کیا آپ اب تک غلط طریقے سے گولی کھاتے رہے ہیں؟

ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اگر آپ گولی کھانے کے بعد بائیں طرف جھک کر بیٹھتے ہیں تو گولی کو ہضم ہونے میں 10 گنا زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔

یہ تحقیق ان لوگوں کے لیے مفید ثابت ہو سکتی ہے جنہیں فوری آرام کی ضرورت ہو (ایوانٹو)

جب آپ کوئی گولی کھاتے ہیں تو کیا اس پر توجہ دیتے ہیں کہ اس وقت آپ بیٹھے ہیں، ایک طرف کو جھکے ہوئے ہیں یا اگر لیٹے ہوئے ہیں تو کس کروٹ لیٹے ہیں؟

شاید نہیں۔ لیکن اب امریکہ کی جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے سائنسی جریدے ’فزکس آف فلوئڈز‘ میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں بتایا ہے کہ گولی کھانے کے فوراً بعد آپ کے جسم کی پوزیشن کا گولی کے ہضم ہونے میں گہرا تعلق ہے اور اگر آپ غلط پوزیشن پر بیٹھے یا لیٹے ہیں تو گولی کے ہضم ہونے کا دورانیہ ایک گھنٹے سے زیادہ طویل ہو سکتا ہے۔

ماہرین نے کمپیوٹر پر انسان کے نظامِ انہضام کا ماڈل بنایا اور اس کے بعد یہ جاننے کی کوشش کی کہ گولی کھانے کے بعد کتنی دیر میں جذب ہو کر خون میں شامل ہو جاتی ہے۔

اس ماڈل سے معلوم ہوا کہ اگر آپ تقریباً 45 درجے پر دائیں طرف کو جھکے ہوئے ہیں تو گولی صرف 10 منٹ میں جذب ہو جائے گی، لیکن اگر بائیں طرف جھکے ہوئے ہیں تو اسی گولی کو جسم میں شامل ہونے میں 10 گنا زیادہ وقت یعنی ایک گھنٹہ 40 منٹ لگ سکتے ہیں۔

اس کے مقابلے پر اگر آپ سیدھا بیٹھے ہوئے ہیں تو گولی 23 منٹ میں ہضم ہو گی۔

اس تحقیق کے نتائج ان لوگوں کے لیے اہم ہیں جنہیں مثال کے طور پر شدید درد کی صورت میں فوری آرام درکار ہوتا ہے۔

یہ بات پہلے سے معلوم تھی کہ دوا کے ہضم ہونے کا جسم کی پوزیشن کا ساتھ تعلق ہے مگر یہ تحقیق پہلی بار بتاتی ہے کہ اس کی وجہ کیا ہے۔

ماہرین نے اس فرق کی وجہ یہ بتائی کہ معدہ مختلف پوزیشن اختیار کرنے سے سکڑ یا پھیل جاتا ہے۔

جب انسان دائیں طرف کو جھکتا ہے تو گولی کو معدے سے گزر کر چھوٹی آنت تک فوری پہنچنے میں زیادہ وقت نہیں لگتا کیوں کہ چھوٹی آنت معدے کے بالکل نیچے آ جاتی ہے۔

اس کے برعکس بائیں طرف جھکنے سے معدہ نیچے اور چھوٹی آنت اوپر ہو جاتی ہے جس سے گولی کو کششِ ثقل کے مخالف سمت میں سفر کرنا پڑتا ہے اور اس میں زیادہ وقت لگتا ہے۔

یہ تحقیق زیادہ بیمار لوگوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے جو بستر پر لیٹے ہوئے ہوں اور جن کی حرکت بہت محدود ہو۔

اس کے علاوہ اس تحقیق کا ایک اور فائدہ یہ ہو سکتا ہے کہ اگر کسی نے غلطی سے کوئی زہریلی چیز کھا لی ہے تو اسے بائیں طرف جھک کر بٹھانے سے زہر کے اثرات کو خاصی دیر تک موخر کیا جا سکتا ہے اور اس دوران اسے طبی امداد دی جا سکتی ہے۔

البتہ ماہرین نے واضح کیا ہے کہ یہ تحقیق صرف کمپیوٹر ماڈل پر مبنی ہے اور انسانی نظامِ انہضام میں دوا کے سفر کا دورانیہ مختلف ہو سکتا ہے۔

دوا ہضم کیسے ہوتی ہے؟

اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ دوائیں یا خوراک معدے سے ہضم ہوتی ہے لیکن یہ بات درست نہیں۔

معدے کا کام خوراک کو آپس میں آمیز کرنا، تیزاب کی مدد سے مضر عناصر کو ختم کرنا، اور ہاضمے میں مدد دینے والے اجزا پیدا کرنا ہے۔

اکثر دوائیں یا خوراک معدے سے نہیں بلکہ معدے سے گزر کر چھوٹی آنت تک پہنچتی ہے اور وہیں سے خون کا حصہ بنتی ہے۔

پانی بڑی آنت سے جسم میں شامل ہوتا ہے۔

البتہ اکا دکا ادویات ایسی ہیں جو براہِ راست معدے سے جذب ہو جاتی ہیں، مثال کے طور پر ڈسپرین، اس لیے اس کا اس تحقیق سے تعلق نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی صحت