں جانوروں کی قربانی دی جاتی ہے، جسے بلی کہتے ہیں مگر یہاں مچھلیاں بھوگ میں دی جاتی ہیں۔

پجاری نے بتایا کہ ’یہ مندر پانی کے بیچ ہے، جو کہ چیلیکا جھیل کے وسط میں ہے۔ یہاں کئی مرتبہ طوفان آیا مگر مندر کو نقصان نہیں پہنچا، ایسا ہمارا یقین ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا