پاکستانی بیٹنگ کے لیے باؤنسرز خطرے کی گھنٹی؟

پاکستانی بلے باز جس طرح شارٹ پچ بولنگ پر پریشان نظر آئے اس نے آسٹریلیا کی باؤنسی وکٹوں پر بیٹنگ کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔

انگلینڈ نے پاکستان کو تیسرے ٹی ٹوئنٹی میچ میں شکست دے دی (اے ایف پی)

انگلینڈ کے خلاف جیت کو ابھی 24 گھنٹے بھی نہ گزرے تھے کہ انگلش فاسٹ بولرز کے باؤنسرز نے نیشنل سٹیڈیم کراچی کی بیٹنگ وکٹ پر پاکستانی بلے بازوں کو حیرت میں ڈال دیا۔

پاکستانی بلے باز جس طرح شارٹ پچ بولنگ پر پریشان نظر آئے اس نے آسٹریلیا کی باؤنسی وکٹوں پر بیٹنگ کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔

بابر اعظم اور محمد رضوان کے کندھوں پر جس طرح سوار ہو کر پاکستان ٹیم نے سیریز کا دوسرا میچ جیتا تھا بالکل اسی طرح ان دونوں بلے بازوں کے رخصت ہوتے ہی سوائے ایک کے باقی سب نے ہتھیار ڈال دیے۔

مڈل آرڈر میں شان مسعود نے ایک اچھی اننگز کھیل کر شکست کے فرق کو کم تو کر دیا لیکن جیت کی نوید نہ دے سکے۔

کپتان بابر اعظم نے ٹاس جیت کر ایک بہترین بیٹنگ وکٹ پر پہلے بولنگ کا فیصلہ کیا تو حیرت ہوئی۔ بیٹنگ اپنے جوبن پر تھی اور اگر موجودہ فارم کا فائدہ اٹھاتے ہوئے تیسرا میچ وہیں سے شروع کرتے جہاں کل ختم کیا تھا تو نتیجہ بدل سکتا تھا لیکن زیادہ خود اعتمادی لے ڈوبی۔

جیسے پاکستانی بلے بازوں کو انگلش بولرز کی سمجھ نہ آئی، اسی طرح پاکستانی بولرز کو بھی انگلش بلے بازوں کی سمجھ نہ آئی۔

سیریز میں مسلسل عمدہ بیٹنگ کرنے والے ہیری بروک نے تو آخرکار دکھا ہی دیا کہ وہ ورلڈ کپ سکواڈ کا حصہ کیوں ہیں اور وہ بالکل بھی ’بی ٹیم کے کھلاڑی‘ نہیں۔

بین ڈکٹ اور ہیری بروک نے زبردست بیٹنگ کی اور 139 رنز کی شراکت داری سے پاکستان کو بہت پیچھے دھکیل دیا تھا۔

بروک کی طوفانی بیٹنگ کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ صرف 35 گیندوں پر 81 رنز بنا ڈالے۔ بین ڈکٹ نے 70 رنز کی اننگز کھیلی۔ دونوں نے صرف 69 گیندوں پر 139 رنز بنائے۔ اس سے پہلے ڈیبیو پر ول جیک نے 40 رنز کی اننگز کھیلی۔

انگلینڈ نے 20 اوورز میں 221 رنز بنا کر میچ کو پاکستان کے لیے مشکل بنا دیا تھا۔ مگر شائقین گذشتہ روز اسی وکٹ پر 200 چیز ہوتا دیکھ چکے تھے لہذا وہ ایسی ہی امیدیں پھر سے لگائے بیٹھے تھے۔

اور وہ یقیناً یہ سوچ رہے تھے کہ پاکستان کے لیے 222 رنز کا ہدف مشکل تو ہے لیکن بابر کی فارم کے آگے کچھ نہیں۔

مگر انگلینڈ کا گیم پلان آج بالکل الگ ہی تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انگلش بولرز نے اس میچ میں پاکستانی بلے بازوں کو انہی کے ہوم گراؤنڈ پر تیز اور اٹھتی گیندوں سے آزمایا جس میں وہ ناکام رہے۔

بابر اعظم جلد ہی مارک ووڈ کے ایک باؤنسر کو کھیلتے ہوئے کیچ آؤٹ ہوگئے جبکہ رضوان ٹوپلی کی گیند پر بولڈ ہو گئے۔

اور اس طرح باری آئی مڈل آرڈر کی جو کافی عرصہ سے موضوع بحث ہے۔

حیدر علی، شان مسعود، افتخار احمد، خوشدل شاہ اور محمد نواز کے پاس آج موقع، گیندیں اور وقت بھی تھا۔

مگر ان میں سے صرف شان مسعود ہی اس سب سے فائدہ اٹھا سکے۔

حیدر علی ایک بار پھر ناکام رہے اور ایک شارٹ پچ گیند پر گھبرا کر کیچ دے بیٹھے۔ کچھ ایسا ہی افتخار احمد نے بھی کیا۔ مگر پھر شان مسعود اور خوشدل شاہ نے کریز پر کچھ وقت گزارنے کی کوشش کی لیکن پارٹنرشپ زیادہ دیر نہ چل سکی اور خوشدل شاہ 29 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔

شان مسعود واحد بلے باز تھے جو آخر تک اسی پچ پر کھڑے رہے جس پر باقی بلے بازوں سے شاٹ پچ بولنگ سنبھالی نہیں جا رہی تھی۔

انہوں نے 40 گیندوں پر 65 رنز بنائے اور آؤٹ نہیں ہوئے۔ اس طرح ایک روز قبل بنا کوئی وکٹ گنوائے 200 رنز بنانے والی پاکستانی ٹیم 20 اووروں میں آٹھ وکٹوں کے نقصان پر 158 رنز ہی بنا سکی۔

انگلینڈ کی جانب سے ہیری بروک کی شاندار اننگز پر انہیں میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ