ملکہ الزبتھ کی شاہی اعزاز کے ساتھ ونڈسر محل میں تدفین

طویل ترین عرصے تک برطانیہ کی ملکہ رہنے والی ملکہ الزبتھ کی تدفین مغربی لندن کے ونڈسر محل میں کر دی گئی۔

19 ستمبر، 2022 کی اس تصویر میں ملکہ الزبتھ دوم کی آخری رسومات کا ایک منظر(اے ایف پی)

طویل ترین عرصے تک برطانیہ کی ملکہ رہنے والی ملکہ الزبتھ کی تدفین مغربی لندن کے ونڈسر محل میں کر دی گئی۔

برطانیہ میں آج غم و اندوہ اور سوگ کے جذبات کی لہر کے دوران ملکہ برطانیہ کی یادوں اور ان کی وراثت کو خراج تحسین پیش کیا گیا جس کے بعد انہیں ان کے والدین اور قریبی عزیزوں کی قبروں کے قریب دفنا دیا گیا۔

وزیراعظم پاکستان کی شاہ چارلس سے ملاقات

وزیراعظم شہباز شریف نے اتوار کو لندن میں برطانیہ کے بادشاہ چارلس سوم سے ملاقات کی اور ملکہ الزبتھ کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا۔

پرائم منسٹر آفس سے جاری بیان کے مطابق برطانیہ کے بادشاہ چارلس کے استقبالیے میں وزیراعظم شہباز شریف کی چارلس سوم سے ملاقات ہوئی۔ چارلس سوم نے یہ استقبالیہ دنیا بھر سے آنے والے رہنماؤں کی میزبانی کے لیے دیا تھا۔

اس موقعے پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آنجہانی ملکہ نے دولت مشترکہ ممالک کے شہریوں کے لیے متاثر کن شخصیت کا کردار ادا کیا اور ان کی مضبوطی کی وجہ بنیں۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے آنجہانی ملکہ الزبتھ دوئم کیلئے چرچ ہائوس میں تعزیتی کتاب میں اپنے تاثرات بھی درج کیے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان کے لوگوں کے دل میں ملکہ الزبتھ کی اچھی یادیں ہیں جنہوں نے دوبار پاکستان کا دورہ کیا۔

ملکہ کی آخری رسومات

برطانیہ اور دنیا نے سوموار کو سرکاری طور پر ادا کی جانے والی آخری رسومات میں ملکہ الزبتھ دوم کو آخری بار الوداع کہا۔

اس موقعے پر کئی ملکوں کے صدور، بادشاہ، شہزادے، وزرائے اعظم موجود تھے۔ لندن کی سڑکوں پر موجود بڑی تعداد میں عوام  ایسی فرمانروا کے اعزاز میں جمع ہوئے جن کے 70 سالہ دور حکومت کو امتیاز حاصل ہے۔

سابق برطانوی وزیر اعظم ونسٹن چرچل کے بعد یہ ریاستی سطح پر پہلی آخری رسومات تھیں جن میں لوگ بڑی تعداد میں موجود تھے۔ سروس سے پہلے، ملکہ الزبتھ کی زندگی کے ہر سال کے لیے 96 مرتبہ گھنٹی بجائی گئی۔

 اس کے بعد رائل نیوی کے 142 سیلرز مخصوص گاڑی کو رسیوں کی مدد سے کھینچ کر ویسٹ منسٹر ایبی لے گئے۔

اس کیرج پر ملکہ کا برطانوی پرچم میں لپٹا تابوت رکھا ہوا تھا۔ بعد میں تابوت کو گرجا گھر کے اندر لے جایا گیا جہاں عالمی رہنماؤں سے لے کر محکمہ صحت کے کارکنوں تک دو ہزار کے لگ بھگ افراد ملکہ کی موت کے سوگ میں جمع تھے۔

اس موقعے پر ریاستی اور شاہی شان وشوکت کے لوازمات بکثرت دیکھے گئے۔ ملکہ کے تابوت کو قومی پرچم میں لپیٹا گیا۔

تابوت پر ریاستی شاہی تاج رکھا ہوا تھا جس پر جگ مگ کرتے تقریباً تین ہزار ہیرے لگے ہوئے تھے۔ اس کے ساتھ ہی ملکہ کے اقتدار کی علامت چھڑی بھی موجود تھے۔ ان کے ذاتی استعمال کی اشیا بھی رکھی گئی تھیں۔

ملکہ الزبتھ کے پوتے پوتیاں تابوت کے ساتھ گرجا گھر میں داخل ہوئے جن میں بادشاہ چارلس، تخت کے وارث شہزادہ ولیم اور نو سالہ جارج شامل تھے جو فہرست میں دوسرے نمبر پر ہیں۔

 تابوت کے اوپر پھولوں کی چادر پر ہاتھ سے لکھی ہوئی تحریر رکھی تھی جس پر لکھا تھا ’پیاری اور پرخلوص یاد کے ساتھ‘ اس تحریر پر چارلس آر کے نام سے دستخط تھے۔ آر سے مراد ریکس یا کنگ۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

آخری رسومات کے آغاز پر قرون وسطیٰ کی ایبی کے ڈین ڈیوڈ ہوئل نے سوگواروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ’یہاں جہاں ملکہ الزبتھ کی شادی ہوئی اور انہیں تاج پہنایا گیا، ہم پوری قوم، دولت مشترکہ، اوراقوام عالم سے اپنے نقصان پر سوگ منانے، ملکہ کی بے لوث خدمات سے بھری طویل زندگی کو یاد کرنے اور یقین کے ساتھ انہیں اپنے خدا، خالق اور نجات دہندہ کی رحمت کے سپرد کرنے کے لیے جمع ہوئے ہیں۔‘

سروس ختم ہونے سے پہلے پورے برطانیہ میں دو منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی جس کے بعد شرکا نے قومی ترانہ گایا جس اب عنوان تھا کہ ’خدا بادشاہ کو محفوظ رکھے۔‘ 

اس دن کا آغاز اس وقت ہوا جب پارلیمنٹ کے 900 سال پرانے ویسٹ منسٹر ہال کے دروازے سوگواروں کے لیے بند کر دیے گئے۔ اس سے پہلے لاکھوں افراد اس کے تابوت کے سامنے قطار کی شکل میں جمع ہوئے۔

آٹھ ستمبر کو انتقال کرنے والی ملکہ کے اعزاز میں برطانیہ میں پیر کو عام تعطیل تھی۔ لاکھوں لوگ اس تاریخی لمحے میں حصہ لینے کے لیے وسطی لندن میں پہنچے۔

سروس کے بعد تابوت کو دارالحکومت کی سڑکوں سے گزرتے ہوئے دیکھنے کے لیے فٹ پاتھ لوگوں سے بھر گئے۔ جیسے ہی جلوس شہر میں ملکہ کی سرکاری رہائش گاہ بکنگھم پیلس سے گزرا، بعض لوگوں نے احتراماً سر جھکا دیے۔

لندن سے ونڈسر جانے والے راستے پر زیادہ لوگ قطار بنائے کھڑے رہے جہاں سینٹ جارج چیپل میں سروس کا اہتمام کیا جانا تھا۔

اس محل میں ملکہ نے اپنا زیادہ وقت گزارا تھا۔ جونہی قافلہ وہاں سے گزرا لوگوں نے پھولوں کی پتیاں پھینکیں۔ بعض لوگ تابوت پر جھک اپنی عقیدت کا اظہار کرنے لگے۔

ٹیلی ویژن پر لائیو دکھائی جانے والی آخری رسومات کو بھی لاکھوں لوگوں نے دیکھا۔ اس تقریب کو بڑی سکرینوں پر دیکھنے کے لیے پورے برطانیہ کے پارکوں اورعوامی مقامات پر لوگ جمع ہو گئے۔ یہاں تک کہ گوگل ڈوڈل کو بھی اس دن کے موقعے احترامی سیاہ رنگ دے دیا گیا۔

کینٹربری کے آرچ بشپ جسٹن ویلبی نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ ’چند ہی رہنماؤں کو ایسی محبت ملتی جس کا اظہار ملکہ الزبتھ کے لیے دیکھا گیا۔‘

ملکہ برطانیہ کی آخری رسومات میں امریکی صدر جو بائیڈن، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکروں، تمام زندہ سابق برطانوی وزرائے اعظم اور یورپی شاہی خاندانوں کے لوگوں نے شرکت کی۔

آخری رسومات سے پہلے چارلس سوم نے برطانیہ اور دنیا بھر کے لوگوں کے لیے شکریے کا پیغام جاری کیا جس میں کہا گیا کہ وہ اور ان کی اہلیہ اور مستقبل کی ملکہ کمیلا، ملکہ الزبتھ کو خراج عقیدت پیش کرنے والوں کی اتنی بڑی تعداد دیکھ کرانتہائی متاثر ہوئے ہیں۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا